کوئی جماعت سوائے پیپلز پارٹی کے مزدوروں کی بہتری کے لئے کام نہیں کررہی ہے۔ سعید غنی
سعید غنی نے کہا کہ ہم نے سیسی کی گورننگ باڈی میں فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹری ورکر جو پہلے 2 گریڈ میں ہوتا تھا اس کو اب 4 گریڈ میں کردیا جائے گا
کوئی جماعت سوائے پیپلز پارٹی کے مزدوروں کی بہتری کے لئے کام نہیں کررہی ہے۔ سعید غنی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ اب اس ملک کے مزدوروں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس ملک کی ایک سیاسی جماعت اور قیادت جس سے امید ہے کہ وہ مزدوروں کے لئے بہتر کرے گی اس کے ساتھ ہونا ہوگا اور وہ جماعت پیپلز پارٹی اور قیادت بلاول بھٹو زرداری ہے۔ اس ملک کی 75 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی نجکاری ہے، جس نے اس ملک کو کھوکھلا کردیا ہے۔ اس ملک میں جن جن اداروں کی نجکاری ہوئی ہے، اس میں سے 90 فیصد سے زائد ادارے بند ہوچکیں ہیں اور ان کی زمینیں بک گئی ہیں یہ بند ہوگئے ہیں۔
اداروں کو بہتر کرنے کے خلاف ہم نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز لیبر بیورو کراچی ڈویژن کے تحت آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں یکم مئی کے حوالے سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ سے پیپلزپارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر وقار مہدی، پیپلز لیبر بیورو سندھ ہے صدر حبیب جنیدی، کراچی ڈویژن کے صدر اسلم سموں، نجمی عالم، آرٹس کونسل کے صدر سید احمد شاہ، کراچی پریس کلب کے صدر سعید سربازی، پائلر کے کرامت علی و دیگر نے خطاب کیا۔ جلسہ میں پیپلز لیبر بیورو کراچی کے سیکرٹری، متعدد اداروں کی لیبر یونین کے صدور، جنرل سیکٹریرز و ممبران سمیت مزدوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میں آج کے دن شکاگو کے ان شہداء کو سلام پیش کرتا ہوں کہ جن کی یاد میں آج دنیا بھر میں مزدوروں کا یہ دن منایا جاتا ہے اور ان شہداء کی شہادتوں کے ثمر میں آج دنیا بھر میں مزدوروں کو اوقات کار ملے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مزدوروں کی بقا، بہتری اور فلاح و بہبود کے لئے کوئی سیاسی جماعت کام کررہی ہے تو وہ صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تمام جماعتیں دعوے ضرور کرتی ہیں اور شاید آج مزدوروں کا عالمی دن بھی منا رہی ہیں، مزدوروں کی شان میں قصیدے بھی پڑھ رہی ہوں گی لیکن کوئی جماعت سوائے پیپلز پارٹی کے مزدوروں کی بہتری کے لئے کام نہیں کررہی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت ملک کو سب سے بڑا چیلنج معاشی عدم استحکام اور مہنگائی ہے، جس کی چکی میں غریب اور مزدور پس رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے میڈیا، عدلیہ اور کچھ سیاسی جماعتوں کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب میں سینیٹر تھا تو سینیٹ میں میاں رضا ربانی اور میں نے ایک آئینی بل پیش کیا کہ پارلیمنٹ میں مزدوروں کی نمائندگی ہو تاکہ وہ قانون سازی میں مزدوروں کے لئے کردار ادا کریں لیکن افسوس اس وقت بھی پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام جماعتوں بشمول ایم کیو ایم، اے این پی، مسلم لیگ نون اور دیگر نے اس بل کی مخالفت کی۔ سعید غنی نے کہا کہ اس ملک کی اکثریت مزدوروں کی ہے۔ آج ہم بلدیاتی اداروں میں مزدوروں کی نشست تو رکھتے ہیں لیکن جہاں مزدوروں کے لئے قانون بننے ہیں اس فارم پر مزدوروں کو کوئی نمائندگی نہیں دی جارہی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس ملک کی اصل طاقت مزدور اور محنت کشوں کی ہے، جن کے بل بوتے پر سیاسی جماعتیں بنتی ہیں۔ اب اس ملک کے مزدوروں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جو ایک جماعت اور قیادت مزدوروں کے حقوق اور ان کی حالت زار کو بہتر بنانا چاہتی ہے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری ہیں تو ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام حلقوں کے غریب اور مزدور ایک طرف ہو جائیں تو سارے سردار اور شیخ اس میں بہہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس ملک کے غریب اور مزدوروں کے حالات بہتر نہیں ہوں گے اس ملک کے حالات بھی بہتر نہیں ہوسکیں گے۔ اب سب کو مل کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ کو اپنی طاقت بھلائی کے لئے استعمال کرنا ہے یا اس ملک کی تباہی کے ذمہ دار سیاسی جماعتوں کے لئے استعمال کرنا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج اس ملک کے مزدوروں کے حالات اور صورتحال 1866 کے حالات سے زیادہ اچھے نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر مزدور کارڈ کے اجراء میں ہونے والی تاخیر کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں نے اس کارڈ کے اجراء کی تجویز نہیں دی بلکہ یہ ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے اور اس کی رہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کا دور کرکے اب اس پر تیزی سے کام شروع کردیا گیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جلد ہی تمام انڈسٹریل مزدور کو کارڈ جاری ہوجائے کے بعد اس کی انڈسٹریل ورکر کی شرط کو ختم کرکے اسے تمام مزدوروں کو یہ کارڈز جاری کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ تنقید کرتے ہیں انہیں نہیں معلوم کہ یہ کام بینظیر انکم سپورٹ سے بھی بڑا کام ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے سیسی کی گورننگ باڈی میں فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹری ورکر جو پہلے 2 گریڈ میں ہوتا تھا اس کو اب 4 گریڈ میں کردیا جائے گا اور جلد ہی اس حوالے سے وزیر اعلٰی سندھ کو بھی تمام صوبائی محکموں میں سینیٹری ورکرز کا گریڈ 4 کرنے کی استدعا کروں گا۔
سعید غنی نے کہا کہ اگر کسی مزدور نے غلط کام کیا تو اِس خلاف کارروائی کے خلاف ہم نہیں ہیں لیکن ادارہ نہ چلنے پر بیچ دینا یہ ایک جرم ہے، انہوں نے کہا کہ کیا اگر پولیس کام نہیں کرتی تو کیا اِس بیچ دیں۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دیگر رہنمائوں نے بھی مزدوروں کے ان حقوق اور ان کے اوقات کار پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہر دور میں مزدوروں اور محنت کشوں کو نہ صرف ان کے حقوق دلوائے بلکہ مزدوروں کو 12 فیصد کاروبار میں حصہ دار بنایا۔