Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

آئین کُچھ نئی ترامیم کا متقاضی ہے جو تمام شہریوں کو برابر کا پاکستانی بنانے اور سمجھنے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

ایم کیو ایم نے اختیارات و وسائل کو وزیرِ اعلیٰ کے گھر سے نکال کر مقامی حکومتوں کے پاس پہنچانے کا خاکہ پاکستان کے سامنے رکھ دیا ہے۔ سید مصطفی کمال

0

آئین کُچھ نئی ترامیم کا متقاضی ہے جو تمام شہریوں کو برابر کا پاکستانی بنانے اور سمجھنے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

کراچی : آج متحدہ قومی موومنٹ پاکستانیوں کی دہلیز پر اُنکے اختیارات و وسائل پہنچانے کا نُسخہ کیمیاء پیش کر رہی ہے، آج پاکستان انتظامی، عدالتی، معاشرتی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، موجودہ آئین پاکستان سوائے طاقت ور کو تحفّظ فراہم کرنے کے اور کُچھ نہیں کر سکا اس صورتحال میں آئین کُچھ نئی ترامیم کا متقاضی ہے جو تمام شہریوں کو برابر کا پاکستانی بنانے اور سمجھنے میں اپنا کردار ادا کر سکے، وزیرِ اعظم وزرائے اعلیٰ کی طرح مقامی حکومتوں کے اختیارات کے نکات واضح طور پر آئین پاکستان میں درج ہونے چاہئیں، پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی جمہوریت آتی ہے بُنیادی جمہوریت ختم کردی جاتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مرکزی انتخابی دفتر پاکستان ہاؤس میں منعقد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ تجربات کرنے کے لئے پچھتر سال بہت ہوتے ہیں پاکستان کے مقدر کو بدلنے کی دستاویزات آج ایم کیو ایم نے عوام کے آگے رکھ دی ہیں، پڑوسی ممالک جن کی آبادی اِس خطے میں سب سے زیادہ تھی وہ آج اپنے مُلک میں غُربت کو شکست دینے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکے ہیں، انکا مزید کہنا تھا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم پاکستان کے لئے ناگزیر ہے ترقی جب تک کراچی میں نہیں آئے گی باقی ماندہ پاکستان ہمیشہ اِس سے محروم رہے گا جنہوں نے ہجرت کی وُہ پاکستانی کہلانے کے ذیادہ حقدار ہیں ہمارے اجداد نے پاکستان ملّت اسلامیہ کے لیئے ماڈل بنایا تھاتعصب پسند حکمرانوں نے اسے منڈی بنا دیا۔

سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہا کہ ایم کیو ایم 25 کروڑ پاکستانیوں کی امنگوں کا ترجمان انتخابی منشور اختیار سب کے لیئے پیش کر رہی ہے، تمام صوبوں میں لسانیت کی بنیاد پر وزرائے اعلیٰ منتخب ہوتے رہے ہیں جن کو بجٹ کی مد میں ہزاروں ارب روپے ملتے ہیں پھر بھی محرومیوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے،وسائل پر چند لوگوں کے قابض ہو جانے سے مُلک افراتفری اور بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے ملک کے مجموعی بجٹ کا 56 فیصدحصہ صوبوں کو ملتا ہے وہ رقم کہاں خرچ کی جارہی ہے؟ ایم کیو ایم نے اختیارات و وسائل کو وزیرِ اعلیٰ کے گھر سے نکال کر مقامی حکومتوں کے پاس پہنچانے کا خاکہ پاکستان کے سامنے رکھ دیا ہے، ایم کیو ایم کی جانب سے پیش کردہ منشور پاکستان کے لئے آب حیات کی مانند ہے۔

اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مُلک کے تمام محروم طبقے کے غضب شدہ حقوق بازیاب کروا کر برابری کی بُنیاد پر بااختیار کرنے کا مسودہ آج ایم کیو ایم پیش کر رہی ہے،خود مختار صوبوں کے نام پر معصوم عوام کو گمراہ کیا گیا، مُلک اِس وقت ہر طرح کے بحران کا شکار ہے جس کا واحد حل عوام کو صحیح معنوں میں بااختیار بنانا ہے پاکستان دُنیا میں بہت سے ممالک سے کئی سال پیچھے رہ گیا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار نے عام انتخابات2024 ء کے حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے پیش کردہ منشور پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ70 فیصد نوجوان طبقہ آج مایوسی کا شکار ہے اس وقت پاکستان کو نوکری کرنے والے نہیں نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے والوں کی ضرورت ہے، ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے پیش کردہ آئینی ترامیم ایک خود مختار مقامی حکومت، مضبوط اضلاع مستحکم پاکستان کی ضمانت ہیں اور ایم کیو ایم کے منشور کی بنیادی کڑی ہیں،صنعتی ترقی کے ساتھ لوگوں کو کاروباری آسانیاں فراہم کر کے مثبت مقابلے کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نئے مراکز قائم کیئے جائیں گے، بڑھتی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے100 سے زائد نئے شھروں کا قیام عمل میں لائیں گے،دس سال کے لیئے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے بجٹ میں 2.5 سے بڑھا کر 5 فیصد کیا جائے گا، خواتین کو تعلیم اور روزگار کے با عزت مواقع فراہم کیئے جانے سمیت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بے نظیر جنریشن پروگرام میں تبدیل کیا جائے گا، غیر قانونی گمشدگیوں کے لیئے قانون سازی کی جائے گی، محصورین پاکستان کو واپس لایا جائے، تنخواہ دار طبقے سے زیادہ وڈیروں جاگیرداروں پر ٹیکس عائد کیئے جانے پر قانون سازی عمل میں لائی جائے گی،سمندر پار پاکستانیوں کو صرف ووٹ ڈالنے تک ہی محدود نہیں بلکہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے بھی قانون میں ضروری ترامیم کی جائیں گی، کراچی میں 65 ملین گیلن پانی کی یومیہ فراہمی کا منصوبہ چار سال میں مکمل کریں گے اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں سے ردی میں پڑا سرکلر ٹرین کا منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا، معیشت کی بحالی کے لئے برآمدات بڑھانے کے لئے اور درآمدات کم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے،بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں۔

جس کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں مواقع پیدا کئے جائیں گے، کمیونیٹی پولیسنگ کو یقینی بنایا جائے گا اور اسے مقامی حکومت کے تحت لایا جائے گا، اقلیتی کو بااختیار بنایا جائے گا اور انہیں تمام شعبہ ہائے زندگی میں برابری کے مواقع فراہم کئے جائیں گے، خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا نظر انداز کیا گیا طبقہ ہے انہیں بھی معاشرے کا فعال حصہ بنایا جائے گا، آبادی کو قابو کرنے کے موئژ اقدامات بھی ہمارے منشور کا حصہ ہیں، جنگلات اور سیاحت کے شعبوں کو بھی مرکزی اہمیت رہے گی،ذراعت اور آب پاشی کے نظام کو بہتر بنانے پر کام کیا جائے گا، میڈیا اور سوشل میڈیا کی آزادی زمہ داری کے ساتھ قائم کی جائے گی، ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کم از کم دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس شعبے ہر قدم اٹھایا جائے گا، برابری کی بنیادوں پر اقوام میں عالم سے تعلق قائم کرتے ہوئے ایک آزاد پالیسی اختیار کی جائے گی، عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اصلاھات متعارف کروائی جائیں گی تاکہ مقدمات تیزی سے نمٹائے جا سکیں اس کے لئے نئے دور سے ہم آہنگ پنچایتی نظام بھی متعارف کروایا جائے گا، کھیل اور فنون لطیفہ پر بھی کام کیا جائے گا، اس موقع پر اراکین رابطہ کمیٹی بھی موجود تھے۔

Comments
Loading...