درخواست میں تحریک انصاف تھی ہی نہیں جبکہ انہیں سیٹیں دے دی گئیں۔ سید مصطفٰی کمال
فیصلے کے بعد ہماری عدالتوں کے پاس یہ جواز نہیں رہا کہ کسی کم جرم کرنے والے کو جو کہ کم مقبول ہے اور اسکی سوشل میڈیا پر کوئی فالو ئنگ نہیں ہے اسے بھی سزا ملے، قانون اسکی معافی کیلئے بھی کوئی راستہ نکالے۔ سید مصطفٰی کمال
سپریم کورٹ کے فیصلے سے آئین قانون اور جمہوریت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ سید مصطفٰی کمال
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے دفتر پاکستان ہاؤس میں سینئر رہنماء و رُکن قومی اسمبلی سیّد مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے آج کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں چھپے مثبت پہلوؤں کو کھوجنے کی کوشش کی، مگر آج کے فیصلے نے بصد احترام جمہوریت آئین اور قانون کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے اور آج کا فیصلہفیصلے کے بعد ہماری عدالتوں کے پاس یہ جواز نہیں ہے کہ کسی کم جرم کرنے والے کو جو کہ کم مقبول ہے اور اسکی سوشل میڈیا پر کوئ فالو ئنگ نہیں ہے اسے بھی سزا نہیں ملنی چاہئے قانون اسکے لئے بھی کوئ راستہ نکالے۔
اِنصاف کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، آئین کی کِتاب کے بجائے سماجی رابطے کی سائٹس کو مدنگاہ رکھ کر فیصلے ہو رہے ہیں، اِس مُلک کی بدنصیبی ہے کہ جو پاپولر ہے وہ بُلند آواز سے مغلظات بک سکتا ہے، مُلکی سالمیت کے لئے کام کرنے والے اِداروں کے افراد کے اہلِ خانہ کی تذلیل کرسکتا ہے اور قانُون کو ہاتھ میں لے کر قومی املاک کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایسے فیصلوں سے وطن عزیز میں غلط کو غلط کہنے کا تصوّر معدوم ہو جائےگا، 2018ء میں بھی اُس وقت کے ثاقب نثار صاحب پورا آر ٹی ایس کا نظام مفلوج کروا کر ایک حکومت کو مُلک پر مسلط کروانے میں سہولت کار بنے اور واٹس ایپ پر فیصلے لکھے اور صادر کیئے جاتے رہے،
سیّد مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے آزاد حیثیت سے اِنتخاب لڑا اور اُن کی جماعت کے آئین کے مطابق کوئی بھی اقلیتی نمائندہ اِس اتحاد کا حصہ نہیں ہوگا مگر پھر ایک نام نہاد سیاسی جماعت کو اِس اتحاد میں ضم کروا کر مخصوص نشستوں کے لئے پنجہ آزمائی شروع کردی گئی اور مقدمہ دائر کیا گیا یہ تمام نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دی جائیں مگر آج کا جو فیصلہ آیا ہے وہ پی ٹی آئی کے نام پر آیا ہے جو اِس تمام معاملے کا حصہ ہی نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی کو جو کُچھ بھی ہوا ریاست اور اُس کے سربراہان پر جو تہمتیں لگائی جاتی رہیں اور اُن کو کسی دُشمن مُلک کا فرد بنا کر سوشل میڈیا پر پیش کیا جاتا رہا مگر کراچی کا ڈومیسائل رکھنے والا اِس طرح کا خیال بھی اپنے ذہن میں نہیں لا سکتا کیوں کہ پاکستان کی عدلیہ اِس پر نہ ہمارا ساتھ دے گی اور نہ آواز اُٹھائے گی،
ایم کیو ایم کے کارکنان سے تو ناک سے لکیر کھنچوائی جاتی ہے اور بے قصور ہوتے ہوئے بھی سرزنش کی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف صِرف نام نہاد پاپولرٹی کی بُنیاد پر شخصیات کو گڈ ٹو سی یو جیسے کلمات سے نوازا جاتا ہے، امید کی آخری کرن آج ریزہ ریزہ ہوگئی ہے اب اس فیصلے کے بعد ہماری عدالتوں کے پاس یہ جواز نہیں رہا کہ کسی کم جرم کرنے والے کو جو کہ کم مقبول ہے اور اسکی سوشل میڈیا پر کوئ فالو ئنگ نہیں ہے اسے بھی سزا ملے، قانون اسکے لئے بھی معافی کا کوئ راستہ نکالے۔ اِس مُلک میں کردار نہیں صِرف پاپولر ہونا کافی ہے کہ پھر آپ آئین اور قانُون سے ماوراء ہوجاتے ہیں،
سیّد مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کسی پر تنقید نہیں کر رہی بلکہ آئین میں دیئے جانے والے حق کو استعمال کرکے اپنی رائے دے رہی ہے کیوں کہ ایم کیو ایم کا ووٹر اور ہمدرد ہم سے یہ سوال کر رہا ہے کہ ہم کس درجے کے پاکستانی ہیں یہ تمام سہولیات ہمیں کب میسر ہونگی؟ اِس موقع پر سینئر مرکزی رہنماء نسرین جلیل، انیس احمد قائم خانی، ارکانِ مرکزی کمیٹی سمیت قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی اور اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔