بلدیہ فیکٹری میں شہید ہونے والے بھی ہمارے تھے اور آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے بھی ہمارے تھے۔ خالد مقبول صدیقی
بلدیہ فیکٹری مقدمے کے فیصلے میں انصاف کا قتل اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ خالد مقبول صدیقی
بلدیہ فیکٹری میں شہید ہونے والے بھی ہمارے تھے اور آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے بھی ہمارے تھے۔ خالد مقبول صدیقی
کراچی : ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پارٹی کے مرکزی الیکشن سیل، پاکستان ہاؤس میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے ہمراہ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 12 سالوں کی تاخیر سے سانحہ بلدیہ فیکٹری کا فیصلہ سنایا گیا جس میں ایم کیو ایم پاکستان کے دو بے گناہ کارکنان کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔
اس واقعے میں چرس کے نشے میں مبتلا شخص کی سنی سنائی بات پر فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت اپنے کارکنان کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ جب عدالتوں اور ریاستی فیصلوں میں لسانی رنگ اور تعصب کی بو آئے تو یہ ملک کیلئے خطرہ ہے۔ بلدیہ فیکٹری میں شہید ہونے والے بھی ہمارے تھے اور آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے بھی ہمارے تھے، معزز عدلیہ دیکھ سکتی ہے ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتی ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری پر عدالتی کمیشن بنایا جائے، پہلی جے آئی ٹی رپورٹ میں اسے حادثہ قرار دیا گیا ہے۔
میزانائن فلور پر سی سی ٹی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا کے اسپارک ہوا، ایم کیو ایم احتساب کیلئے خود کو پیش کر رہی ہے امید کرتے ہیں سانحہ بلدیہ کے ساتھ پی آئی اے اغوا کیس، محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل پر بھی عدالتی کمیشن بنے گا، ایم کیو ایم سانحہ بلدیہ کو ایک حادثہ سمجھتی ہے اگر کوئی مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے تو وہ فیکٹری ملکان ہیں۔ فیکٹری میں انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا کوئی انتظام نہیں تھا، رؤف صدیقی بلدیہ فیکٹری کے مقدمے میں 800 پیشیوں پر حاضری دی ہے، پہلی جے آئی ٹی کے فیصلے کو رد کر کے دوسری جے آئی ٹی کے فیصلوں کو کیوں تسلیم کریں؟ اس فیصلے سے انصاف کا قتل ہوا ہے، یہ پاکستان میں انصاف کا 9/11 ہے۔
اس موقع پر سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ہم اس تمام معاملے پر اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اگر اندیشے پر بات کی گئی تو ہم اس پر قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں اور ایم کیو ایم تمام قانونی راستے اختیار کرے گی۔