اس شہر کے نوجوان ڈگری ہاتھ میں لئے مارا مارا پھر رہے ہیں اور نوکری نہ ملنے پر نوجوان خود کشی کر رہے ہیں۔ سید مصطفی کمال
15سالوں سے پیپلز پارٹی نے اس شہر کو ایک قطرہ اضافی پانی نہیں دیا اور جو پانی آتا تھا وہ ہائیڈرنٹ کے ذریعے اربوں روپوں میں کراچی کے مظلوم عوام کو فروخت کردیا جاتا ہے۔ سید مصطفی کمال
اس شہر کے نوجوان ڈگری ہاتھ میں لئے مارا مارا پھر رہے ہیں اور نوکری نہ ملنے پر نوجوان خود کشی کر رہے ہیں۔ سید مصطفی کمال
کراچی : سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ جلسہ صرف ملیر ٹاؤن کا جلسہ ہے کرسیاں ختم ہوگئیں۔ میری مائیں، بہنیں اور بزرگ فرش پر بیٹھے ہیں۔ آج ملیر ٹاؤن نے فیصلہ دے دیا کہ ملیر ایم کیو ایم پاکستان کا ہے اور جو شمع آج روشن کی ہے، ہر اس جگہ جائیگی جہاں ایم کیو ایم موجود ہے۔ وہاں تک اس کی روشنی پہنچے گی اور آج ملیر ٹاؤن نے سر فخر سے بلند کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 15سالوں سے پیپلز پارٹی کی متعصب حکومت ہے۔ جس نے ایک قطرہ پانی اٖضافی اس شہر کو نہیں دیا اور جو پانی آتا تھا وہ ہائیڈرنٹ کے ذریعے اربوں روپوں میں کراچی کے مظلوم عوام کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ ان کے بزرگوں نے اس صوبے میں اربن اور رورل کا کوٹہ سسٹم نافظ کیا اور جب وہ کوٹہ ختم ہوجاتا ہے، تو جعلی ڈومیسائل بنا کر شہری کوٹہ بھی ہڑپ لیا جاتا ہے اور شہری نوجوان ڈگری ہاتھ میں لئے مارا مارا پھر رہا ہے اور نوکری نہ ملنے پر نوجوان خود کشی کر رہے ہیں۔
سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ آج اس ملک میں خبر چلتی ہے کہ پڑوسی ملک چاند پر چلا گیا اور ہمارے بچے کھلے گٹر میں کر کر اپنی جان دے رہے ہیں، پچھلے 40سالوں کے بعد بھی ہمیں کچھ نہیں ملا۔ ہم نے جانیں دیکر قبرستان اور جیلیں بھر دیں۔ لوگ لاپتا ہوگئے ہم کس سے شکوہ کریں۔ ہم نے راتوں کو جاگ کر اس شہر کو تعمیر کیا اور شہر کراچی کو12تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں شامل کیا۔ کوئی بتائے یہ قافلہ کیسے لٹا؟ ہمیں پیپلز پارٹی کے رہزنوں سے شکوہ نہیں تمہاری رہبری کا سوال ہے۔
سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہم نے بلدیاتی الیکشن کا بائیکاٹ اس لئے کیا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے کراچی کی 70یونین کونسلز کم کردی گئی تھیں۔ جس پر ہم نے مذاکرات کئے کوشش کی لیکن ہم نے الیکشن نہیں لڑا۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے 53یونین کونسلز کا اضافہ کروایا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کا کارنامہ کیا ہے؟ میں صرف ایک بات کہتا ہوں کہ پہلے مردم شماری کا اعلان ہوتا تھا تو ہم مان لیتے تھے لیکن 7اپریل کو جب یہ اعلان ہوا کہ کراچی کی آبادی 1کروڑ 30لاکھ ہے تو ہم نے اس کا پیچھا کیا اور 73لاکھ لاپتہ افراد کو بازیاب کروا کر شامل کروایا۔ جس کے باعث کراچی میں قومی اسمبلی کی سیٹیں 21سے 22ہوگئیں اور صوبائی کی 44سے 47ہوگئیں اور فاروق ستار میں آپ سے کہتا ہوں کہ سندھ آدھا ہمارا نہیں بلکہ پورا ہمارا ہے ابھی شہروں کوقبضہ مافیاسے آزاد کرالیں تو ہاریوں کو بھی جاگیرداروں سے آزاد کرائینگے۔