ایم کیو ایم پاکستان نے یاسر حمیدی اور دیگر ساتھیوں کو تنظیمی کام سے روک دیا
ایم کیو ایم پاکستان کی طرف سے کارکنان کو تنظیمی کام سے روکنے کا سلسلہ نا رک سکا۔
ایم کیو ایم پاکستان نے یاسر حمیدی اور دیگر ساتھیوں کو تنظیمی کام سے روک دیا
تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے مورخہ 12 جولائی 2025 بروز ہفتہ کو ایک ٹوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔ جس میں لکھا تھا کہ “انتہائی اہم سرکلر” نظم و ضبط کی خلاف ورزی پرنارتھ ناظم آباد ٹاؤن ممبر ہارون، یوسی 23 کے آرگنائزر نعیم، یوسی25/اے کے آرگنائزر عُمرعبداللہ، یاسر حمیدی اور کامران صدیقی کو واقعے کی انکوائری ہونے تک تنظیمی کام سے روکا جارہا ہے۔ لہذا تمام ذمہ داران اور کارکنان ان ساتھیوں سے رابطہ نہ رکھے۔ سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان)
یاسر حمیدی کی معطلی ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ خاص طور پر جب وہ جماعت کے لیے طویل عرصے سے مخلصانہ خدمات انجام دیتے رہے ہوں۔ ایسی صورتحال میں کچھ اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
معطلی کی وجوہات کیا تھیں؟ کیا یہ معطلی کسی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ہوئی ہے، یا پھر اندرونی سیاسی چپقلش کا نتیجہ ہے؟ کیا جماعت کی اعلیٰ قیادت نے یاسر حمیدی کو وضاحت کا موقع دیا؟
ایک متحرک کارکن کو معطل کرنے سے پہلے انصاف کے تقاضے پورے کیے جانے چاہییں۔ کارکنوں میں مایوسی یا بےچینی؟ اس طرح کی اچانک کارروائیوں سے دیگر کارکنوں کے حوصلے متاثر ہو سکتے ہیں اور اعتماد میں کمی آ سکتی ہے۔
تنظیم کے شفافیت کے دعوے؟ کیا یہ فیصلہ شفاف طریقے سے کیا گیا یا محض چند افراد کی رائے پر؟ اگر یاسر حمیدی نے واقعی کوئی تنظیمی ضابطہ توڑا ہے تو اُس کی وضاحت سامنے آنی چاہیے۔
اگر نہیں، تو ان کی معطلی صرف پارٹی کے اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے، جو کہ ایک جمہوری جماعت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
یاد رہے کہ یاسر حمیدی اور عُمرعبداللہ بفرزون میں پانی کے مسلہ کو لےکر ہمیشہ عوام کے درمیان موجود رہے ہیں۔ عوام کو ان کے فیصلوں پر بہت بھوسہ رہا ہے اور پانی کے حوالے سے بفرزون کی عوام ان کو اپنی شکایت بھی نوٹ کراتی رہی ہے۔
