Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

سندھ حکومت صوبے اور بالخصوص کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر انتہائی سنجیدہ ہے۔ سعید غنی

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے ان کو سخت تاکید کی گئی کہ عوامی منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہ ہونے پائے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ اور جلد از جلد معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ سعید غنی

0

سندھ حکومت صوبے اور بالخصوص کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر انتہائی سنجیدہ ہے۔ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں سالانہ ترقیاتی کاموں کی جاری اسکیموں پر جاری کام رواں سال ہی مکمل کئے جائیں بالخصوص وہ منصوبے جن پر 100 فیصد ریلیز ہوچکی ہیں ان کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ تمام محکموں میں ترقیاتی کاموں کو لے کر سنجیدگی نظر نہیں آرہی ہے اگر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔ کے ایم سی، کے ڈی اے، واٹر بورڈ، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے، کلک اور سوئپ میں سالانہ ترقیاتی اسکیموں پر کام کی مکمل رپورٹ آئندہ ایک ہفتہ میں جمع کروائی جائے اور جن اسکیموں کو رواں سال مکمل ہونا ہے اسے ہر صورت مکمل کیا جائے۔ تمام ریجنل ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز و اسسٹنٹ ڈائریکٹرز ہر کونسل کی ماہانہ رپورٹ جمع کروانے کے پابند ہوں گے۔ پیدائش اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اجراء پر 5 سال کے لئے کوئی فیس نہیں ہے اس کو یقینی بنایا جائے اور اگر کسی قسم کی کوئی شکایات اس حوالے سے ملتی ہیں تو مذکورہ کونسل کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اجلاسوں میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ سید خالد حیدر شاہ، اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ و پی ڈی کلک عائشہ حمید، شیخ عبدالغنی، ایم سی کے ایم سی افضال زیدی، ڈی جی کے ڈی اے الطاف گوہر میمن، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان، ڈی جی ایل ڈی اے صفدر بگھیو، ڈی جی ایم ڈی اے نجم الدین سہتو، پی ڈی سوئپ دادلو زہرانی، پی ڈی میگا پروجیکٹ کراچی سید عباس علی شاہ و دیگر شریک ہوئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے دو مختلف اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ کراچی میں سالانہ ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے اجلاس میں کے ایم سی، کے ڈی اے، واٹر بورڈ، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے، کلک اور سوئپ سے صوبائی وزیر نے ایک ایک اسکیم پر رپورٹ طلب کی اور مذکورہ اسکیموں پر کام کی رفتار اور ان کے لئے جاری فنڈز کی بازپرس کی۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے تمام محکموں کی جانب سے سالانہ ترقیاتی اسکیموں پر غیر سنجیدگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ ڈی جیز، ایم ڈیز اور ایم سیز پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر سعید غنی نے سالانہ ترقیاتی اسکیموں کے حوالے سے تمام محکموں کے سربراہان سے باز پرس کی اور منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ لی۔ اس موقع پر کئی محکموں کی جانب سے مکمل رپورٹ مرتب نہ کئے جانے اور کئی منصوبوں پر 100 فیصد فنڈز کے اجراء کے باوجود منصوبے مکمل نہ ہونے یا اس کی مکمل ہونے کی رپورٹ نہ لئے جانے پر صوبائی وزیر سعید غنی نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے عوام کی فلاح و بہبود اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی غرض سے بنائے جاتے ہیں لیکن اداروں کی سست روی اور منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل نہ ہونے سے جہاں سندھ حکومت کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں وہاں عوام کو پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ مالی سال میں کوئی نئی اسکیم نہ رکھنے کا سب سے بڑا سبب بھی یہی تھا کہ پرانی تمام جاری اسکیموں کو فنڈز جاری کرکے ان کو اس مالی سال میں مکمل کروایا جائے لیکن 6 ماہ گزر جانے اور فنڈز کے اجراء کے باوجود اسکیموں کا وقت مقررہ پر مکمل نہ ہونا افسران کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سید خالد حیدر شاہ کو ہدایات دی کہ تمام محکموں کی جاری اسکیموں بالخصوص جن اسکیموں پر 100 فیصد فنڈز جاری کردیئے گئے ہیں ان کی ایک رپورٹ مرتب کریں ساتھ ہی جو منصوبے تاحال ان اپرووڈ ہیں ان کو 15 دسمبر تک منظور کروا کر ان پر کام کا آغاز کروایا جائے۔ صوبائی وزیر کو مختلف محکموں کی جانب سے درپیش مشکلات سے آگاہ کیا گیا، جس پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ جن جن محکموں کو منصوبوں پر کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے وہ آئندہ 7 روز میں اس کی تفصیلی رپورٹ مرتب کرکے پیش کرے تاکہ ان مشکلات کا ازالہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے اور بالخصوص کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر انتہائی سنجیدہ ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ کسی صورت بھی ان منصوبوں کو کوئی جواز بنا کر تاخیر کا شکار بنایا جاسکے۔

انہوں نے کے ڈی اے، واٹر بورڈ اور ایم ڈی اے کے افسران کو سخت ہدایات دی کہ وہ اپنے اپنے منصوبوں پر کام کی رفتار اور کوالٹی کو یقینی بنائیں اور اگر کسی بھی محکمہ کی جانب سے کام کے معیار اور کوالٹی پر کوئی بھی سمجھوتہ کیا گیا تو اس کے سخت نتائج وہ بھگتے گے۔ سعید غنی نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے ان کو سخت تاکید کی گئی کہ عوامی منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہ ہونے پائے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ اور جلد از جلد معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ بعد ازاں صوبائی وزیر سعید غنی کی زیر صدارت سندھ بھر کے ریجنل ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز و اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے صوبے بھر سے آئے ہوئے افسران کی جانب سے کونسلز کی ماہانہ رپورٹ جمع نہ کروانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام ریجنل ڈائریکٹرز کو ہدایات دی کہ ہر ماہ کی 5 تاریخ تک وہ اپنے اپنے ریجن کی کونسلز کی رپورٹ لازمی منسٹر آفس اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے پاس جمع کروائیں ایسا نہ کرنے والے افسر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے 5 سال تک کے بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ اور 5 سال کے دوران انتقال کرنے والوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر فیس ختم کردی ہے، لیکن شکایات مل رہی ہیں کہ مختلف یونین کونسلز عوام سے یہ فیس وصول کررہی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ حکومتی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اس سلسلے میں صوبے بھر کے ریجنل ڈائریکٹرز فوری طور پر اپنے اپنے ریجن کی کونسلز کو پابند کریں کہ وہ یہ فیس وصول نہ کریں اور اگر ان شکایات ملی تو نہ صرف متعلقہ کونسلز کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی بلکہ اس افسر کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، جو وہاں تعینات ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے ماہانہ اربوں روپے کے او زی ٹی شئیر میں کونسلز کی بنیاد پر اضافہ کیا ہے تاکہ وہاں کے ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کو محفوظ بنایا جاسکے اور اس یوسی میں عوامی کام ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی اس سلسلے میں محکمہ کی جانب سے تمام یونین کونسلز کو ایک ہدایات نامہ بھیجا جارہا ہے کہ جو فنڈز انہیں مل رہا ہے اس کو کس مد میں کہاں خرچ کرنا ہے اور اس کی مکمل مانیٹرنگ آپ افسران کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے ہدایات دی کی صوبے بھر کی 1870 کونسلز، 1618 یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلز، 143 ٹائونز کمیٹیوں، 36 میونسپل کارپوریشن، 22 ڈسٹرکٹ کونسلز، 45 ٹائونز میونسپل کارپوریشن، 5 ڈویژنل میونسپل کارپوریشن اور ایک میٹروپولیٹن کارپوریشن ان تمام کے ایک ایک ملازم کا ڈیٹا اور اس کی تنخواہ کی رپورٹ مرتب کرکے جمع کروائی جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ قانون کے تحت منتخب کونسلرز کو تنخواہ یا وظیفہ نہیں دیا جاسکتا اور اگر کوئی ٹائون یا یوسی ایسا کرتی ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ سعید غنی نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ افسران کسی قسم کے دبائو میں آئے بغیر ایمانداری سے اپنا کام کریں اور جہاں جہاں پر انہیں کوئی کرپشن یا بے قاعدگی نظر آئے اس کی رپورٹ جمع کروائے اور اس حوالے سے وہ ایک واٹس اپ گروپ بھی بنا رہے ہیں، جس میں تمام ریجنل ڈائریکٹرز کو شامل کیا جائے گا اور وہ اس طرح کی بےبقاعدگیو کی رپورٹ اس گروپ میں فوری ارسال کریں گے۔

Comments
Loading...