Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

سندھ کو 22 ہزار ارب ملنے کے باوجود ترقی کا کوئی نشان نہیں، حکمران جماعت نے عوام کو مایوسی اور بدحالی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

مرکزی مسلم لیگ کے وفد کی ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی و دیگر رہنماؤں سے بہادرآباد مرکز میں ملاقات، ملکی حالات و آئینی اصلاحات پر تفصیلی گفتگو

0

مرکزی مسلم لیگ کے وفد نے سپریم کورٹ الیکشن میں حمایت کی درخواست پیش کی، ایم کیو ایم پاکستان نے مشاورت کے بعد فیصلے کا عندیہ دیا

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد میں مرکزی مسلم لیگ پاکستان کے جوائنٹ سیکرٹری خالد نیک کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی و دیگر رہنماؤں عبدلوسیم ،ریحان اکرم اور محفوظ یار خان سے ملاقات کی۔ وفد میں مرکزی مسلم لیگ کے صدر کراچی احمد ندیم اعوان، رہنماء عبد الوحید، عزیز الرحمن، اور ترجمان محمد افضل شامل تھے۔ ملاقات میں ملکی سیاسی و آئینی صورتحال، 18ویں آئینی ترمیم کے اثرات، سندھ میں اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم، شہری و دیہی عدم توازن اور عوامی فلاحی پالیسیوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات عوام تک منتقل ہونے کے بجائے چند خاندانوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں، سندھ کو گزشتہ برسوں میں 22 ہزار ارب روپے ملے لیکن اس خطیر رقم کا کوئی عوامی فائدہ نظر نہیں آتا، اگر کراچی نہیں بنایا تو کم از کم لاڑکانہ ہی بنا دیتے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں 50 برس سے نافذ کوٹہ سسٹم نے شہری نوجوانوں کے مستقبل پر قفل لگا دیا ہے، حکمرانوں نے اپنے گھروں اور دفاتر کے درمیان موٹر وے تو بنائی مگر کراچی سے حیدرآباد تک آج بھی کوئی موٹر وے موجود نہیں، عوام پر صرف تجربات کیے جا رہے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین نے کہا کہ سندھ کی تباہی اور عوامی بدحالی کی اصل ذمہ دار موجودہ حکمران جماعت ہے جس نے صوبے کے شہری علاقوں کو منصوبہ بندی سے محروم رکھا، کرپشن، اقربا پروری اور فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم نے سندھ کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹ سے ایوانوں میں جانے والے عوام کو ترجیحات میں شامل ہی نہیں کرتے، آج سندھ کے شہری علاقوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے جو کسی بڑے سیاسی اضطراب کی نشاندہی کرتی ہے۔

ملاقات میں مرکزی مسلم لیگ کے وفد نے سپریم کورٹ کے الیکشن میں ایم کیو ایم پاکستان کی حمایت و تعاون کی درخواست پیش کی، جس پر ایم کیو ایم قیادت نے کہا کہ وکلاء اور پارٹی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا، تاہم ایم کیو ایم پاکستان ہمیشہ قومی مفاہمت، جمہوریت کے استحکام اور آئینی اصلاحات کی حامی رہی ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان سمجھتی ہے کہ بلدیاتی اداروں کو آئینی و مالی خودمختاری دیئے بغیر عوامی شراکت کا خواب پورا نہیں ہوسکتا، سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ہونے والا امتیازی سلوک اور وسائل کی ناانصافی کسی قومی اتفاقِ رائے کی عکاسی نہیں کرتی۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جس میں آئندہ سیاسی و عوامی تعاون کے تسلسل پر بھی بات چیت کی گئی۔

Comments
Loading...