کراچی میں ایک افسوس ناک واقعہ کل لیاری میں پیش آیا، کیوں کہ کراچی کو مافیاز کے سپرد کر دیا ہے۔قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشیدی
ایم کیو ایم مرکز بہادرآباد میں قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشیدی و اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کی پریس کانفرنس
اس نظام کو ٹھیک کرنا حکومت کا کام ہے۔مطالبہ ہے کہ کرپٹ افسران کو معطل نہیں ان کو فارغ کیا جائے۔ علی خورشیدی
کراچی : ایم کیو ایم مرکز بہادرآباد پر پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے اراکین اور قومی اسمبلی کے ہمراہ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ایک افسوس ناک واقعہ کل لیاری میں پیش آیا،یہ بلڈنگ مخدوش تھی ایس بی سی اے نے نوٹس دیا ہوا تھا۔
حادثے میں جاں بحق افراد کی اللہ پاک مغفرت فرمائے۔ ایسا واقعہ پہلی بار پیش نہیں آیا اس سے پہلے بھی درجنوں واقعات ہو چکے ہیں۔اس شہر میں ایس بی سی اے کے افسران کی سرپرستی سے غیر قانونی تعمیرات کا دھندہ عروج پر ہے،یہ بات شہر کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ حکومت کا کام نوٹس جاری کرنا نہیں ہوتا کہ بلڈنگ خالی کر دیں۔متاثرین کو دوسری چھت بھی فراہم کرنا حکومت کا کام ہے،نوٹس دے کر زمہ داری سے بری ہوجانا مناسب نہیں، آگے آنے والے دنوں میں بھی ایسے واقعات ہوں گے۔
شہر میں لوگوں کو مارا جا رہا ہے لیکن غیرقانونی تعمیرات اب بھی ہو رہی ہیں۔ایس بی سی اے افسران اربوں روپے رشوت لے رہے ہیں،شہر کراچی کو مافیاز کے سپرد کر دیا ہے۔ اس شہر میں ڈمپر مافیا،پانی مافیا، ایس بی سی اے مافیا ہے،پورے صوبے کا انتظامی نظام گر چکا ہے،حکومت نہ پانی، نہ انفراسٹکچر نہ تعلیم اور ناہی صحت دینے کو تیار ہے۔سندھ میں کوئ بھی قانونی کام رشوت کے بغیر ممکن نہیں،اس وقت ٹریفک پولیس نے رشوت ستانی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔اس طرح شہر اور صوبہ نہیں چلتا سکتا،شہری قانونی طور پر گھر بناناچاہے تو مشکلات میں آجاتا ہے اور پھر رشوت دیتا ہے۔کل اور پہلے والے تمام اموات کی زمہ دار سندھ حکومت ہے۔جن افسران کو معطل کیا وہ کچھ دنوں بعد کہیں اور رشوت دے کے بحال ہو جائیں گے۔بلاول بھٹو اور ذرداری صاحب سندھ حکومت آپ کا وزیٹنگ کارڈ ہے۔
صدر صاحب مذمت نہیں ان لوگوں کی مرمت کرنے چاہیے۔ سندھ حکومت کے ترجمانوں کا بس چلے تو لیاقت علی خان اور قائداعظم پر بھی تنقید شروع کر دیں،درجن بھر کے ترجمانوں کا کام یہ ہے کہ ان کا بیان سب سے پہلے چلے،ان حادثات کو روکنے کے لئے حکومت کے پاس کیا پالیسی ہے وہ بتائیں۔ کسی ترجمان نے واقع پر معافی نہیں مانگی۔ اس نظام کو ٹھیک کرنا حکومت کا کام ہے۔مطالبہ ہے کہ کرپٹ افسران کو معطل نہیں ان کو فارغ کیا جائے،جب حکومت کو پتہ ہے کہ لوگ رشوت لے رہے ہیں ان کو فارغ کیا جائے۔موٹر سائیکل نمبر پلیٹ پر غریب لوگون کو تنگ کر رہے ہیں،حکومت کو اس معاملے پر لوگوں کو ٹائم دیا جانا چاہیے تھا۔
ایکسائز دفتر میں حال تو دیکھیں وہ کیا چل رہا ہے،جب کپیسٹی نہیں تھی تو یہ نظام لائے ہی کیوں۔ رُکن قومی اسمبلی ڈاکٹر ارشد وہرہ کا کہنا تھا کہ چند دن قبل لیاری میں عمارت گری اس کے ساتھ والی بلڈنگ کو بھی سیل کر دیا۔اس میں کئی مریض بھی رہائش پذیر تھیں ساری رات کو گھر سے باہر بیٹھے رہے۔ کسی نے متبادل جگہ نہیں دی لوگ باہر بیٹھے رہے میں کمشنر اور دیگر کو فون کرتا رہا کسی نے جواب نہںں دیا، 70 سال پرانی عمارتیں ہیں ان کے مالکان کہاں سے لاو گے,ان لوگوں کو چھت دینا حکومت کی زمہ داری ہے.
کراچی کا جی ڈی پی میں حصہ پچیس فیصد ہے جس کی آبادی تین کروڑ ہے۔ سب سے زیادہ ٹیکس کراچی دیتا ہے اس کا یہ حال کر دیا ہے۔مخدوش عمارتوں کے مکینوں کو حکومت متبادل جگہ یا گھر دے۔ ورلڈ بنک کے تعاون سے یہ پروگرام شروع کرے،اس کے لئے وفاق کو بھی آگے آنا ہو گا۔ اس موقع پر رُکن سندھ اسمبلی و ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد، و اراکینِ سندھ اسمبلی بھی موجود تھے۔