واٹر کارپوریشن کو نااہلی، شادمان ٹاون میں لوگوں نے اپنی مرضی سے پانی کے کنیکشن لینا شروع کردئیے
واٹر کارپوریشن کی ناہلی، لوگوں نے اپنی مرضی سے پانی کے کنیکشن پر کام کرنا شروع کردیا۔
واٹر کارپوریشن کو نااہلی، شادمان ٹاون میں لوگوں نے اپنی مرضی سے پانی کے کنیکشن لینا شروع کردئیے
کراچی : واٹر کارپوریشن کے لوگوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت۔ شادمان ٹاون نارتھ ناظم آباد یوسی 2 کے علاقہ میں لوگوں نے بنا کسی بھی اجازت کے اپنی پرائویٹ مزدوروں کی مدد سے سڑک پر کھڈے لگا کر پانی کئ لائین پر کنیکشن لینا شروع کردیا۔
ویسے تو شادمان ٹاون میں بہت سی جگہ پانی کی لیکیج موجود ہے اور جب شادمان ٹاون میں اپنی دیا جاتا ہے تو پانی سڑک پر بہتا ہوا اور نالے میں بہتا ہوا صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن واٹر کارپوریشن اس پر کوئی بھی کام نہیں کررہا ہے۔ یہاں تک جہ شادمان ٹاون سے واٹر کارپوریشن کو پورے بل دئیے جاتے ہیں۔ لیکن واٹر کارپوریشن کا عملہ یہاں کوئی بھی کام کرتا نظر نہیں آتا ہے۔
نارتھ ناظم آباد یوسی 2، کونسلر منیب وسیم کو جب اس کام کی اطلاع ملی تو انہوں نے موقع پر پہنچ کر پہلے معومات حاصل کی اور اس کے بعد انہوں نے وہاں کام کرنے والے لیبر کا سامان اپنے قبضہ میں لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کام کی اطلاع نا ہی واٹر کارپوریشن کو ہے اور نا ہی اس کام کے حوالے سے یوسی 2 کو کائی درخوست دی گئی ہے۔ اس گلی میں ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی نئی لائین ڈالی گئی تھی اور اب پرانی لائین سے بھی کنیکشن لینا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کام روک دیا۔
واٹر کارپوریشن کے لوگ جن میں جناب خلیل صاحب اور جناب نظر صاحب شادمان ٹاون کے علاقہ کو دیکھتے ہیں۔ علاقہ میں نظر ہی نہیں آتے ہیں۔ شادمان ٹاون سیکٹر 14-بی میں شادمان نالے میں 4انچ کی لائین ٹوٹی ہوئی ہے جس کا پانی نالے میں جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اوسی کے سامنے والے گھر کے پاس سے مین لائین لیک ہونے کی وجہ سے پانی بہتا ہے اور سڑک پر بہتا نظر آتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں کی سڑک جو کئی دفعہ ڈالی گئی ہے کچھ ہی عرصہ میں خراب ہو جاتی ہے۔ ایسی طرح شادمان مسجد کے سامنے 2 لیکیج موجود ہیں جس کی درخوست بھی واٹر بورڈ میں جمع ہے لیکن اس کو ابھی تک بنایا نہیں گیا ہے۔
شادمان ٹاون میں واٹر کارپوریشن نے کچھ والز لگائے تھے۔ جس میں سے ایک والز کو دفن کردیا گیا ہے اور باقی 4 والز آپریٹ ہی نہیں کئے جارہے ہیں۔ واٹر کارپوریشن کے عملے نے شادمان ٹاون کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ واٹر کارپوریشن ایکسی این صاحب بھی اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔