مصطفیٰ کمال کا صحت سہولت پروگرام کے مرکزی ڈیٹا سینٹر کا دورہ
وزارت صحت جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ مصطفیٰ کمال
مصطفیٰ کمال کا صحت سہولت پروگرام کے مرکزی ڈیٹا سینٹر کا دورہ
کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت یونیورسل میڈیکل ریکارڈ کا کوئی نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے مریض کی مکمل طبی ہسٹری تک فوری رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ صحت سہولت پروگرام کے نیشنل ڈیٹا بیس کے تحت ایک یونیورسل میڈیکل ریکارڈ سسٹم قائم کیا جائے۔
جس میں ہر شہری کے شناختی کارڈ نمبر کو ہی اس کا میڈیکل ریکارڈ نمبر قرار دیا جائے۔ اس نظام کے تحت پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا لائیو اور جامع صحت ڈیٹا موجود ہوگا۔ اس سسٹم سے عوام کو علاج کی سہولت میں نمایاں آسانی میسر آئے گی اور ڈاکٹرز مریض کے سابقہ طبی ریکارڈ تک فوری رسائی حاصل کر سکیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں واقع اسٹیٹ لائف بلڈنگ میں صحت سہولت پروگرام کے مرکزی ڈیٹا سینٹر کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ اور جوائنٹ سیکرٹری ہیلتھ بھی وزیر صحت کے ہمراہ موجود تھے۔ وزیر صحت کو سی آئی او صحت سہولت پروگرام اور پروجیکٹ ڈائریکٹر اسٹیٹ لائف کی جانب سے ڈیٹا سینٹر کے امور اور فنکشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
انہوں نے ڈیجیٹل کلیمز سنٹر کا بھی دورہ کیا جہاں بتایا گیا کہ صحت سہولت پروگرام نے ای-کلیم سسٹم کے نفاذ سے پیپرلیس انوائرمنٹ کو فروغ دیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صحت سہولت پروگرام کے تحت پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل ہیلتھ ڈیٹا بیس قائم کیا جا چکا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کے مستند اور بروقت اعداد و شمار تک رسائی نہ صرف بروقت علاج میں مدد دیگی بلکہ وزارت کو صحت عامہ کی مؤثر پالیسی سازی میں بھی رہنمائی فراہم کریگی۔
مصطفیٰ کمال نے بیماریوں کے رئیل ٹائم ڈیٹا کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وزارت صحت جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔