نوجوان سیاسی جماعتوں کا منشور پڑھیں، آئین پڑھیں اور پھر سیاسی جماعت کا فیصلہ کریں۔ سعید غنی
وزیر بلدیات سندھ سعید غنی مقامی ہوٹل میں محکمہ اسپورٹس اینڈ یوتھ افئیرز اور یوتھ پارلیمنٹ کے تحت منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔
نوجوان سیاسی جماعتوں کا منشور پڑھیں، آئین پڑھیں اور پھر سیاسی جماعت کا فیصلہ کریں۔ سعید غنی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ دنیا میں چند ممالک ایسے ہیں جہاں نوجوانوں کی اتنی اور یہ بہت عام طور پہ کہا بھی جاتا ہے کہ نوجوان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ اگر آج ہمارے نوجوان سیاست میں نہیں آئینگے، صرف کسی کے لیے نعرے لگائیں گے اور گھر چلیں جائیں گے تو مستقبل کیا ہوگا۔ نوجوان سیاسی جماعتوں کا منشور پڑھیں، آئین پڑھیں اور پھر سیاسی جماعت کا فیصلہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں محکمہ اسپورٹس اینڈ یوتھ افئیرز اور یوتھ پارلیمنٹ کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سعید غنی نے کہا کہ اس وقت بھی پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی 60 فیصد پر مشتمل ہے اور یہ دنیا میں چند ممالک ایسے ہیں جہاں نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت عام طور پہ کہا بھی جاتا ہے کہ نوجوان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ جب میں نے پہلی دفعہ الیکشن لڑا تو اسوقت میری عمر 22 سے 23 سال یعنی آپکے برابر ہی تھی۔ کل میں چلا جاؤنگا تو کسی نہ کسی کو تو سامنے آنا ہوگا، لیکن بدقسمتی سے ہماری نئی نسل کو ایک منصوبے کے تحت غیر سیاسی کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ہمارے نوجوان سیاست میں نہیں آئینگے، صرف کسی کے لیے نعرے لگائیں گے اور گھر چلیں جائیں گے تو مستقبل کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یوتھ پارلیمنٹ نوجوانوں کو آگہی فراہم کرنے میں اہم کردار کررہی ہے۔ آج اگر ہمارے اچھے نوجوان آگے آکر معاشرے میں فاصلےکو کم نہیں کرینگے تو کوئی بڑا آئے گا۔
سعید غنی نے کہا کہ آج بھی بہت سےلوگ سینٹ اور اسمبلی میں فرق نہیں کر پاتے۔ اگر آج ہمارے نوجوان ملک کے معاملات میں دلچسپی نہیں لینگے تو فاصلے بڑھےگے۔ سعید غنی نے کہا کہ نوجوان سیاسی جماعتوں کا منشور پڑھیں، آئین پڑھیں اور پھر سیاسی جماعت کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں اگر اپنی بات کروں تو میں نے محنت کی، مجھے پوزیشن ملی اور وزارت بھی آج ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے سیاست کا آغاز کیا اس وقت کا نظام اور آج کا نظام وہیں کھڑا ہےجہاں کل کھڑا تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ 1988 میں جب میں کالج میں پڑھتا تھا اس وقت ضیاء کی آمریت کا خاتمہ ہوچکا تھا اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنی تھی اس وقت ہم نے ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا اور ہمارے اساتذہ اس وقت بھی پیپلز پارٹی کے کسی وزیر کا استقبال یہ کہہ کر کروانے سے خوفزدہ تھے کہ یہ پیپلز پارٹی کے وزیر ہیں حالانکہ اس وقت جمہوریت تھی اور آمریت ختم ہوچکی تھی۔ لیکن ہم میں اس وقت بھی خوف تھا اور ہمارے اساتذہ پولیٹسائیز نہیں ہونا چاہتے تھے۔
ان دنوں میں کالج کے شائع ہونے والے میگزین میں میرا آرٹیکل شائع کروایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں آمریت کے اثرات موجود ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ ہم پولیٹسائیز ہوں اور اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو اس ملک کی 60 فیصد نواجوان آبادی اس ملک کی سیاست کا اگر حصہ نہ بنی اور سیاست کو نہیں سمجھیں گی اور کسی کے کہنے پر صرف نعرے لگائے گی اور جلسوں میں جائے گی۔ تو اس ملک کی سیاست اور حکومت کیسے چلے گی۔