Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

سندھ کے پانی اور وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے جسے کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد سے صدر سندھ یونائیٹڈ پارٹی و کنوینر دریائے سندھ بچاؤ تحریک سید زین شاہ کی ملاقات

0

سندھ کے پانی اور وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے جسے کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

کراچی: سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے اعلیٰ سطحی وفد نے صدر و کنوینر دریائے سندھ بچاؤ تحریک سید زین شاہ کی قیادت میں مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔ سید زین شاہ نے آفاق احمد کی جانب سے سندھ کے پانی پر ڈاکے کے خلاف آواز اٹھانے کا خیر مقدم کیا اور دریائے سندھ پر قبضے اور چھ کینال نکالنے کے منصوبے پر سندھ کو درپیش سنگین خطرات سے آگاہ کیا۔ وفد میں جگدیش آھوجا، منیر نائچ، خواجہ نوید امین جبکہ ملاقات میں شوکت اللہ فاروقی، شائد سرفراز، فیصل بخاری و دیگر موجود تھے،

ملاقات کے دوران ملک اور سندھ کی صورتحال سمیت سندھ میں مستقل طور پر آباد برادریوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کے معاملات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سندھ کے پانی پر جبری قبضے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے پانی اور وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے جسے کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہمارے سیاسی نظریات پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن سندھ کے پانی اور سندھ میں مستقل طور پر آباد لوگوں کے تحفظ کے لئیے ہم آخری حد تک جائیں گے۔ گرین پاکستان انیشیٹو منصوبے کی آڑ میں انڈس بیسن اریگیشن سسٹم پر چھ نئے کینالوں کی کھدائی کے ذریعے نہ صرف موجودہ آبادکاروں کے حق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے بلکہ کراچی سمیت سندھ کے لوگوں کو پینے کے پانی سے بھی محروم کیا جا رہا ہے جو کہ شرمناک ہے۔ اس غیر قانونی اور غیر آئینی فیصلے کو فوری طور پر واپس لے کر سندھ کے ساتھ غاصبانہ رویہ بند کیا جائے۔ دریائے سندھ پر قبضہ سندھ کے عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

ملاقات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ قانون میں ترمیم کے ذریعے غیر ملکیوں اور دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کو ایک سازش کے تحت سندھ میں منظم طریقے سے آباد کرکے ڈومیسائل اور شناختی کارڈ جاری کئیے جا رہے ہیں۔ سندھ کے وسائل پر قبضے کو مستحکم کرکے مقامی آبادیوں کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرکے اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جس کے خطرناک نتائج بر آمد ہوں گے۔ ہمیں وہ قانون سازی چاہیے جو سندھ میں مستقل طور پر آباد افراد اور برادریوں کو تحفظ دے۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سندھی اور اردو بولنے والے سندھ کے مستقل باشندے ہیں اور ہمیں مل کر ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہو گا،

Comments
Loading...