ورلڈ میری ٹائم ڈے 2026 بلیو نیٹ پلس کا پاکستان کی بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے مربوط پالیسیوں پر زور
کراچی یکم اکتوبر 2026: بلیو نیٹ پلس (بلو نیٹ+) نے ورلڈ میری ٹائم ڈے 2026 کے موقع پر ’’پالیسی سے عملی اقدامات تک: میری ٹائم ایکسیلنس کے فروغ کے لیے اقدامات‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی (این آئی او) کے اشتراک سے کے پی ٹی اسٹاف کالج، لالہ زار، کراچی میں منعقد ہوا۔
تقریب میں 13 ممتاز مقررین اور 57 اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی، جن میں سرکاری ادارے، میری ٹائم تنظیمیں، جامعات، تحقیقی ادارے، ماحولیاتی ادارے، کاروباری برادری، میڈیا، سیاحت، ماہی گیری، سول سوسائٹی، شعبہ کے ماہرین، نوجوان اور طلبہ شامل تھے۔
بلیو نیٹ پلس کی بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر نزہت خان نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو محض مزید پالیسیوں کی ضرورت نہیں بلکہ موجودہ پالیسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور ان پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہے، جبکہ بلیو اکانومی کو قومی اقتصادی ترقی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا، ’’میری ٹائم اور بلیو اکانومی سے متعلق امور ہماری اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، موسمیاتی، سیاحتی، ماہی گیری، ماحولیاتی، سائنس و ٹیکنالوجی کی پالیسیوں کا حصہ ہونے چاہئیں۔ اصل کمی پالیسی، سرمایہ کاری، عملدرآمد اور قابلِ پیمائش نتائج کے درمیان مربوط نظام کی ہے۔‘‘
انہوں نے پائیدار بلیو اکانومی کے تین باہم مربوط ستونوں—اقتصادی خوشحالی، ماحولیاتی نظام کی صحت اور انسانی بہبود—کو اجاگر کیا، جنہیں سائنس، پالیسی، گورننس، مالیات اور ٹیکنالوجی کی معاونت حاصل ہو۔
کاروباری برادری کی نمائندگی کرتے ہوئے مقررین نے پالیسی، کاروبار، سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے پر زور دیا تاکہ پاکستان کی میری ٹائم اکانومی میں نجی شعبے کے مواقع کو بروئے کار لایا جا سکے۔
مسیٹر شبیر حسن مانشا، چیئرمین پی اے ایل آئی ایم اے/مانشا گروپ اور سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی، نے پاکستان کی میری ٹائم صلاحیت کو معاشی قدر میں تبدیل کرنے کے لیے میری ٹائم تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی مؤثر شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تجارت کے فروغ اور بلیو اکانومی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے سازگار کاروباری ماحول، مؤثر بندرگاہی و لاجسٹک نظام، سرمایہ کاری دوست پالیسیوں اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
انجینئر نعمت اللہ سوہو، ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی (این آئی او)، نے تحقیق، سمندری اعداد و شمار اور سائنس و پالیسی کے درمیان مضبوط روابط کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنسی معلومات کو عملی فیصلوں، سرمایہ کاری اور پائیدار میری ٹائم ترقی کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
محترمہ ارم تنویر، ڈائریکٹر جنرل، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کراچی، نے بلیو اکانومی کو قومی سطح پر ہونے والی بحث کا حصہ بنانے، عوامی آگاہی پیدا کرنے اور میری ٹائم پالیسیوں و مواقع کو عوام سے جوڑنے میں میڈیا اور اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے کردار پر زور دیا۔
سیمینار کے دوران میری ٹائم تجارت و سرمایہ کاری، سمندری سائنس، ماہی گیری، ساحلی سیاحت، موسمیاتی لچک، حیاتیاتی تنوع، آلودگی اور فضلہ کے انتظام، ڈیجیٹلائزیشن، کاروباری سرگرمیوں، خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت اور سمندروں کے ذمہ دارانہ انتظام سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیمینار میں ایک مشترکہ لائحہ عمل پر زور دیا گیا: تحقیق و اعداد و شمار → شواہد → مربوط پالیسی → سرمایہ کاری → عملدرآمد → نتائج
سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر نزہت خان نے کہا ’’پالیسی سے عملی اقدامات تک کا سفر ہماری اجتماعی ترجیح بننا چاہیے۔ پاکستان کی بلیو اکانومی کو اقتصادی خوشحالی، صحت مند سمندری ماحول اور انسانی بہبود سے مربوط ہونا چاہیے، تاکہ آج نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ہمارے سمندری وسائل کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔‘‘
سیمینار میں اس امر کی ضرورت پر دوبارہ زور دیا گیا کہ پاکستان کے لیے ایک مضبوط، جامع اور پائیدار میری ٹائم مستقبل کی تشکیل کے لیے حکومت، سائنس، کاروباری شعبے، تعلیمی اداروں، میڈیا اور مقامی برادریوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔