ہمارے بغیر اب نہ نظام چلے گا، نہ سیاست چلے گی، نہ جمہوریت چلے گی. ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ایم کیوایم کوختم کرنے والے آج کہنے پر مجبور ہیں کہ ایم کیوایم کے سبب کراچی میں امن قائم ہے. سید امین الحق
ہمارے بغیر اب نہ نظام چلے گا، نہ سیاست چلے گی، نہ جمہوریت چلے گی. ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اورنگی کو جس نے ہلکا لیا وہ ہمیشہ پچھتایا ہےاورنگی کے رہنے والوں نے نظریہ پاکستان کے وجود کے لیے اپنی جانیں دی۔ ،دو ہزار تئیس سے آگے متحدہ کی تاریخ اپنے نئے سفر کا آغاز کرنے جارہی ہے جنھوں نے تئیس مارچ انیس سو چالیس کو پاکستان بنانے کا ارادہ کیا تھا انکی اولادوں کو اٹھارہ مارچ انیس سو چوراسی کو پاکستان بچانے کا وعدہ کیوں کرنا پڑا۔
ایک نئی جماعت ، شناخت کے ساتھ کن حالات نے ہمیں نکلنے پر مجبور کیا ہماری قوم نے کچھ ایسا نہیں کیا کہ کوئی ہم سے حب الوطنی کا سوال کرے لیاقت آباد جو حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ چھاپے گا اور جو اورنگی بانٹے گا وہی حب الوطن کہلائے گا آج کا پاکستان بہتر ہے یا پھر ستر سے پہلے کا پاکستان بہتر تھا ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ایسں119,121 این اے 245,246کے مرکزی الیکشن آفس یوسی 28 اورنگی ٹاؤن میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر این اے 245 کے حق پرست نامزد امیدوار سید حفیظ الدین بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ آج کا کراچی کون سا کراچی ہےکل کا پاکستان قائد اعظم کا پاکستان تھا آج کا پاکستان بھٹو کا پاکستان ہے آج سے پندرہ سال پہلے کا کراچی بہتر تھا یا آج کا کراچی بہتر ہے جاگیردارانہ نظام نے اس ملک کو تباہ کر دیا ہےقائد اعظم یہ سوچتے ہوں گے سوال کرتے ہوں گے میں ایسا پاکستان دیکر گیا تھا جس نے ہندوستان کو تینوں اطراف سے گھیر رکھا تھا ،مشرقی پاکستان کے اندر ریڈ کراس میں بھوک سے سسکتے ہوئے بچوں کی آواز ہے بانیان پاکستان کی مرضی کے بغیر نہ پاکستان چل سکتا ہے نہ بچ سکتا ہے انہوں نے کہا کہ اورنگی ٹاؤن والوں کو دہرا تجربہ ہے ہجرت کرنے کا ،ہم بڑے خوش نصیب تھے ہمیں آزادی ملی ہےہم بڑے بد نصیب ہیں ہم نے آزادی کی قدر نہیں کی جو لوگ دنیا کے بہترین غلام تھے ان کو انعام کے طور پر پاکستان دیدیا گیا ،2002 سے 2008 تک کا وقت ہم نے بہت بری طرح گزارا ہے پاکستان بنایا تھا بچایا ہے اور چلا کر بھی دکھائیں گے۔
پیپلزپارٹی اپنی تاریخ کی آخری اننگ کھیلنے جا رہی ہے ،پیپلز پارٹی سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی ہے کوئی اس سے ملنا نہیں چاہتا آپ کو سیاسی طور پر تنہا کرنے والے خود تنہا ہو گئے ہیں،دھوکہ ، جھوٹ ، فریب اور کرپشن کے علاؤہ پی پی کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں آج ان سے کوئی بات کرنے ، ملنے کو تیار نہیں ہمیں سیاسی طور پر تنہا کرنے والے خود تنہا ہوگئے ہیں آئندہ چند دنوں میں سیاسی جماعتیں ہمارے دروازے پر آئیں گی ہمارے بغیر اب نہ نظام چلے گا ، نہ سیاست چلے گی ،نہ جمہوریت چلے گی۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے رکن سید امین الحق نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان ہر گزرتے دن کے ساتھ نکھرتی ہوئی بہتر سے بہتر ہورہی یےاورایم کیوایم پاکستان نے پورے کراچی میں الیکشن آفسسز کا افتتاح کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کوختم کرنے والے آج کہنے پر مجبور ہیں کہ ایم کیوایم کے سبب کراچی میں امن قائم ہے،ایم کیوایم پاکستان کی کاوشوں کی سبب اورنگئ کے بہت سے مسائل حل ہوئے اور ایم کیوایم پاکستان نے اورنگی ٹاؤن میں ورچول یونیورسٹی کاقیام ممکن بنایا ،آج اورنگی کے نوجوان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اعلی کورسسز اورنگی میں ہی کررہے ہیں اور ایم کیوایم پاکستان اورنگئ ٹاؤن کو ماڈل ٹاؤن میں تبدیل کردیگی،رکن رابطہ کمیٹی و امیدوار برائے قومی اسمبلی حلقہ این اے 245 حفیظ الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ پاکستان کے قیام میں ہجرت کرنے والوں کا کردار سب سے اہم ہے۔
ہندوستان میں اقلیت میں ہونے کے باوجود قیام پاکستان کا وجود مہاجروں کی وجہ سے ممکن ہوا،مہاجروں کی آمد سے پاکستان کا شہر کراچی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی بن گیاپاکستان کی معیشت کا حب و ستون صرف و صرف کراچی ہے،ہجرت کرنے والوں کو ایم کیوایم بنانے کی ضرورت اسلئے پیش آئی کہ یہاں انکے حقوق پامال کیے گئےانہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان میں مہاجروں کے حقوق کی نمائندہ جماعت ہےانے والے الیکشن میں پورے سندھ سے ایم کیوایم کے امیدوار کامیاب ہونگےاوربلاول بھٹو دوسروں پر تنقید کرسے قبل اپنی ناکام پالیسیوں کے سبب تھرپارکر میں ہونے خودکشیوں پر ڈال لیں