ٹاون کی اجازت اور بلدیاتی نمائیندوں کی موجودگی میں عوام کو پریشان کرنے کا سفر جاری ہے
شادمان ٹاون مشین کے ذریعے سے کھدائی کی وجہ سے عوام کافی پریشان، کوئی سننے والا نہیں۔
ٹاون کی اجازت اور بلدیاتی نمائیندوں کی موجودگی میں عوام کو پریشان کرنے کا سفر جاری ہے
تفصیلات کے مطابق شادمان ٹاون سیکٹر 14-اے اور سیکٹر 14-بی میں سوئی گیس کمپنی کی طرف سے نئی لائین ڈالنے کے لئے کھدائی کا کام جاری ہے۔ شادمان ٹاون میں جہاں جہاں بھی کام ہو رہا ہے وہاں یوسی کے کونسلر اور کوآرڈینیٹر موجود ہیں جو اپنی نگرانی میں یہ کھدائی کا کام کرا رہے ہیں۔ مشین سے کھدائی کرتے وقت اس بات کا خیال بھی نہیں رکھا جارہا ہے کہ عوام کے اپنے پیسے ڈلی ہوئی گٹر اور پانی کی لائین کو بچایا جائے۔ جو لائین بھی راستے میں آرہی ہے اس کو برباد کردیا جارہا ہے۔ یوسی کونسلر عوام کو اس بات کا یقین دلا رہے ہیں کہ سب کو ٹھیک کیا جائے گا لیکن ٹھیک کرنے کے نام پر گلی کو چھوڑ کر دوسری طرف کام شروع کردیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے علاقہ کے لوگ کافی پریشان ہیں اور واٹس ایپ گروپ میں ویڈیو اور تصاویر شئیر کرتے نظر آرہے ہیں۔
شادمان ٹاون، شادمان مسجد کے سامنے والی گلی میں مشین سے بگیر بتائے کھدائی کا کام شروع کردیا گیا۔ اس کی وجہ یہ سامنے آئی کہ حیدرفوڈز کے پاس سڑک پر کھدائی کی جارہی تھی۔ اس کو یوسی کی ٹیم نے روک دیا اور ایکدم سے مشین کو شادمان مسجد کے سامنے والی گلی میں لےجایا گیا اور کھدائی شروع کردی۔ جیسا یہ سب کو معلوم ہی ہے کہ یوسی 2 چئیرمین نے کچھ مہنے پہلے ہی اس گلی میں نئی گٹرلائین ڈلوائی تھی جس کے بعد گلی میں رہنے والوں نے اپنے خرچہ پر پائیپ منگوائے اور اپنے اپنے گھر کے کنکشن اس مین لائین سے کئے۔ پوری گلی کا نیا سیوریج سسٹم ہوگیا۔ لیکن اب سوئی گیس نے اپنی نئی لائین ڈالنے کے چکر میں تمام گھر والوں کے پائیپ توڑ دئیے اور ان کو بنایا بھی نہیں اور کام کو ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔
سب سے پہلے بات یہ سامنے آئی کہ وارڈ نمبر 3 کے کونسلر نے خود کھڑے ہوکر اس وارڈ میں کام نہیں کریا اور وہ یہاں آئے بھی نہیں۔ وارڈ نمبر 1 کے کونسلر نے اپنی موجودگی میں کام کرایا اور عوام کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ جو جو نقصان ہوا ہے اس کو بنوایا بھی جائے گا۔ عوام نے اپنے پیسے خرچ کئے اور پائیپ خریدے لیکن ان کو بھی کہیں اور استعمال کرلیا گیا یا پھر اس کوتوڑ کر جیسے تیسے لگاکر کھڈا بندکردیا گیا۔ اب گلی کا یہ حال ہے کہ کچھ کھڈے کھدے پڑے ہیں اور 3 دن سے ان میں پانی بھرا ہوا ہے اور کوئی کام کرنے نہیں آرہا ہے۔ گلی میں نا گاڑی داخل ہوسکتی ہے اور ناہی کوئی موٹر سائیکل۔ اگر کسی کے گھر کوئی ایمرجنسی ہوجائے کسی کے گھر تو کون ذمہ دار ہوگا ؟؟؟
یوسی چئیرمین کو بھی اس بات کی اطاع کردی گئی ہے اور سوئی گیس کی کمپنی کے کام کے حوالے سے واٹس ویپ گروپ میں بھی اس کی اطلاع کردی گئی ہے لیکن3 دن گزر جانے کے بعد بھی کوئی اس کام کو ٹھیک کرنے نہیں آیا ہے۔ شادمان ٹاون میں شروعات میں یہ حال ہوا ہے تو کام ختم ہوتے ہوتے کیا حال ہوگا یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ جماعت اسلامی نے کہا تھا کہ ہم عوام کی مشکلات میں عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ لیکن اب ایسا دیکھنے میں آرہا ہے کہ عوام کو مشکل میں ڈال کر غائیب رہیں گے۔
مئیر کراچی مرتضی وہاب صاحب سے علاقہ مکین کی درخواست ہے کہ کراچی کے مئیر ہونے کے ناتے وہ اس معملے کو دیکھیں اور عوام کی اس مشکل میں ان کا ساتھ دیں۔
شادمان ٹاون سیکٹر 14-اے میں سوئی گیس کی مین لائین ڈالنے کے دوران پی ٹی سی ایل کا نقصان۔ اس کو بھی کھلا چھوڑ کی لوگ فرار ہوگئے اور کوئی اس میں گرگیا تو ذمہ دار کون ہوگا ؟؟؟
