Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

اگر کوئی ریڑھی والا اپنی ریڑھی کو سڑک پر دکان بنا کر بیٹھ جائے یہ نا قابل قبول ہے۔ سعید غنی

ایم کیو ایم کو پہلے اپنے بھاؤ کا معلوم ہو جانا چاہئے کیونکہ ایم کیو ایم پی ایس پی مافیا کے قبضے میں ہیں۔ مرتضٰی وہاب

0

اگر کوئی ریڑھی والا اپنی ریڑھی کو سڑک پر دکان بنا کر بیٹھ جائے یہ نا قابل قبول ہے۔ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی اور مئیر کراچی مرتضٰی وہاب نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کو پہلے اپنے بھاؤ کا معلوم ہو جانا چاہئے کیونکہ ایم کیو ایم پی ایس پی مافیا کے قبضے میں ہیں۔ تجاوزات غیر قانونی اور غلط ہوتی ہیں، روزگار لوگوں کو ملنا چاہئے اور حکومت کی زمہ داری ہے، لیکن اس کی آڑ میں تجاوزات قائم کرنا کسی صورت درست نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی نے کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا، فیس کو چیلنج کرنے والے عدالت گئے تھے لیکن ان کے فیصلوں کو رد کیا گیا۔ طالب علموں سے یہی کہوں گا تعلیم پر فوکس کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز کلک کے تحت گزری میں اکبری فٹبال گراؤنڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب و میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ افتتاحی تقریب میں رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ، وزیر اعلٰی سندھ کے معاون خصوصی سید وقار مہدی، وزیر اعلٰی سندھ کے مشیر سید نجمی، پیپلز پارٹی کراچی کے جنرل سیکرٹری و ڈسٹرکٹ سائوتھ کےصدر جاوید ناگوری، پراجیکٹ ڈائریکٹر کلک عائشہ حمید، تبریز مری اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ اس موقع پر سعید غنی نے کہا کہ ہم نے اکبری فٹبال گراؤنڈ کی تزئین و آرائش کا کام مکمل ہونے کے افتتاح کیا ہے، جس سے کراچی کے شہری سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ فٹبال گراؤنڈ بہت بری حالت میں تھا۔ ہم نے اس کو بین الاقوامی طرز کا یہ گراؤنڈ بنایا ہے اور اب بھی کچھ فرنیچر یہاں آنا ابھی باقی ہے۔ یہاں لائٹس لگی ہیں ساتھ ہی چھوٹا سا پارک بھی بنایا گیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ رمضانوں میں یہاں ٹورنامنٹ کروانے کا بھی کہا ہے۔ اس گراؤنڈ میں 24 ہزار گیلن کا پانی کا ٹینک اور آر او پلانٹ بھی یہاں لگا ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ تھریڈ کسی کو بھی مل سکتی ہے، قانونی طور پر جو سیکورٹی فراہم کی جائے گی کرینگے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ تجاوزات غیر قانونی اور غلط ہوتی ہیں۔ روزگار لوگوں کو ملنا چاہئے اور حکومت کی زمہ داری ہے لیکن اگر کوئی ریڑھی والا اپنی ریڑھی کو سڑک پر دکان بنا کر بیٹھ جائے یہ نا قابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سڑکوں پر ٹریفک جام ہوتا ہے آپ لوگ ہی ہم پر لعن تعن کرتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس پورے ملک میں فلاحی ادارے کام کرتے ہیں کراچی میں صرف نہیں کرتے۔کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اسپورٹس کی فیلڈ میں جتنا کام کیا کسی نے نہیں کیا۔ ہم سمجھتے ہیں ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے لیکن اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہمارا مقابلہ کھیلوں میں کوئی صوبہ نہیں کر سکے گا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے پیپلز پارٹی پر الزامات اور تنقید کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم کو پہلے اپنے بھاؤ کا معلوم ہو جانا چاہئے۔ ایم کیو ایم پی ایس پی مافیا کے قبضے میں ہیں۔ اس بات کا خود ان کے کنونئیر اعتراف بھی کرچکیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کنوینر بے بس ہیں ان کی صورتحال خستہ ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات پر انہوں نے کہا کہ پہلے تو پوچھا جائے ایم کیو ایم سے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات نہ ملنے کی وجہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وسیم اختر مئیر تھے تو انہوں نے ان ملازمین کا یہ پیسہ جس کا علیحدہ اکائونٹ ہوتا ہے وہ پیسہ کسی اور جگہ لگا دیا اور اب وہ یہ الزام کس منہ سے پیپلز پارٹی پر لگا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ ان کو معلوم ہے کہ ہماری موجودہ سندھ حکومت ان ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگیاں کرنے کے لئے اقدامات کررہی ہے تو جس طرح جماعت اسلامی کسی کام کے ہونے کا معلوم پڑ جانے پر ڈرامے کرتی ہے اسی طرح ایم کیو ایم بھی یہ ڈرامے شروع کررہی ہے تاکہ وہ کہہ سکے کہ ہمارے احتجاج پر ایسا ہوا ہے جبکہ میں نے سندھ اسمبلی کے فلور اور دیگر کئی بار اس بارے میں تفصیلی طور پر بتا دیا ہے کہ ہم ان ملازمین کے واجبات کی ادائیگی جو ان کا قانونی حق ہے کی ادائیگی کے لئے کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں کے ڈی اے نے تین ارب کے قریب مانگے ہیں دے رہے ہیں۔ کے ایم سی کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی سے متعلق کابینہ سے سمری منظور ہوئی ہے۔ ایچ ڈی اے ہو یا واٹر بورڈ تمام اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگیوں کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

اس موقع پر مئیر کراچی مرتضٰی وہاب نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے کے ایم ڈی سی کو یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ فیس کو چیلنج کرنے والے عدالت گئے تھے لیکن ان کے فیصلوں کو رد کیا گیا ۔ میں طالب علموں سے یہی کہوں گا تعلیم ہر فوکس کریں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں شارٹ فال کے ساتھ ادارے نہیں چل سکتے، ہمیں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ ادارہ چلتا رہنا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے شہر کے 12 مقامات کی لیکجز کو دور کر لیا ہے۔ لیاقت آباد، لیاری، اولڈ سٹی ایریا، گلشن ٹاؤن ی عوام کو اس سے فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں پانی اور سیوریج کے مسائل ہیں انہیں حل کیا جائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے چارجڈ پارکنگ کے خاتمہ کا اعلان کیا تھا کیونکہ پارکنگ سے اتنی بڑی آمدنی نہیں ہوتی لیکن پارکنگ ختم کرنے کے قانونی تقاضے ہوتے ہیں۔ جن کو یہ چارجڈ پارکنگ دی گئی تھی ان کے جون تک کنٹریکٹ ہیں۔ اس کے بعد ہم پارکنگ کے معاملے کو کونسل میں لے جائیں گے البتہ اس وقت بھی جون تک جہاں جہاں یہ قانونی پارکنگ ہے ان کو ڈبل اور ٹرپل پارکنگ شہر میں کہی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

Comments
Loading...