Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

حالیہ بارشوں نے نظام کی خرابیوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے، شہر تباہ حال تھا، سندھ حکومت اور بلدیاتی نمائندے لاپتہ تھے۔ علی خورشیدی

میئر کراچی کو اس شہر کا مقدمہ لڑنا چاہیے تھا۔ ضلعی خودمختاری پر شب خون مارا جا رہا ہے۔ علی خورشیدی

0

جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے اس فرسودہ بلدیاتی نظام کو نافذ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اور الیکشن میں حصہ لے کر شہر کی تباہی میں اپنا حصہ ڈالا۔ علی خورشیدی

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نہ ذوالفقار علی بھٹو کے آئین، نہ ہی سپریم کورٹ کے احکامات اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری کی سوچ کو مانتی ہے۔ سندھ حکومت خود بلدیاتی نمائندوں کو ناکام کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے اربوں روپے سندھ حکومت لے لیتی ہے، پی ایف سی ایوارڈ کا اجراء نہ کر کے ڈسٹرکٹس پر شب خون مارتی ہے۔ حالیہ بارشوں نے نظام کی خرابیوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے، شہر تباہ حال تھا، سندھ حکومت اور بلدیاتی نمائندے لاپتہ تھے، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے اس فرسودہ بلدیاتی نظام کو نافذ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اور الیکشن میں حصہ لے کر شہر کی تباہی میں اپنا حصہ ڈالا۔

آج ان کے چیئرمین اور وائس چیئرمین ہیں لیکن شہر کا حال دیکھ لیں، چند اہم شاہراہوں کے علاوہ شہر تالاب کا منظر پیش کرتا ہے۔ یہ سندھ اور بلدیاتی حکومتوں کی ناکامی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی کے باہر حق پرست اراکینِ صوبائی اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بلاول بھٹو کے وژن کے برخلاف بلدیاتی نمائندوں کو فیل کرنے کے درپے ہے، میئر کراچی کو اس شہر کا مقدمہ لڑنا چاہیے تھا۔ ضلعی خودمختاری پر شب خون مارا جا رہا ہے۔

یہ خود مرتضی وہاب کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ صرف کراچی نہیں پورے صوبے کے بلدیاتی نمائندوں کو با اختیار کرنے کی بات کر رہے ہیں، اگر اداروں کو مضبوط کرتے تو بارشوں میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں کرنا پڑتا۔ اراکین اسمبلی کا کام سڑکوں سے پانی نکالنا نہیں، خود مختار ضلعی حکومتوں کا نظام رائج کیا جائے۔ جب ایم کیو ایم کا مئیر آئے تو لے لینا اختیار پھر سیاست کر لینا ابھی تو پیپلز پارٹی کا میئر ہے اسکو تو اختیار دو۔ میئر مالی اور انتظامی طور پر با اختیار ہی نہیں، جسکا خمیازہ شہر بھگت رہا ہے۔ بلدیاتی نمائندگان کا تو عوام سے کوئی رابطہ ہی نہیں ہے، سندھ کے دیگر علاقوں میں لوگ پریشان ہیں، حیدرآباد سے آگے بدین تک چلے جائیں تو بلدیاتی معاملات انتہائی خراب ہیں، حیدرآباد کے کسی علاقے کہ صورتحال ٹھیک نہیں، پانی کی نکاسی قدرتی طور پر جب تک ہوتی ہے تب تک سڑک تباہ ہو جاتی ہے۔

کشمور تک چلے جائیں وہاں تو ایم کیو ایم نہیں وہاں کونسی بوریاں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سب اپنی ناکامی چھپانے کے لئیے سیاسی بیان بازی کی جاتی ہے۔ پورے شہر میں ایک وقت میں پچاس ملی میٹی بارش نہیں ہوئی۔ کچھ جگہوں پر جہاں زیادہ بارش ہوئی وہاں کئی دنوں تک پانی کھڑا رہا جو شہریوں کی تکلیف کا باعث بنا. کراچی سندھ کا دل ہے، شہر کی اندرون گلیاں سب کی سب برباد ہیں، ہم انکو شہر کا مئیر سمجھتے تھے یہ شاہراہ فیصل کے مئیر بن گئے ہیں، ان حالات میں انکے مانگے تانگے کہ ترجمان سیاسی پوانٹ اسکورنگ پر لگ جاتے ہیں۔ عاشور کے موقع پر کروڑوں روپے کا پیچ ورک کیا گیا جو پچاس دن نہیں گزرے اکھڑ گیا۔

سندھ کے حکمران اپنا ہاؤس ان آڈر کریں، عوام کی خدمت کریں، لوگ اپنے کام سے جانے جاتے ہیں، کراچی میں مصطفیٰ کمال کے زمانے کے بعد ترقی نا پید ہوچکی ہے۔

Comments
Loading...