سندھ حکومت نے بہت کام کیا ہے اور جہاں جہاں ابھی ضرورت ہے، وہ بھی منصوبے شامل ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ
سید ناصر حسین شاہ نے سکھر سمیت پورے صوبے کے تمام اسپیشل ایجوکیشن سینٹرز کو سولر سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
سندھ حکومت نے بہت کام کیا ہے اور جہاں جہاں ابھی ضرورت ہے، وہ بھی منصوبے شامل ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ
سکھر: ڈی ای پی ڈی سکھر ریجن اور ہوپ فار مین کائنڈ آرگنائزیشن کے تعاون سے گنگھوٹی گراؤنڈ میں خصوصی بچوں کے لیے اسپورٹس فیسٹیول منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر فیسٹیول-2025ء کی تقریب کے مہمانِ خصوصی توانائی، منصوبہ بندی اور ترقی کے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ تھے۔ اسپورٹس فیسٹیول کے موقع پر خصوصی بچوں نے سائن لینگویج میں قومی ترانہ پیش کیا اور سکھر ریجن کے 8 اسپیشل ایجوکیشن سینٹرز کے بچوں نے مارچ پاس بھی پیش کیا۔
اسپورٹس فیسٹیول-2025ء کا افتتاح تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر توانائی، منصوبہ بندی و ترقیات سید ناصر حسین شاہ نے کیا۔ فیسٹیول میں سکھر کے 5 سینٹرز، خیرپور کے 2 سینٹرز اور گھوٹکی کے ایک سینٹر کے بچوں نے کھیلوں میں حصہ لیا۔ اسپورٹس فیسٹیول میں سکھر ریجن کے خصوصی بچوں نے ریسلنگ، اسپون ریس، آرم ریسلنگ، ویل چیئر ریس، ٹگ آف وار اور میوزیکل چیئر سمیت مختلف کھیلوں میں شرکت کی۔
اسپورٹس فیسٹیول 2025 میں 300 سے زائد بچوں نے مختلف کھیلوں میں حصہ لیا، جبکہ گیمز میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اور پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں میں ٹرافیاں اور شیلڈز تقسیم کی گئیں۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر توانائی، منصوبہ بندی و ترقیات سید ناصر حسین شاہ نے سکھر سمیت پورے صوبے کے تمام اسپیشل ایجوکیشن سینٹرز کو سولر سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ آج کے اسپورٹس فیسٹیول کے خاص مہمان یہ خصوصی بچے ہی ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نےکہا کہ خصوصی بچوں کے اساتذہ، ٹرینرز اور دیگر ذمہ داران کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو کہیں اور بھی جا سکتے تھے، لیکن انہوں نے اپنا ٹیلنٹ ان بچوں کے لیے وقف کر دیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت نے بہت کام کیا ہے اور جہاں جہاں ابھی ضرورت ہے، وہ بھی منصوبے شامل ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ خصوصی بچوں کے والدین کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں، یہ ان کی بھی محنت کا نتیجہ ہے، جو چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو بھی تعلیم اور ایسی سہولیات میسر ہوں۔ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی مراکز کھولنے کے حوالے سے خصوصی ہدایات دی ہیں، اور سندھ میں جتنے مراکز کھلنے چاہئیں کھولے جائیں، اصل مسئلہ اساتذہ اور ٹرینرز کی کمی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مراکز پر وہی لوگ آ سکتے ہیں جو ذہنی طور پر خدمت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ مراکز میں کئی بچے ایسے ہیں جنہیں رہائش کا مسئلہ ہے، جس کے لیے “ہوپ فار مین کائنڈ آرگنائزیشن” کی چیئرپرسن نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے ان کے پاس ایک منصوبہ موجود ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نہروں کا مسئلہ بہت اہم ہے، سندھ کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے اہم پاکستان ہے، پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ ایسے حساس مسائل صوبوں اور عوام میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ صدر آصف علی زرداری نے 18ویں ترمیم لا کر کس طرح صوبوں کو بااختیار بنایا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلنگ کو چیک کرنے کے لیے محکمہ توانائی میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ سرکاری اداروں میں بہت زیادہ بلنگ کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بیراج روڈ پر ایک اسکول کو ہر بار 20 گنا زیادہ بل بھیجا گیا ہے، بل زیادہ بھیجنے کے باوجود عوام لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں توانائی کا وزیر ہوں، روہڑی میں میرا گھر ہے، اور وہاں دن میں 8 بار لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ شہری کہتے ہیں کہ اس سے بہتر تھا کہ آپ توانائی کے وزیر نہ ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ سے نجات حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے پر کام کریں تاکہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔