حافظ نعیم الرحمن کا 6 اکتوبر گورنر ہاؤس دھرنے کے حوالے سے اہم اعلان
دھرنے سے عوام کے ساتھ مل کر مہنگائی کے عذاب کو ختم کرنا اولین مقصد ہے۔ حافظ نعیم الرحمن
حافظ نعیم الرحمن کا 6 اکتوبر گورنر ہاؤس دھرنے کے حوالے سے اہم اعلان
کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا ادارہ نور حق میں ہر سطح کے ناظمین کے اجتماع سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ 6 اکتوبر گورنر ہاؤس پر دھرنا پورے پاکستان کی نمائندگی کرے گا۔ عوام بجلی کے بل ،پیٹرول کی قیمت اور مہنگائی کے عذاب سے دوچار ہیں۔ دھرنے سے عوام کے ساتھ مل کر مہنگائی کے عذاب کو ختم کرنا اولین مقصد ہے۔ یوسی کا ضمنی انتخاب اس فرد کے لیے کیا جارہا ہے جو جعلی طریقہ سے مئیر کی سیٹ پر مسلط ہوا ہے۔ سندھ اسمبلی میں قانون سازی کر کے میئر کے امیدوار بننے کے خلاف 11 اکتوبر کو عدالت میں سماعت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ طرف تماشہ یہ ہے کہ ایک یوسی کے انتخاب کے لیے 3 جگہ سے یوسی کی نشست خالی کروائی گئی ہیں۔ 1 فرد صرف یوسی کی نشست کے لیے 3 جگہ سے انتخاب لڑسکتا ہے یا نہیں قانونی چارہ جوئی کی جائےگی۔ جماعت اسلامی کی قانونی ٹیم مشاورت کرےگی اور دیکھے گی کہ کیا کوئی شخص صرف ایک یوسی کے لیے 3 جگہ سے انتخابات لڑسکتا ہے یا نہیں۔ قومی انتخابات قریب ہیں ،ہم بھرپور انتخابی مہم چلائیں گے ،بھرپور طریقہ سے کراچی کے عوام کی نمائندگی کریں گے۔ حکمرانوں کی تمام چال بازیوں کے باوجود بھرپور طریقہ سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام جان چکے ہیں کہ کون سی جماعت شہر کی ترقی کے لیے کام کررہی ہے۔ اب فوری طور پر عام انتخابات کی تیاری کے لیے کام شروع کرنا چاہیئے۔ نگراں حکومت کی جانب سے جنوری کے آخر میں عام انتخابات کا اعلان کردیاہے۔ جماعت اسلامی پورے پاکستان میں بھرپور طریقے سے عام انتخابات کی تیاری کررہی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کررہی ہے وہ بھی جاری رہے گی۔ ہم عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے آواز بنتے ہیں، محض نشستیں جیت کر مفادات کا سودا نہیں کرنا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم عوام کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سینٹ ، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں موجود نمائندے عوام کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ٹرانزیشن پیریڈ ختم نہ ہونے کے باوجود جماعت اسلامی کے ٹاؤن و یوسی چیئرمین بغٰیر اختیارات کے لیے کام کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد عوام کے مفاد کے لیے اور ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے ہے۔ ہم پورے ملک میں دین کے نفاذ کی جدوجہد کررہے ہیں تاکہ اللہ کی حکمرانی قائم ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاست عوام کی دنیاوی واخروی کامیابی کے لیے ہے۔ جماعت اسلامی کے منتخب ٹاؤن ویوسی چیئرمینز عوام کے ساتھ مل کر دعوت کے پیغام کو عام کریں۔ عوام کو اپنے ساتھ ملا کر مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کریں۔ جب تک عام لوگ جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر کام نہیں کریں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کونسل میں موجود خواتین بھی محلہ کمیٹیاں بنائے گی اور عام خواتین کو اپنے ساتھ ملا کر کام کریں گی۔ خواتین کی طرح مرد بھی محلہ کمیٹیاں بنائیں اور عام شہریوں کو اپنے ساتھ ملائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دعوت و تبلیغ کے لیے اس پلیٹ فارم کے استعمال کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے ۔ کراچی کی تعمیر و ترقی کے کام کو دین کی دعوت کے لیے استعمال کریں۔ اصلاح معاشرہ جماعت اسلامی کے لائحہ عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ محلہ کمیٹیاں بنانے میں کوآرڈینیٹرز بنائیں اور فلاح و بہبود کے کام کریں۔ شہر کے لوگ جماعت اسلامی سے محبت کرنے لگے ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنان نے شہر کے لیے جانیں قربانی کیں۔
انکا کہنا تھا کہ نگراں حکومت راتک کی تاریکی میں پیٹرول بم گرانے سے باز رہے۔ ہم نے کراچی میں 15 مقامات پر گاڑیاں بند کرکے پر امن دھرنا دیا۔ اگر حکومت نے پیٹرول بم گرایاتو کراچی میں بیک وقت 100 مقامات پر گاڑیاں بند کر کے دھرنے دیے جائیں گے۔ ہم گورنر ہاؤس پر بھی دھرنا دیں گے اور دوسری جگہ 100 سے زائد مقامات پر بھی دھرنا دیں گے۔ تعلیم کے شعبے کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سرکاری سطح پر اسکول میں اساتذہ پڑھانے ہی نہیں جاتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اساتذہ ہیں تو وہ ایسے ہیں جو رشوت کے عوض بھرتی کیے گئے ہیں۔ ایسے اساتذہ مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں جو خود تعلیم سے آراستہ نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی نے کرپشن کا گورکھ دھندا قائم کیا ہوا ہے۔ تعلیم کے اربوں روپے کے بجٹ میں بھی کرپشن کی جارہی ہے۔ برادری کی بنیاد پر فلاح و بہبود کا کام کرنا اچھی بات ہے لیکن لسانیت کی بنیاد پر حق اور سچ کی بات کرنا بری بات ہے۔ اندرون سندھ میں لسانیت و عصبیت کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے۔ سندھی اور ہاریوں کی کوئی اجرت نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ وڈیروں اور جاگیرداروں نے ہاریوں اور سندھیوں کو غلام ابن غلام بناکر رکھا ہوا ہے۔ وڈیرے اور جاگیردار اپنی ہی زبان ، اپنی ہی قوم کے لوگوں کو ظلم کرتے ہیں۔ وڈیروں اور جاگیرداروں کے ظلم سے نجات دلانا ہم سب پر فرض ہے۔ کراچی کے شہری جہاں جہاں موجود ہیں حق اور سچ کی بنیاد پر آواز بلندکریں۔ عوامی جدوجہد سے سندھ کی زمین کو وڈیروں کے ظالمانہ نظام سے نجات دلائیں گے۔ کراچی میں پارکوں میں قبضہ کر کے سیکٹر آفسز بنائے گئے تھے۔ کراچی کے عوام ایم کیو ایم کو مسترد کرچکے ہیں۔ جس پارٹی کا نام بھتہ خوری، قتل و غارت گری ہو اسے عوام مسترد کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ ایک مرتبہ پھر سے ایم کیو ایم کے غبارے میں ہوا بھرنے کی کوشش کررہی ہے۔ کراچی کے شہری ان بھتہ خوروں اور قاتلوں کو مسترد کرچکے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ سن لے کہ اب ایم کیوا یم کے غبارے میں ہوا کسی صورت بھری نہیں جاسکتی۔