Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

سب ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں. چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

کراچی سمیت سندھ بھر میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخی کامیابی کی خوشی میں منعقد ریلی کے اختتام پر جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ کراچی سے لے کر کشمور تک اب جیالوں کی حکومت ہوگی۔

0

سب ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں. چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

کراچی (13 مئی 2023) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے بعد اداروں کے فعال ہونے میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ منتخب نمائندوں کی حلف برداری کا شیڈیول بلاتاخیر جاری کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جتنی بیان بازی اور خط لکھنا ممکن تھے، وہ ہوچکے، اب پی پی پی احتجاج کرنا اور اپنا حق چھیننا بھی جانتی ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے صوبے کے تمام بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے اور عوامی مسائل کے حوالے سے بھی اپنی ترجیحات و لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جیالوں کے لیے مشکل امتحان اب شروع ہو رہا ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں تمام اداروں کو بھی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سب ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کریں، اس بار وہ کسی قسم کی ناانصافی برداشت کریں گے نہ اُس کے بعد روایتی اپوزیشن۔

کراچی سمیت سندھ بھر میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخی کامیابی کی خوشی میں منعقد ریلی کے اختتام پر جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ کراچی سے لے کر کشمور تک اب جیالوں کی حکومت ہوگی۔ اور یوں جیالوں کا مشکل امتحان بھی شروع ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیالوں کی محنت اور عوام نے مِل کر سندھ میں دہائیوں سے جاری نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ کردیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں پورے پاکستان کے عوام کو پیغام دے رہا ہوں کہ ہم نے سندھ سے نفرت اور تقسیم کی سیاست کا خاتمہ کردیا، اب پاکستان بھر میں اس قسم کی سیاست کو دفن کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جماعت کی بلدیاتی اداروں کے حوالے سے ترجیحات کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کے نظام کو بھتر بنانا اولین ترجیح ہوگی۔ بلدیاتی ادروں کے ماتحت اسپتالوں کو این آئی سی وی ڈی کے معیار جیسی اسپتالیں بنائیں جائیں گی۔ دوسری ترجیح تعلیم کا شعبہ ہوگا۔ بلدیاتی اداروں کے نظرانداز کیئے گئے تعلیمی اداروں کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت این جی اوز اور دیگر ادروں سے مل چلایا جائے گا۔ ٹرانسپورٹ اور سولڈ ویسٹ مینجمینٹ کو بلدیاتی اداروں کے ساتھ مل کر مزید بھتر بنایا جائے گا۔ تیسری ترجیح میں غربت گھٹانے کے پروگرام ہوں گے، اور اس سلسلے میں ایس آر ایس او کے جاری پروگرام کو ہر یونین کاوَنسل تک پھلایا جائے گا۔ چوتھی ترجیح میں سیلاب متاثرین اور کچی آبادیوں میں آباد لوگوں کو رہائشی پلاٹ کے مالکانہ حقوق دینا شامل ہوگا۔ صوبائی وزیر بلدیات پابند ہوگا کا میئر، ڈپٹی میئر یا چیئرمین کی مرضی کے مطابق اقدام اٹھائے۔ پراپرٹی ٹیکس اکٹھا کرنے کا اختیار بھی بلدیاتی اداروں کو تفویض کیا جائے گا۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن نہیں ڈرتی، الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ ہم الیکشن لڑنا اور جیتنا بھی جانتے ہیں۔ ہم نے کراچی میں صرف ٹیلر دکھایا ہے، جس طرح کراچی نے پی ٹی آئِی کو خدا حافظ کیا ہے، اسی طرح ان سیاسی دہشتگردوں کو پورے ملک سے فارغ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر آمر، ہر کٹھ پتلی اور دہشتگردوں کا مقابلہ کیا ہے۔ ہم نے کراچی میں الطاف حسین کی سیاست کا سامنا کیا ہے، یہ عمران چیز ہی کیا ہے۔

پی پی پی چیئرمین نے کارکنان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنے قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادتیں دیکھی ہیں، لیکن آپ نے کبھی جی ایچ کیو پر حملہ یا جناح ہاوَس کو نذرِ آتش نہیں کیا۔ صدر آصف علی زرداری کو 12 سال قید میں رکھا گیا، لیکن تب کسی چیف جسٹس نے انہیں جیل سے نہیں بلوایا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی اس وقت کے چیف جسٹسز نے جیلوں سے طلب کرکے نہیں کہا کہ آپ کو دیکھ کر مسرت ہوئی۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتقام کی سیاست میں یقین نہیں رکھتی۔ آمر ضیاء کے دور میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقعے پر لاہور کے تاریخی جلسہ عام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گنیز بک آف ورلڈ رکارڈ کے مطابق مذکورہ جلسہ تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ تھا، لیکن شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جلسے کے شرکاء کو قائدِ عوام کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے نہیں اکسایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پر جیالوں اور عوام میں بہت غم و غصہ تھا۔ جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہاوسز اس وقت بھی موجود تھے، لیکن صدر آصف علی زرداری نے “پاکستان کھپے” اور میں نے “جمہوریت بہترین انتقام ہے” کا نعرہ لگایا تھا۔

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ اِن سیاسی دہشتگردوں کو ابھی کچھ ہوا نہیں ہے، اور ہر کونے میں ان کے سہولتکار بھی موجود ہیں، لیکن یہ سر پر بالٹی رکھے بغیر گھر سے باہر نہیں نکلتا۔ کپتان گیسٹ ہاوَس میں ایک رات بھی گذار نہیں سکا اور دیکھا کہ کہیں آٹھ دن جیل میں نہ گذارنا پڑیں، اس خوف میں اُس نے پورے ملک پر حملہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس قدر بزدل ہیں کہ جس جیل میں اس نے صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو بھیجا تھا، وہاں خود جانے سے ڈرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنان کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر انہیں سیاست کرنی ہے، تو وہ پی ٹی آئی کی مسلح ونگ سے علحیدگی اختیار کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ڈائیلاگ کے حامی تھے، اور اپنے اتحادیوں کو بھی ڈائیلاگ کے لیے بولا تھا، مگر اب دہشتگردوں سے کیسے مذاکرات ہوں؟

اپنے حالیہ دورہِ بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے بھارت کی سرزمین پر بیٹھ کر پاکستان کا مقدمہ بھارتی عوام کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ ہوتا ہے، تو ہمارے عوام اپنے ملک کی کامیابی کی دعائیں مانگتے ہیں، لیکن جب دونوں ممالک کے درمیان خارجہ محاذ پر میچ ہو رہا تھا تو پی ٹی آئی والے بھارت کی کامیابی کی دعائیں مانگ رہے تھے، اور ان کا اور بی جے پی کا موقف بھی ایک تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں جب ملک سے باہر جاتا ہوں تو پاکستان کا نمائندہ بن کر بات کرتا ہوں اور اپنے پہلے امریکی دورے کے دوران عمران خان کے دورہِ روس کا دفاع کیا تھا۔

ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بات کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ آمریت کے دور میں عدلیہ چپ کا روزہ اور جمہوری دور میں ضرورت سے زیادہ سیاسی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائدِ عوام کے عدالتی قتل میں عدلیہ ملوث تھی، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو ایک اخبار کے مضمون کی بنیاد پر ختم کردی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2018ع کے الیکشن میں جنرل فیض حمید نے اکیلے دھاندھلی نہیں کرائی تھی، اس وقت بھی عدلیہ ضرورت سے زیادہ سیاسی ہوگئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب بہت ہوچکا، ہم عدلیہ یا اسٹیبلشمینٹ کو دھاندھلی کرنے نہیں دیں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ڈی ایمنے آئندہ ہفتے آئین سے یکجہتی کا اعلان کیا ہے، ہم سپریم کورٹ کو یاد دہانی کرانے جا رہے ہیں کہ ان کا کام سیاست میں مداخلت نہیں ہے۔ جس طرح عمران خان کو لاڈلا ٹریٹمینٹ کی جا رہی ہے یہ آئین اور عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمینٹ ٹائیگر فورس نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اعلان کریں کہ ہم آئندہ 4 اپریل اور 27 دسمبر سپریم کورٹ کے روم نمبر ون میں منائیں گے، تو ان کو کیسا لگے گا؟ ہمارا پیغام ہے کہ ادارے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں۔ آپ منصف بنو، سیاستدان مت بنو۔

وزیرخارجہ نے بھارت کی جانب سے جی-20 کا اجلاس سرینگر میں منعقد کرنے کی بھی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اِس اقدام کا مطلب ہے کہ بھارت کسی بھی عالمی قانون کی پاسداری نہیں کرتا، لیکن نئی دہلی کچھ بھی کرلے مقبوضہ وادی کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری کریں گے۔

Comments
Loading...