ایم کیو ایم کے علاوہ اہلیان کراچی کے پاس کوئی آپشن نہیں۔ سید مصطفیٰ کمال
اس شہر کو ہم ہی سنبھال سکتے ہیں، چیزیں اس نہج پر ہیں کہ کوئی اور تجربہ ممکن نہیں۔ سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم پاکستان
ایم کیو ایم کے علاوہ اہلیان کراچی کے پاس کوئی آپشن نہیں۔ سید مصطفیٰ کمال
کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینئر سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ لوگ گھروں میں سوتے تھے جبکہ انکی صبح بہتر کرنے کیلئے ہم رات دن کام کرتے تھے، جس لاہور کی ترقی کی آج مثال دی جاتی ہے وہ سرکاری طور پر سیکھنے کراچی آتے تھے۔ 11 سال عہدہ چھوڑے ہوئے ہوگئے، دشمن بھی ایک روپے کی کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا، کسی کی غلط بات کو غلط کہنے کی جرات رکھتے ہیں وہ اس لیے کہ ہم نے موقع ملنے پر اپنا ایمان نہیں بیچا۔ اگر ہم سے بہتر آپشن ہوتا تو لوگ ان سالوں میں انکے کام دیکھ کر ہمارا نام بھی بھول گئے ہوتے۔ آخری بار کراچی میں ترقیاتی کام ایم کیو ایم پاکستان کے دور نظامت میں ہوا، ہم ہی ہیں جو اس شہر کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں ہم عوام کا سامنا کرنے والے اور درمیان رہنے والے لوگ ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلشن ریزیڈنس کمیٹی کی جانب سے منعقدہ مکالمے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اراکین رابطہ کمیٹی عبد القادر خانزادہ، عادل عسکری، ڈاکٹر فوزیہ حمید، ڈاکٹر یاسر صدیقی، رکن سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی فرحان انصاری، انچارج ڈیجیٹل میڈیا سبحین غوری، این اے 236 کے نامزد امیدوار اقبال محسود بھی موجود تھے۔
سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ یہ شہر متعدد مسائل کی آماجگاہ بن چُکا ہے، عوام سے کیئے گئے 10 فیصد وعدے بھی پورے کیئے جاتے تو یہ حال نہیں ہوتا۔ ہر کوئی تارے توڑ کر لانے کے وعدے تو کرتا ہے مگر حقیقت اِس کے برعکس ہوتی ہے اس شہر میں معصوم بچے کھلے گٹروں میں گر کر مر رہے ہیں، ہمارے دور میں کراچی 12 تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں شامل تھا آج دنیا کے 4 رہنے کے لائق بدترین شہروں میں شامل ہے۔ تمام مسائل کے حل کے لیے 3 آئینی ترامیم پیش کی ہیں، ہم آئندہ عام انتخابات میں اپنے تمام گزشتہ تجربات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اب صرف ایک نکاتی ایجنڈے کی بنیاد پر مُلک میں بننے والی کسی بھی حکومت کی حمایت کریں گے۔ جو بھی وزیراعظم بننے کیلئے ایم کیو ایم کے پاس آئے گا اسے اس آئینی ترمیم میں ہماری مدد کرنی ہوگی۔ سندھ میں کرپشن کی انتہا ہے، صرف تعلیم پر 2300 ارب روپے خرچ کرنے کے بعد سندھ حکومت کی ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق سندھ میں 48 ہزار اسکول ہیں جن میں سے 11 ہزار اسکول گھوسٹ ہیں۔ جن کا وجود نہیں لیکن پیسے خعچ کیئے جاتے تھے۔ پیپلز پارٹی کی بدعنوان حکومت کے پندرہ سالوں میں بائیس ہزار ارب روپے خرچ ہوئے مگر پینے کے پانی کے ایک قطرے تک کا اضافہ نہیں ہوا بلکہ ہائیڈرینٹ بنا کر ہمارا ہی پانی ہمیں اربوں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ عوام موجودہ ایم کیو ایم پر بھروسہ کرے ہم اپنی اصلاح کر رہے ہیں، ایم کیو ایم کے علاوہ اہلیان کراچی کے پاس کوئی آپشن نہیں اس شہر کو ہم ہی سنبھال سکتے ہیں، چیزیں اس نہج پر ہیں کہ کوئی اور تجربہ ممکن نہیں۔ بعد ازاں ایم کیو ایم رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا۔
اس موقع پر رکن رابطہ کمیٹی عبد القادر خانزادہ نے کہا کہ سندھ میں ساڑھے پانچ لاکھ نوکریاں دی گئیں لیکن کراچی اور حیدرآباد کے لڑکوں کو ایک نوکری نہیں دی گئی۔ 40 ہزار لڑکوں نے میڈیکل سائنس میں داخلے کا ٹیسٹ دیا تھا کسی کو داخلہ نہیں دیا گیا۔ 50 ہزار بچوں کو چین کی حکومت نے فیکٹریوں کیلئے تربیت فراہم کرنے کی پیشکش کی تو سندھ حکومت نے لکھ دیا کہ کراچی اور حیدرآباد کے بچوں کو نہیں بھیجا جائے گا۔پیپلز پارٹی کے تعصب کی وجہ سے ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں غلام بن کر رہنا ہے یا سر اٹھا کر چلنا ہے۔