Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

تعلیمی اداروں سے ہمیں باہر نکالنے والوں کو 87 کے الیکشن میں ہم نے کراچی کی سیاست سے باہر کر دیا۔ خالد مقبول صدیقی

اے پی ایم ایس او اپنے قیام کے 46 سالوں میں عزم و عمل سے اپنے منزل کی جانب گامزن ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

0

ایوانوں میں آج بھی مڈل کلاس کی نمائندگی اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم کر رہی ہے۔ خالد مقبول صدیقی

کراچی : آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چھیالیسویں یومِ تاسیس کے موقع پر مرکز بہادر آباد سے متصل پارک میں پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت اراکین مرکزی ایڈہاک کمیٹی انیس احمد قائم خانی، سید امین الحق، سینیٹر سید فیصل سبزواری سمیت دیگر نے شرکت کی۔

جلسے کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا، چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اے پی ایم ایس او کے قیام کو 46 سال ہوگئے ہیں اور یہ عزم و عمل سے بالا ہوکر آگے کی جانب بڑھ رہی ہے جبر کے تمام ہتھکنڈوں، مظالم، اسیروں شہادتوں سے کا سامنا کرتے ہوئے اے پی ایم ایس او اپنی منزل کی جانب گامزن ہے کیونکہ لہو کا بہنا کبھی رائیگاں نہیں جاتا یہ ہی ہمیں منزل کی جانب لے کر جائے گی۔

چئیرمین ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ اس تحریک نے پاکستان کے ایوانوں میں مڈل کلاس قیادت کو بھیجا، اور آج وہاں متوسط طبقے کی نمائندگی اے پی ای ایس او اور ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی نہیں کرتا، انہوں نے مزید کہا کہ آج کی ایم کیو ایم اتنے مظالم کے باوجود نا صرف اپنے پیروں پر کھڑی ہے بلکہ مضبوط اور توانا ہے اور پاکستان کی کوئی بھی حکومت ایم کیو ایم کے بغیر نہیں بن سکتی ہے۔

خالد مقبول کا کہنا تھا کہ پاکستان بنانے کا ایک مقصد تھا اور اے پی ایم ایس او بھی ایک مقصد کے تحت قیام عمل میں آیا اس کا معیار بہت بلند ہے جو ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک تناور درخت کی مانند پروان چڑھ رہی ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ 1978 میں اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد جنہوں نے ہمیں جامعہ کراچی سے نکالا تھا ہم نے 87 کے بلدیاتی انتخابات میں ان کو کراچی کی سیاست سے نکال دیا اے پی ایم ایس او اس تحریک کی جڑ اور بنیاد ہے آپ تمام کارکنان آپس میں اتحاد پیدا کریں ہمارا آپس میں نہیں دشمنان پاکستان سے مقابلہ ہے، ہم نے ایسا دور بھی دیکھا ہے جب ایم کیو ایم کو ضرورت پڑی تو اے پی ایم ایس او نے ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا ہے۔

انچارج اے پی ایم ایس او حافظ شہریار* نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 11 جون 1978 کو جامعہ کراچی میں اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی گئی جس نے 1984 میں متحدہ قومی موومنٹ کی بنیاد رکھی، آج بھی اے پی ایم ایس او کو نوجوان نسل کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی 1978 میں ضرورت تھی وہ نوجوان جن کو گمراہ کر کے غلط کاموں میں لگایا جارہا وہ حق پرستی کی راہ اختیار کریں ہمارے قافلے کا حصہ بنیں۔ سینئر جوائنٹ انچارج مقبول نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج شہر کی آبادی کے لحاظ سے جامعہ کراچی طلبہ کے لئے ناکافی ہے اے پی ایم ایس او نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ طلبہ کیلئے ہر کراچی کے ہر ضلع میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے بھی جہدوجہد کریگی۔

اس موقع پر دیگر ذمہ داران نے بھی جلسے میں شریک شرکاء سے گفتگو کی۔ جلسے میں اے پی ایم ایس او کے نئے پوسٹرز اور ترانے کا اجراء بھی کیا گیا۔

Comments
Loading...