جعلی نتائج و مینڈیٹ پر قبضے کے خلاف جماعت اسلامی کا یوم سیاہ، 100سے زائد مظاہرے
کراچی کے جعلی انتخابی نتائج کالعدم قرار دینے،فارم 45کے مطابق درست نتائج جاری کرنے کا مطالبہ
جعلی نتائج و مینڈیٹ پر قبضے کے خلاف جماعت اسلامی کا یوم سیاہ، 100سے زائد مظاہرے
کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر عام انتخابات میں بدترین دھاندلی، جعلی نتائج، مینڈیٹ پر قبضے، الیکشن کمیشن کی نا اہلی اور شفاف و منصفانہ انتخابات میں ناکامی کے خلاف جمعہ کو پورے شہر میں ”یوم سیاہ“ منایا گیا اور 100سے زائد مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اور مطالبہ کیا گیا کہ کراچی کے جعلی انتخابی نتائج کالعدم قرار دیئے جائیں۔ ان کی فارنزک تحقیقات کی جائے اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق 22فروری تک فارم 45کے مطابق نتائج جاری کیے جائیں۔
جماعت اسلامی اپنے عوامی مینڈیٹ سے کسی صورت دستبردار نہیں ہو گی،آئینی و قانونی اور سیاسی و جمہوری جدو جہد جاری رکھے گی۔ مظاہرے نماز جمعہ اورعصر کے بعد مساجد کے باہر اور اہم پبلک مقامات پر کیے گئے۔ مظاہرین نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا کر احتجاج کیا۔ الیکشن کمیشن، اس کی سرپرستی کرنے والوں اور جعلی مینڈیٹ لینے والوں کے خلاف نعرے لگائے، مظاہرین نے جو بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا ئے ہوئے تھے ان پر”انتخابی دہشت گردی نا منظور، جعلی نتائج قبول نہیں، مینڈیٹ پر قبضہ نامنظور، دہشت گردوں بھتہ خوروں کو مسلط کرنے کی کوشش نا منظور، نامنظور، فراڈ الیکشن نا منظور، کراچی کے نتائج منسوخ کرو، فارم 45کے مطابق درست نتائج جاری کرو، تیز ہو تیز ہو،جدو جہد تیز ہو۔ الیکشن تماشہ: 8لاکھ ووٹ 1نشست، 2لاکھ ووٹ 25نشستیں“سمیت دیگر نعر ے درج تھے۔
مظاہروں سے جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، امراء اضلاع اور مقامی ذمہ داران نے خطاب بھی کیا۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے بلال مسجد ابو الحسن اصفہانی روڈ پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن نہیں سلیکشن ہوا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا اور جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا ہے، 2024 کے انتخابات میں سب نے دیکھ لیا کہ کس طرح عوام کی رائے کو روندا گیا ہے۔جن کو لاکھ ڈیڑھ لاکھ ووٹ ملے ان کو 15 قومی اور25 صوبائی سیٹیں دے دی گئیں،جن لوگوں نے پولنگ اسٹیشن جاکر ووٹ دیا ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں،کراچی میں ووٹ صرف جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کو ملا لیکن ان سے ان کا مینڈیٹ اور سیٹیں چھین لی گئیں اور عوام پر بڑا ظلم کیا گیا،چوروں اور ڈاکوؤں نے پردے میں بیٹھ کر عوام کی رائے پر قبضہ کر لیا،جن لوگوں کو جعلی طریقے سے ایم پی اے ایم این اے بنایا گیا وہ اپنے گھروں میں بھی منہ نہیں دیکھا سکتے۔
کراچی میں ایک ایسی پارٹی جس کا ٹریک ریکارڈ دہشت گردی، بھتہ خوری اور نفرت و تقسیم کی سیاست ہے اسے دوبارہ مسلط کرنا نہ صرف کراچی، بلکہ صوبے اور پورے ملک کے ساتھ دشمنی، جمہوری رائے اور آئین و قانون کی پامالی ہے، عوام نے گھروں سے نکل کر جن لوگوں کو مسترد کر دیا ہے انہیں زبردستی مسلط کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا،ہما را مطالبہ ہے کہ عوام کی رائے کا احترام کیا جائے اور کراچی کے جعلی نتائج کالعدم قرار دے کر فارم 45کے مطابق درست نتائج جاری کیے جائیں۔
یوم سیاہ کے سلسلے میں ضلع غربی میں 30،ضلع کیماڑی میں 20،ضلع ائیرپورٹ 10،ضلع وسطی گلبرگ میں 8،ضلع ملیرمیں 10،ضلع وسطی میں 8،ضلع شمالی10،ضلع جنوبی میں 8،ضلع قائدین میں 8،ضلع کورنگی میں 8اورضلع شرقی میں 8، ضلع گڈاپ معمار میں 5اور ضلع سائٹ غربی میں 8سمیت 100سے زائدمقامات پر مظاہرے کیے گئے۔یہ مظاہرے بنارس، میٹروویل،گلشن غازی، اتحاد ٹاؤن، مشرف کالونی، اسلامیہ کالونی،فرنٹیئر موڑ، باوانی چالی،ماڈل کالونی، جناح اسکوائر، کوثر ٹاؤن،چمن کالونی، شاہ فیصل کالونی، گلشن اقبال،گرین ٹاؤن، رفاع عام،لیاری، کلفٹن، دہلی کالونی، پنجاب کالونی،صدر،محمود آباد،اختر کالونی،کالاپل، کینٹ، فاطمہ جناح کالونی، سبزی منڈی، مارٹن کوارٹر جہانگیر روڈ،پی آئی بی کالونی،لائنز ایریا،ناظم آباد، لیاقت آباد، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، نیو کراچی، سرجانی ٹاؤن، ملیر، سعود آباد، لانڈھی، کورنگی، کیماڑی، اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن ودیگر مقاما ت پر کیے گئے۔ مظاہروں سے امراء اضلاع مولانا مدثر حسین انصاری،سید عبد الرشید،مولانا فضل احد،محمد یوسف، محمد اسلام، عبد الجمیل خان، عبد الرزاق خان،عرفان احمد، سیف الدین ایڈوکیٹ، انجینئر عزیز الدین ظفر، فاروق نعمت اللہ،وجیہ حسن،توفیق الدین صدیقی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ آر اوز کے جاری کردہ فارم 47پریذائیڈنگ افسران کے دیئے گئے فارم 45سے مختلف ہیں ان کو درست کیے بغیر نتائج جاری کرنا اور کئی نشستوں پر فارم 48بھی جاری نہ کرنا سندھ ہائی کورٹ کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی اور توہین عدالت ہے۔ کراچی میں جس طرح عوامی مینڈیٹ اور رائے عامہ کو کچلاگیا ہے اس پورے عمل نے الیکشن کو ایک تماشہ بنا دیا ہے۔ عوام نے اپنی ووٹ کی طاقت سے جن لوگوں کو اُٹھا کر پھینک دیا ہے اور جو لوگ کراچی میں دہشت گردی، بھتہ خوری، بلدیہ فیکٹری جلانے کے ذمہ دار ہیں ان کو اہل کراچی پر مسلط کرنا بڑی زیادتی ہوگی۔ فارم 45کے مطابق جماعت اسلامی نے کراچی میں 8لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ایم کیو ایم پولنگ اسٹیشنوں پر قبضوں، جعلی ٹھپوں پہلے سے دیئے گئے بیلٹ پیپرز ڈالنے کے باوجودلاکھ ڈیڑھ لاکھ ووٹ بھی حاصل نہیں کر سکی کوئی ایک سیٹ تو کیا کسی پولنگ اسٹیشن پر بھی ایم کیو ایم کا امیدوار کامیاب نہیں ہوا ہے