طحہ احمد خان کا چیئرمین ایف بی آر کو گل پلازہ سانحہ کے متاثرہ تاجروں کے لیے ٹیکس ریلیف دینے کا مطالبہ
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد خان نے گل پلازہ کراچی میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے سے متاثرہ دکانداروں اور تاجروں کے لیے ٹیکس ریلیف کا مطالبہ کرتے ہوئے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو باقاعدہ خط ارسال کر دیا ہے۔
طحہ احمد خان نے اپنے خط میں کہا کہ گل پلازہ سانحے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ شدید معاشی تباہی بھی ہوئی، جس میں متاثرہ تاجروں کے کاروبار، اسٹاک اور مالی و تجارتی ریکارڈ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ متاثرہ تاجر طویل عرصے سے باقاعدہ اور ذمہ دار ٹیکس دہندگان ہیں جو مسلسل قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں۔
انہوں نے کراچی کے قومی معیشت میں کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کی مجموعی ٹیکس آمدن کا ستر فیصد سے زائد فراہم کرتا ہے اور ملک کا مالی و تجارتی مرکز ہے۔ ایسے غیر معمولی حالات میں ٹیکس ذمہ داریوں میں نرمی ایک منصفانہ، اصولی اور انتظامی طور پر جائز اقدام ہے، ٹیکس سال 2026 کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کرنا کاروباری بحالی، روزگار کے تحفظ اور طویل المدتی معاشی خلل سے بچاؤ کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے تاجر تاریخی طور پر پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں، اور بحران کے وقت ان کی معاونت قومی ریونیو نظام کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتی ہے، کراچی پاکستان کی ریونیو انجن ہے، کراچی کے چلنے سے ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہےکراچی کے تاجروں کو سہولت دینا دراصل پاکستان کی معیشت کو سہولت دینا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے واضح کیا کہ ٹیکس ریلیف کا مطالبہ حقائق، انصاف اور معاشی زمینی حقیقتوں پر مبنی ہے، اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے پر عملی اور قانونی بنیادوں پر مثبت فیصلہ کرے گا۔