Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

دھاندلی کے ذریعے پی ٹی آئی والے وزیراعظم اور صدر بن گئے سیکڑوں وزراء ان کے پاس تھے گورنر بھی انکا تھا کیا تیر مارلیا انہیں نے اس ملک کیلئے کوئی کام ہوا۔ مصطفٰی کمال

عمران خان کا ہی دور تھا جب انڈیا نے کشمیر کو ہڑپ کرلیا اور آپ نے عوام کو کہتے رہے کہ ہم ڈونلڈ ٹرمپ سے ورلڈکپ جیت کر آئے ہیں۔ سید مصطفٰی کمال

0

دھاندلی کے ذریعے پی ٹی آئی والے وزیراعظم اور صدر بن گئے سیکڑوں وزراء ان کے پاس تھے گورنر بھی انکا تھا کیا تیر مارلیا انہیں نے اس ملک کیلئے کوئی کام ہوا۔ مصطفٰی کمال

کراچی : کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جب سے ایم کیو ایم وجود میں آئی ہے، کراچی کا مینڈیٹ ہمیشہ سے ہی ہمارے پاس رہا ہے۔ ہم ہی کراچی کو ترقی کی طرف گامزن کیا ہے۔ جو لوگ آج ہمارے مینڈیٹ کے حوالے سے باتیں کر رہے ہیں، کیا انہیں معلوم نہیں کہ ہم ہی اس شہر کے وارث ہیں اور یہاں کے عوام ہمیشہ سے ہی ہم پر اعتماد کرتے آئے ہیں۔ کیوں کے انہیں پتا ہے کہ ہم ہی کراچی سے مخلص ہیں باقی لوگ کمانے آتے ہیں اور واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ 2018 میں جو مینڈیٹ ہم سے چھینا گیا تھا، وہ ہم نے واپس لے لیا ہے۔ جس کا درد سب کو ہے کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ ہم ہی اس شہر کو چلا اور بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار مرکزی انتخابی دفتر پاکستان ہاوس میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بلدیاتی نظام ختم ہونے کے بعد ڈھائی سالوں تک بلدیاتی الیکشن نہیں کروائے گئے جبکہ طے شدہ معاہدے کے باوجود نہ پولیس میں ریفارمز کی گئی نہ اختیارات اور وسائل میں ریفارمز کی گئی۔ آج جو لوگ ہم پر انگلی اٹھا رہے ہیں وہ مولانا فضل الرحمان کو ماضی میں کن القابات سے پکارتے تھے۔ سب کو پتہ ہے آج مولانا فضل الرحمان جو بات کر رہے ہیں معاملہ اس سے مختلف ہے تاریخ کے صفحات کو درست کرنے کے لیے بات کرنا ضروری تھی۔ جو باتیں اب ہو رہی ہیں وہ الیکشن سے قبل کیوں نہیں ہوئی؟ 26 مارچ کی میٹنگ میں ایم کیو ایم کو مدعو کیا گیا تھا میں وہاں موجود تھا پاکستان مشکل ترین حالات میں انتخابات کروانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے درخوست کی تھی ہم عدم اعتماد کی تحریک واپس لے لیں۔ جس پر وہاں موجود سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے معیشت سے جڑی باتیں کی تھیں۔ اس سے آگے ہم نے اور آپ نے بات آگے بڑھائی تو جمہوریت کا موقع نہ ہاتھ سے چلا جائے 2018 میں ہمارے ساتھ برا ہوا۔ ہم الیکشن کمیشن گئے عدالتوں میں گئے، لیکن ہمیں انصاف نہیں ملا پھر بھی ہم نے اپنے ملک کے خاطر قربانیاں دیں۔ ہم نے اپنے مینڈیٹ کو نہیں بلکہ پاکستان کو آگے رکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج جو لوگ ہم پر آج الزام تراشیاں کر رہے ہیں انکی خود کی کیا حیثیت ہے؟ اگر جماعت اسلامی ہی بات کی جائے تو وہ کبھی پیر پگارا، کبھی عمران خان اور کبھی الطاف حسین کا کندھا لیکر انقلاب لانے کی بات کرتے ہیں۔ ہم نے ساری مخالف سیاسی جماعتوں کو باغ جناح اور جناح گراؤنڈ میں ٹریلر دکھادیا ہے اور اگر ہم نے ایک ریلی  بھی نکالی تو گھر سے کوئی نہیں نکل پائے گا۔ ہماری حیدر آباد ،میرپور خاص اور سکھر سے سیٹیں چھینی گئی ہیں۔ جماعت اسلامی کو خوابوں میں چھیچھڑے کیوں نظر آرہے ہیں۔ انہیں تو کبھی عوام نے مینڈیٹ نہیں دیا آج سراج الحق کس کے غم میں استعفیٰ دیکر بیٹھے ہیں کیا کوئی بتا سکتا ہے؟حافظ نعیم نے سراج الحق کے کراچی آنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے یہ کیسی جماعت ہے کہ شہر کا لیڈر کوئی اور جبکہ جماعت کا لیڈر کوئی اور جماعت اسلامی والے پہلے اپنے معاملات تو درست کرلیں باقی باتیں بعد میں کریں۔ پہلے اپنے مسئلے درست کرلیں عوام کے مسئلے حل کرنے کیلئے انکی حقیقی نمائندے آپکے ہیں اب کسی کا ڈرامہ نہیں چلےگا اور میں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ جب تک ایم کیو ایم پاکستان کے نمائندے یہاں موجود ہیں اس وقت جماعت اسلامی سمیت جس کو دھرنا دینا ہے وہ دے انکا کا حق ہے۔ لیکن اگر کسی نے اس سے بات آگے بڑھائی تو ہم بھی پیچھے نہیں رہی رہینگے یہ سب جانتے ہیں۔

اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کہہ رہی ہے کہ ان کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے۔ 25 جولائی 2018 میں سارے کراچی کے پولنگ ایجنٹوں کو سرکاری اہلکاروں نے پولنگ اسٹیشن سے نکال دیا تھا، جبکہ کراچی کے نتائج تین دنوں تک نہیں آئے تھے اور دھاندلی کرکہ پی ٹی آئی کو ہماری 14 سیٹیں دیدی گئیں۔ جس ڈیکوریشن والے کو پیسے دینے تھے انہیں ٹکٹ دیدیا گیا۔ دھاندلی کے ذریعے وزیراعظم اور صدر بن گئے۔ سیکڑوں وزراء آپ کے پاس تھے گورنر بھی آپکے تھے، کیا تیر مار لیا آپ لوگوں نے؟ کیا ہمیں نہیں پتا کہ پیپلزپارٹی کی سپورٹ سے آپ نے وفاقی حکومت چلائی ہے اور جس دن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن مل گئی، تو آپکی ناکام حکومت بھی ختم ہو گئی۔ 2018 میں چوری شدہ مینڈیٹ لینے کے باوجود عمران خان کے دور میں ایک کام نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس شہر میں آپ نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دےدیا، جو 2024 میں عوام آپکی نااہلی جانتے ہوئے آپکو ووٹ دے؟ آپ ہی کا دور تھا، جب انڈیا نے کشمیر کو ہڑپ کرلیا اور آپ عوام کو گاتے رہے کہ ہم ڈونلڈ ٹرمپ سے ورلڈکپ جیت کر آئے ہیں۔ یہ کونسا ورلڈ کپ تھا؟ جس میں انڈیا نے کشمیر کو ہڑپ کرلیا، جبکہ آپ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر صرف باتیں کرتے رہے اور جمہ کو 12 بجے ٹریفک بند کے تماشا بناتے رہے۔ عوام آپکی سازشوں کو جان چکی ہے اور اب آئندہ عوام آپ کی جھوٹی باتوں پر کبھی یقین نہیں کریگی۔

اس موقع پر ڈپٹی کنوینر انیس احمد قائم خانی ، اراکین رابطہ کمیٹی و دیگر بھی موجود تھے۔

Comments
Loading...