Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی کے ساتھ بلدیاتی نظام پر ہاتھ ملا کر سندھ کا سودا کیا ہے۔ علی خورشیدی

ایک عام آدمی سے پوچھیں کہ کرپشن میں پاکستان کی کون سی جماعت یاد آتی ہے تو وہ کہیں گے پیپلزپارٹی۔ علی خورشیدی

0

جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی کے ساتھ بلدیاتی نظام پر ہاتھ ملا کر سندھ کا سودا کیا ہے۔ علی خورشیدی

کراچی : اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی اور ارکان سندھ اسمبلی کے ہمراہ، بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کل نو دسمبر کو پوری دنیا میں عالمی اینٹی کرپشن کا دن منایا جاتا ہے۔ایک عام آدمی سے پوچھیں کہ کرپشن میں پاکستان کی کون سے جماعت یاد آتی ہے تو وہ کہیں گے پیپلزپارٹی۔ صدر نے کل کہا کہ کرپشن ایک ناسور ہے اور اسکے خاتمے کے لیے احتساب ضروری ہے۔16 سال سے سندھ میں پیپلزپارٹی حکمرانی کررہی ہے لیکن یہاں کوئی بھی شعبہ دیکھ لیں تو ہر محکمہ میں کرپشن اور بدعنوانی ہے۔

صوبہ سندھ میں کرپشن کو سند کا درجہ دے دیا گیا ہے۔میرے خیال سے اب یہان کرپشن کو نوٹیفائے بھی کردیں۔پیپلزپارٹی کو اپنی گورننس ٹھیک کرنی ہوگی۔وفاق کی جانب سے کراچی اور حیدرآباد کے لیے 15 ارب روپے مہینہ ختم ہونے تک اجائیں گے۔ پی اے سی میں بقول پیپلزپارٹی بڑا اچھا کام کررہی یے۔ موجودہ چیئرمین پی اے سی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو نہیں بلا سکتے اجلاس میں ہر محکمے مین بدعنوانی اور جعلی بھرتیاں ہیں۔سندھ مین اینٹی کرپشن کے محکمے کا کام خود کرپشن کرنا ہے۔ یہ سارا کام 16 سال سے جاری ہے۔ مراد علی شاہ صاحب سارا کام آپ کی ناک کے نیچے ہورہا ہے ،پھر ہمارے زہن میں بات آتی ہے کہ یہ وزیراعلیٰ کی اشروات سے ہورہا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو انکے خلاف کاروائی کریں۔ یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔

سندھ میں جب کرپشن کرنا ہوتی تو اسکیمیں دے دی جاتی ہیں ۔یہان الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ان کی بہترین گورننس یونیورسٹی روڈ پر عیاں ہوگئی ہے، یہ لیکجز کئی روز سے نہیں بنوا سکے،آنے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اس حوالے سے احتجاج کریں گے۔ سینیئر وزیر کابینہ کو کہتے ہیں کہ ورلڈ بینک کہتا ہے کہ یہان 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی 16 سال میں 1600 بسیں بھی کراچی نہیں لا سکی۔ پیپلزپارٹی صدر پاکستان کی سننے کو تیار نہیں، یہان لاء اینڈ ارڈر کی صورتحال سب کے سامنے ہے،کچرا تک نہیں اٹھواتے لیکن ٹیکسز ضرور لگاتے ہیں ،ہم ان تمام معاملات پر اسمبلی کے اندر اور باہر احتجاج کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ بلدیاتی مسودہ ایم کیو ایم کا قومی اسمبلی مین پیش کیا جاچکا ہے،1200 لوگوں سے اختیار لیکر ایم کیو ایم 12 لاکھ لوگوں کو با اختیار کرنا چاہتی ہے۔جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی کے ساتھ بلدیاتی نظام پر ہاتھ ملا کر سندھ کا سودا کیا ہے۔

اس موقع پر رُکن سندھ اسمبلی عبدالوسیم، افتخار عالم، فوزیہ حمید، نجم مرزا و دیگر ارکان بھی موجودتھے۔

Comments
Loading...