Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

اس سیزن کی کامیاب تکمیل سکھر بیراج کی جدید کاری میں ایک تاریخی کامیابی ہے۔ سید مراد علی شاہ

سندھ حکومت اہم آبی ڈھانچوں کے تحفظ اور جدید کاری کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔ سید مراد علی شاہ

0

سکھر : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر بیراج کی بحالی اور جدید کاری کو ’’سندھ کے آبی تحفظ اور زرعی مستقبل کے لیے ایک سنگِ میل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے 23.436 ارب روپے کے اس بڑے منصوبے کو تیز رفتاری سے مکمل کر کے جنوبی ایشیا کے اہم ترین آبپاشی نظاموں میں سے ایک کو محفوظ بنایا ہے۔

سندھ بیراج امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت 26-2025ء کے ورکنگ سیزن کی کامیاب تکمیل کی افتتاحی تقریب سے پہلے سید مراد علی شاہ نے بیراج کے بحال شدہ حصوں کا معائنہ کیا،

گزشتہ ایک سال کے دوران مکمل ہونے والے جدید کاری کے کاموں کا جائزہ لیا اور وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اپ گریڈ شدہ سکھر بیراج سیلابی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ، آبپاشی کے نظام کی بہتری اور صوبے بھر کے لاکھوں آبادگار خاندانوں کے روزگار کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے سکھر بیراج کی بحالی اور جدید کاری کے منصوبے کے تحت 26-2025ء کے سیزن کی کامیاب تکمیل کا افتتاح کیا۔ یہ منصوبہ سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ کا ایک اہم جزو ہے، جس کا مقصد پاکستان کے سب سے اہم آبپاشی ڈھانچوں میں سے ایک کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

اپنے دورے کے دوران انہوں نے تاریخی سکھر بیراج کے مختلف بحال شدہ حصوں کا معائنہ کیا، منصوبے کے مختلف اجزاء پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور گزشتہ برس مکمل کیے گئے وسیع پیمانے پر جدید کاری کے کاموں کا مشاہدہ کیا۔

اس موقع پر رکن قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ، صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو، اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ، رکن سندھ اسمبلی سید فرخ شاہ سابق رکن سندھ اسمبلی سید جاوید شاہ، ترجمان حکومت سندھ اور میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ، ڈپٹی میئر سکھر ڈاکٹر ارشد مغل، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، محکمہ آبپاشی کے سینئر افسران، پراجیکٹ مینجمنٹ ٹیم، مشیران اور انجینئرز بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جون 2024ء میں بیراج کے گیٹ نمبر 44 اور 47 کی خرابی کے بعد حکومت سندھ نے بحالی کے دو سیزن کا کام ایک ہی سیزن میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے ایک بڑا عارضی کوفر ڈیم تعمیر کیا گیا۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی سے مزید گیٹ فیل ہونے کے خطرات کم ہوئے اور منصوبے کی تکمیل میں تیزی آئی۔

انہوں نے بتایا کہ گڈو بیراج بحالی منصوبہ 9.585 ارب روپے کی لاگت سے کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ سکھر بیراج منصوبہ 23.436 ارب روپے کی مجموعی سرمایہ کاری سے جاری ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے منصوبے کے اصل اہداف سے بڑھ کر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

جہاں 32 گیٹس کی تبدیلی کا ہدف مقرر تھا، وہاں ہم نے 44 گیٹس تبدیل کیے، جو سندھ کے آبی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ہماری سنجیدہ کوششوں کا ثبوت ہے۔ سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دریائے سندھ کے اندر موجود تمام 44 بیراج گیٹس اور ان کے ہوسٹنگ سسٹمز جدید ترین ڈیزائن کے مطابق تبدیل کر دیے گئے ہیں اور اب مکمل طور پر فعال ہیں۔

تمام 44 بیراج خلیوں میں سول مرمت کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ 27 نہری گیٹس اور متعلقہ ڈھانچوں کی بحالی بھی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نہروں میں پانی کی درست پیمائش کے لیے چھ گیج ویلز تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ بیراج کے اوپر جمع شدہ مٹی اور ریت نکالنے کے کام (ڈریجنگ) سے پانی کے بہاؤ میں بہتری آئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس سیزن کی کامیاب تکمیل سکھر بیراج کی جدید کاری میں ایک تاریخی کامیابی ہے۔ تقریباً ایک صدی بعد پہلی مرتبہ بیراج کے فرش اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی جامع بحالی کی گئی ہے، جس سے سندھ کے آبپاشی نظام پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے اس اہم آبی ڈھانچے کی حفاظت اور پائیداری یقینی بنائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اہم آبی ڈھانچوں کے تحفظ اور جدید کاری کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔ سکھر بیراج کی بحالی سے سیلابی پانی کے گزر کی صلاحیت بہتر ہوگی، آپریشنل کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور آنے والی نسلوں کے لیے آبپاشی کے پانی کی فراہمی مزید مستحکم ہوگی۔

سید مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ سندھ کی تقریباً 60 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بیراج نظام کے ذریعے فراہم کیے جانے والے آبپاشی کے پانی پر انحصار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6 لاکھ سے زائد آبادگار خاندانوں کا روزگار اور پاکستان کی غذائی سلامتی کا ایک بڑا حصہ سکھر بیراج سے فراہم کیے جانے والے پانی سے وابستہ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ منصوبے کے باقی مراحل میں معیار، حفاظت اور شفافیت کے اعلیٰ ترین اصولوں کو برقرار رکھا جائے اور جون 2027ء تک منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے نگرانی اور دیکھ بھال کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ بحالی کے کاموں کے طویل المدتی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

سید مراد علی شاہ نے سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر پریتم داس کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیچیدہ تکنیکی چیلنجز سے نمٹنے اور منصوبے کو کامیابی سے مکمل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے میں پریتم داس کی قیمتی خدمات اور سندھ کے عوام کے لیے ان کی گراں قدر شراکت پر دلی تشکر کا اظہار کرتا ہوں۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور آبپاشی جام خان شورو نے اس منصوبے کو سندھ کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین انفراسٹرکچر منصوبوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے آبی انتظام، آبپاشی کی کارکردگی اور لاکھوں ہاریوں کے روزگار کے تحفظ کو مزید تقویت ملے گی۔

سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے کہا کہ منصوبے کے اس اہم مرحلے کی کامیاب تکمیل انجینئرز، تکنیکی ماہرین، مشیروں اور پراجیکٹ ٹیموں کی انتھک محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبہ مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور جون 2027 تک باقی تمام نہری گیٹس بھی تبدیل کر دیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پرانے اسٹونی رولر گیٹس اور کاؤنٹر ویٹ سسٹم کو جدید فکسڈ وہیل گیٹس اور خودکار ہوسٹنگ سسٹمز سے تبدیل کر دیا گیا ہے، جو لوکل کنٹرول پینلز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔ کاؤنٹر ویٹ سسٹم کے خاتمے سے بیراج پر تقریباً 4,500 ٹن مردہ بوجھ کم ہوا ہے، جس سے ڈھانچے کی مضبوطی، آپریشنل کارکردگی اور دیکھ بھال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

جام خان شورو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بحالی کے یہ کام محکمہ آبپاشی کے تحت قائم پراجیکٹ مینجمنٹ آفس کے ذریعے ورلڈ بینک کی مالی معاونت اور بین الاقوامی مشیروں کی تکنیکی نگرانی میں انجام دیے جا رہے ہیں۔

سندھ کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مضبوط اور جدید سکھر بیراج آنے والی کئی دہائیوں تک سندھ کے زرعی شعبے کی خدمت جاری رکھے گا اور محفوظ سیلابی گزرگاہوں کے ساتھ آبپاشی کے پانی کی قابلِ اعتماد فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے بتایا کہ منصوبہ مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور توقع ہے کہ جون 2027ء تک مکمل طور پر پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی سکھر میں میڈیا سے گفتگو

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے بیراجوں کی بحالی کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ سندھ سرسبز اور خوشحال رہے اور پاکستان کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتا رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس منصوبے کی پائیدار بنیادوں پر دیکھ بھال کی جائے گی تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے نقصان سے بچا جا سکے اور انجینئرز، مزدوروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی محنت ضائع نہ ہو۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ کوٹڑی بیراج کی فزیبلٹی اسٹڈی کو مزید بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے سندھ کے بیراجی نظام کو ’سندھ کی شہ رگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکھر بیراج کی بحالی سے اس کی عملی عمر میں مزید 30 سال کا اضافہ متوقع ہے۔

پانی کی قلت سے متعلق سوالات کے جواب میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے تین روز قبل وزیراعظم کو سندھ کے تحفظات کے حوالے سے خط لکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے نظام میں اس سال پانی کے بہاؤ کی صورتحال گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 جون 2026ء تک دریاؤں میں پانی کی آمد 8 جون 2025ء کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح دریائے کابل، دریائے جہلم، دریائے چناب اور منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 8 جون کو گڈو بیراج کے اوپری حصے میں پانی کا بہاؤ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر تھا۔ انہوں نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے بھی سندھ کے پانی کے مسائل کے حوالے سے ارسا حکام سے ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر سندھ کے تحفظات کو تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم بعد ازاں ارسا نے صوبے کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کو درست مان لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سندھ میں پانی کی کمی ابتدا میں تقریباً 41 فیصد بتائی گئی تھی، جس کے بعد اضافی 20 ہزار کیوسک پانی چھوڑا گیا۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کو اب بھی ضرورت سے کم پانی مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس ذخائر میں بھی زیادہ پانی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض فیصلے ملک بھر کے آبپاشی منصوبوں کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ارسا سے روزانہ کی بنیاد پر پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور واضح کیا کہ وہ کسی پر الزام نہیں لگا رہے بلکہ طے شدہ طریقہ کار کے تحت سندھ کے جائز حصے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے سکھر-حیدرآباد موٹروے منصوبے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سندھ حکومت کا منصوبہ نہیں بلکہ قومی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، جس سے پورے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےسکھر بیراج ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ماڈرنائزیش پراجیکٹ کی یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔ اس موقع پرایم این اے سید خورشید احمد شاہ، صوبائی وزیر ایریگیشن جام خان شورو، صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، ترجمان حکومت سندھ و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ و دیگر افسران اور پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

Comments
Loading...