کراچی کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔ مصطفی کمال
کہنے کو کراچی سب کاہے لیکن دریا سندھ میں کراچی کے عوام کیلئے پانی میسر نہیں اس سے بڑا کراچی کے عوام کے ساتھ تعصب کیا ہوگا۔ سید مصطفی کمال
کراچی کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔ مصطفی کمال
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال نے کہا کہ عمران خان نے اپنے بیرونی آقاؤں کے کہنے پر ایک بعد ایک جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنا کر پاکستان کے معصوم عوام کو اتنا بہکایا کہ ریاست کے مخالف کھڑا کر دیا اور یہ سب کیوں کیا گیا کوئی ملک کے فائدے کیلئے نہیں بلکہ صرف ایک لالچ کیلئے کہ کسی طرح دوبارہ وزیراعظم بن کر بیرونی آقاؤں کا ادھورا کام مکمل کر دوں اور جب عمران خان نے دیکھ لیا کے اب میرا بیانیہ نہیں بکنے والا تو اپنے کارکنان کو پھنسا کر خود بیچ کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے تحت ڈسٹرکٹ ساؤتھ اور ڈسٹرکٹ ایسٹ میں ہونے والے کارکنان کے جنرل ورکرز اجلاس سے اپنے خطاب میں کیا۔ جنرل ورکرز اجلاس میں ڈپٹی کنوینر انیس احمد قائمخانی, اراکین رابطہ کمیٹی,سی او سی کے ذمہ داران،شعبہ خواتین،ٹاؤنز و یوسی کے ذمہ داران اور کارکنان نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر پر مصطفی کمال نے مزید کہا کہ عمران خان کے ساتھ اس وقت جو ہو رہا ہے یہ انکی جماعت کی پاکستان مخالف پالیسی اور ریاست سے نفرت کا نتیجہ ہے، پی ٹی آئی جس طرح سے پروان چڑھی تھی اس کا سورج بھی اسی طرح سے غروب ہوتا دکھ رہا ہے،عمران خان کو اب اپنے بیرونی آقاؤں کا کہنا ماننا چھوڑ دینا ہوگا اور پاکستان کے عوام سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ایم کیو ایم نے اپنے دور میں کے فور کا منصوبہ شروع کیا تھا جو اس وقت بائیس ارب روپے سے شروع ہوا اور اب دو سو ارب تک پہنچ گیا ہے لیکن ابھی تک مکمل ہوتا نظر نہیں آتا جب حکومت سندھ سے کراچی کے عوام کو پانی کی فراہمی کی بات کرو تو کہتے ہیں وفاق دے گا تو کراچی کو ملے گا، کہنے کو کراچی سب کا کھانے کو کراچی سب کا لیکن دریا سندھ میں کراچی کے عوام کیلئے پانی میسر نہیں اس سے بڑا کراچی کے عوام کے ساتھ تعصب کیا ہوگا۔انکا مزید کہنا تھا کہ جعلی ڈومیسائل بناکر اس شہر کے کوٹے کو بھی چھین رہے ہیں،اس شہر میں ایک نوکری نہیں دی گئی،گھروں میں بجلی نہیں،کھانا پکانے کیلئے گیس نہیں اور دریائے سندھ میں کراچی کیلئے پانی نہیں ہمیں بتایا جائے ہم کہاں جائیں کیا کریں۔
مصطفی کمال نے کارکنان سے کہا کہ تمام کارکنان کے سامنے ہے ہم پہلے دن سے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں مردم شماری میں کراچی اور شہری سندھ کے عوام کو درست شمار نہیں کیا جا رہا ہم نے ہر فورم پر اس ناانصافی کیخلاف اپنی آواز بلند کی ہے، عوام کیلئے بجلی، پانی اور گیس دستیاب نہیں ہے، ہم نے ان مسائل پر ہر فورم پر آواز بلند کی مگر سندھ کی متعصب حکومت کرپشن اور نااہلی سے باز نہ آئ۔ اب مسئلہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء کا ہے اب ہم سندھ کے وڈیرے جاگیرداروں کی غلامی مزید قبول نہیں کریں گے، مردم شماری ہماری ریڈ لائن ہے، اگر ہمیں مردم شماری میں درست شمار نہیں کیا گیا تو ہم سڑکوں پر عوام کی عدالت لگا کر بیٹھیں گے۔
اس موقع پر رکن رابطہ کمیٹی و انچارج سی او سی فرقان اطیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کارکنان کی تعداد دیکھ کر مخالف بوکھلاہٹ کا شکار ہونگے،یہاں کے کارکنان بہادر ہیں یہ نہ بکنے والے ہیں نہ جھکنے والے کارکنان ہیں، یہاں سے بڑے بڑے نام نکلے جن کی قربانیوں سے آج ہم یہاں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام کارکنان تنظیم کے کام کو مزید بہتر انداز میں کریں، یہ تنظیم شہیدوں کی امانت ہے اس کو ہم سب نے مل کر آگے لیکر چلنا ہے اور آنے والے وقت میں جب بھی تنظیم آپ کو پکارے تو تیار رہیں۔