اہل کشمیر کی جدوجہد اور مزاحمت کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ منعم ظفر خان
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا نرسری بس اسٹاپ ، شاہراہ فیصل پر یکجہتی کشمیر ریلی کے سلسلے میں لگائے مرکزی کیمپ کا دورہ و میڈیا سے گفتگو
اہل کشمیر کی جدوجہد اور مزاحمت کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ منعم ظفر خان
کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا نرسری بس اسٹاپ ، شاہراہ فیصل پر یکجہتی کشمیر ریلی کے سلسلے میں لگائے مرکزی کیمپ کا دورہ و میڈیا سے گفتگو۔ انہوں نے کہا کہ آج شہر بھر میں 5 فروری اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لیے اس دن کی مناسب سے کیمپ لگائے گئے ہیں۔ 5 فروری وہ دن ہے جس میں سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد کی کال پر مسلمانوں اور باضمیر لوگوں کو 5 فروری کو اہل کشمیر سے یکجہتی کے لیے منانا شروع کیا۔ مقبوضہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کے بعد ایک نامکمل ایجنڈا ہے۔ اہل کشمیر نے ہمیشہ راجا ہری سنگھ کے خلاف اعلان بغاوت کیا۔ اہل کشمیر نے پاکستان کی آزادی سے قبل فیصلہ کیا کہ ہمارا رشتہ کلمہ لاالہ الااللہ کی بنیاد پر بننے والے ملک سے ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اہل کشمیر کی جدوجہد اور مزاحمت کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ اہل کشمیر نے ہمیشہ اس بات کا عزم کیا کہ ان کے دل ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ صرف خطے کا نہیں بلکہ سوا کروڑمسلمانوں کا ہے جن کے دل پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ 1948 میں اقوام متحدہ کی قرارداد واضح طور پر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیے بغیر حل نہیں ہوسکتا۔ کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ کی ساری قراردادیں ایک طرف رہ گئیں۔ اسی طرح فلسطین کے مسئلے پر بھی ساری مغربی اقوام ایک پی۔ پر جمع ہوگئیں۔ اگر مسئلہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کا ہو تو اسے فورا حل کردیا جاتاہے۔ کشمیر کے عوام ایک لاکھ سے زائد جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کو آئین کی شق کے مطابق کشمیر کی اصل روح کو غصب کرکے بھارت میں شامل کردیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سال کشمیریوں کے لیے کشمیر کو دنیا کی ایک بڑی جیل بنادیا ہے۔ یہ سب کچھ اقوام متحدہ کی ناک کے نیچے ہورہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت پاکستان کا فرض بنتا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ سید علی گیلانی نے 12 سال نظر بندی اور قید و صعوبت میں گزاری اور برہان وانی جیسے شہید پیدا کیے۔ کشمیر کا مقدمہ پاکستان کا مقدمہ ہے، بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ کشمیریوں سے ہمارا رشتہ دینی و ثقافتی ہے۔ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں لڑا جائے۔ اہل غزہ و فلسطین نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا تو پوری دنیا میں زبردست بیداری کی فضا پیدا ہوئی ہے اسی جدوجہد اور مزاحمت کی ضرورت کشمیریوں کے لیے ضروری ہے۔ پوری ملت اسلامیہ 5 فروری کو گھروں سے نکلے گی۔
انہوں نے کہا کہ 5 فروری کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی جائے گی۔ جماعت اسلامی نے 5 فروری دوپہر 3 بجے جیل چورنگی تا مزار قائد یکجہتی کشمیر کا انعقاد کیا ہے۔ کراچی کے عوام ایک کشمیر سے اظہاریکجہتی کے لیے گھروں سے نکلیں۔ یکجہتی کشمیر ریلی سے مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ خصوصی خطاب کریں گے۔