لیگل ایڈ کمیٹی کے اراکین کی ضرورت ایوانوں میں بھی ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وکالت کی ڈگری حاصل کریں تاکہ اپنے لوگوں کے قانونی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرسکیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
لیگل ایڈ کمیٹی کے اراکین کی ضرورت ایوانوں میں بھی ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد سے متصل پارک میں لائیرز فورم کے اجلاس سے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب نے کراچی کے تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھنی ہوگی۔ ریاست پر بننے والی تنظیمیں ہیڈ لائن بنتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ 92کے آپریشن ایم کیو ایم ایک موثر جماعت بن کر ابھری ہے۔
ہمارے لیگل ایڈ کے وکلاء نے 92آپریشن میں جس طرح کا م کیا وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں لیگل ایڈ کمیٹی کے اراکین کی ضرورت ایوانوں میں بھی ہے تاکہ عوام کے مسائل بہتر انداز میں حل کئے جا سکیں طاقت ایم کیو ایم کے اندر ہے باہر نہیں ہم سب کے پاس ایم کیو ایم کو مضبوط اور مستحکم بنانے کیلئے موقع ہے وقت آنے والا ہے جس میں لائیرز فورم کی ضرورت پڑے گی ایم کیو ایم نے کبھی خاندانوں کی سیاست نہیں کی ہمیشہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو ایوانوں میں بھیجا ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ آپ سب مزید وکلاء کو ایم کیو ایم لائیرز فورم میں شامل کروائیں تاکہ جلد سے جلد تمام قانونی مسائل حل ہوسکیں لیکن یاد رہے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا لائیرز فورم میں ممبر سازی مہم جلد سے جلد شروع کی جانی چاہئے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ وکلاء پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جھوٹ کو سچ ثابت کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے جوکہ ہمارے وکلاء بڑی محنت سے دلائل کے ذریعے جھوٹے کیسز کوختم کرتے ہیں جیلوں میں جواسیر کارکنان عرصہ دراز سے ہیں لیگل ایڈ فورم جلد سے جلد قانونی تقاضے فراہم کرکے ان کی رہائی کے اقدامات کریں۔ڈاکٹر خالد مقبول نے کہا کہ کراچی کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وکالت کی ڈگری حاصل کریں تاکہ اپنے لوگوں کے قانونی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر سکیں۔
کے ایم ڈی سی بنانے کے بعد یم سے ہمارے تمام وسائل کو صلب کر دیا گیا تھا تاکہ کراچی کے نوجوان پڑھ لکھ کر آگے نا بڑھ جائیں۔انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کا بیانیہ چھوٹا اور شخصیت بڑی تھی تحریک انصاف ایک کچے مکان کی طرح قائم کی گئی تھی جس کا کوئی پلر نہیں تھا ان کی سیاست ایک جھوٹ پر مبنی سیاست پر قائم تھی۔اس موقع پر اراکین رابطہ کمیٹی بھی موجود تھے۔