حق پرست اراکین سندھ اسمبلی کا کراچی کے مختلف علاقوں میں پانی کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار
متعصب سندھ حکومت نے پچھلے پندرہ سالوں میں کراچی پانی دینے کا ایک منصوبہ نہیں دیا،حق پرست اراکین سندھ اسمبلی
حق پرست اراکین سندھ اسمبلی کا کراچی کے مختلف علاقوں میں پانی کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے حق پرست اراکین سندھ اسمبلی نے اپنے ایک بیان میں کراچی کے مختلف علاقوں میں پانی کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ المیہ ہے 75 سال گزر جانے کے باوجود پاکستان کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ ریونیو کما کر دینے والے شہر کو پانی جیسی بنیادی سہولیات کیلئے بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے۔
ایک طرف شہری اس گرمی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے پریشان ہیں تو دوسری جانب کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی نااہل انتظامیہ شہریوں کو پانی پہنچانے سے قاصر ہے، کیا ظلم ہے کہ آدھے سے زیادہ کراچی اس مہنگائی کے دور میں پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ سندھ کے حکمرانوں نے من پسند تھیکیداروں کو واٹر ہائیڈرینٹس کے ٹھیکے دے دئیے ہیں، ایک طرف کراچی کا پانی چوری کرتے ہیں پھر وہی پانی کراچی والوں کو ٹینکر مافیا کے ذریعے بیچ کر سالانہ اربوں روپے کماتے ہیں، ٹینکر مافیا لاکھوں روپے رشوت دے کر علاقے بانٹ لیتے ہیں اور گورنمنٹ فیس سے ہٹ کر من مانے داموں میں ٹینکر کا پانی فروخت کرتے ہیں اور دوسری طرف واٹر بورڈ کے افسران جہاں جہاں سے ماہانہ رقم ان کی بندھی ہوئی ہے۔
وہاں کی مخصوص گلیوں کو پانی فراہم کرتے ہیں باقی جو غریب ہیں ان کو پانی فراہم نہیں کرتے اور وہاں کے گلیوں کا وال بند کر دیتے ہیں اور وہ بے چارے دور دراز سے اپنے کندھوں پر پانی رکھ کر لاتے ہیں، ایسا لگتا ہے حکمرانوں سے لیکر نیچے لائن مین تک سب ایک کرپٹ مافیا چلا رہے ہیں۔ حق پرست اراکین اسمبلی نے کہا کہ عوام اپنی درخواستیں لیکر ہمارے دفاتر آرہی ہے ہم کراچی کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے ہر مسئلے کو حل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، اسمبلی میں چیختے رہو لیکن سندھ حکومت کے وزراء چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔
اب پانی سر سے اوپر ہوتا جارہا ہے اور خاص طور پر کراچی میں عوامی سطح پر جو محرومیوں زیادتیوں کا لاوا پک رہا ہے وہ سندھ کے وسائل پر قابض حکمرانوں کے تخت بہا کر لے جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی میں ناجائز اور جعلی عددی کی بنیاد پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت کراچی کو سہولیات فراہم کرنے والے تمام بلدیاتی اداروں پر قابض ہے اور کرپشن مارکیٹ بنادیا ہے۔
متعصب سندھ حکومت نے پچھلے پندرہ سالوں میں کراچی پانی دینے کا ایک منصوبہ نہیں دیا بلکہ ایم کیو ایم کے دور نظامت میں شروع ہونے والے کے فور منصوبے کو کرپشن اور نااہلی کی نظر کردیا ہے،سندھ پر قابض وڈیروں نے آج کے فور منصوبہ کو دو سو ارب پر پہنچا دیا ہے جو ایم کیو ایم نے اپنے دورے نظامت میں بائیس ارب میں شروع کیا تھا۔
حق پرست اراکین سندھ اسمبلی نے وزیراعظم پاکستان اور گورنر سندھ سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے شہریوں کو فراہمئ آب سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔