Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

شہادت کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو ہمارے دلوں اور مخالفوں کے ذہنوں پر طاری ہیں۔سعید غنی

پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ ایسٹ کے تحت شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب

0

شہادت کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو ہمارے دلوں اور مخالفوں کے ذہنوں پر طاری ہیں۔سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی سعید غنی نے کہا ہے کہ آج شہادت کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو ہمارے دلوں اور مخالفوں کے ذہنوں پر طاری ہیں۔ جس شخص نے 30 سال کی عمر میں کابینہ میں اپنی جگہ بنالی ہو۔ ان کے وزیر خارجہ کے طور پر ہی صرف کارنامے نہیں تھے، وہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہے ان میں بھی ان کے بڑے کارنامے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 51 سال کی عمر میں انہوں نے کیا ہے اس کا تصور کیا جائے تو دنیا میں بڑے بڑے لیڈر اور رہنما آئے ان کا موازنہ کیا جائے تو ایک بھی ایسا نہیں ملے گا جنہوں نے 51 سال کی عمر تک اپنی 21 سالہ سیاسی زندگی جو کارنامے بھٹو شہید نے کئے اس طرح کے کئے ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ ایسٹ کے تحت شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر رکن قومی اسمبلی اسد عالم نیازی، وزیر اعلٰی سندھ کے معاون خصوصی و پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سید وقار مہدی، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے صدر اقبال ساندھ، ریاض بلوچ، راشد خاصخیلی، سرور غازی و دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا۔ سعید غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی کس کس عمر میں کیا کیا کام کئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 17 سال کی عمر میں 26 اپریل 1945 میں قائد اعظم محمد علی جناح کو خط لکھا، جس میں انہوں نے لکھا کہ آپ نے مسلم قوم کو ایک پرچم تلے جمع کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی آزادی مسلمانوں کے دل میں ہونی چاہیےکہ پاکستان ہمارا مقدر ہے، ہمارا مقصد ہے۔ ہمیں پاکستان کے قیام سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ برصغیر میں ہم بحیثیت قوم اپنا وجود رکھتے ہیں۔ آپ نے ہمیں متحرک کیا ہے، جس پر ہمیں فخر ہے۔ ایک طالبعلم کی حیثیت سے میں ارض پاک کے حصول میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ وقت ضرور آئے گا، جب میں پاکستان کے لئے جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔سعید غنی نے کہا کہ یہ ایک 17 سال کا لڑکا قائد اعظم محمد علی جناح کو لکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکم مئی 1945 کو قائد اعظم نے اس خط کو جواب دیا اور لکھا کہ میں نے 26 اپریل کا خط پڑھ کر اور یہ معلوم کرنے پر کہ تم مختلف سیاسی تقریبات میں شامل ہوتے رہے ہو، بہت خوشی ہوئی۔ اگر تم سیاست میں دلچسپی رکھتے ہو تو میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ پہلے اس کا بخوبی مطالعہ کرو، لیکن اپنی تعلیم کو نظر انداز نہ کرنا۔ اگر تم ہندوستان کہ سیاست کا مکمل مطلع کرتے ہو تو مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تم تعلیم مکمل ہونے کے بعد زندگی کی جدوجہد میں کامیاب فرد کے طور پر داخل ہوگے۔

سعید غنی نے کہا کہ اس دنیا اور ملک میں بہت سارے لوگ آئے اور اپنا اپنا کردار ادا کیا لیکن بھٹو شہید کے جو کارناموں کی فہرست نہ ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو شہید کہ سیاست سوچ اور عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے 17 سال کی عمر میں قائد اعظم کو یہ خط لکھا اور اس میں کہہ رہے ہیں کہ میں پاکستان کے لئے اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔ سعید غنی نے کہا کہ 1958 میں یہی ذوالفقار علی بھٹو صرف 30 سال کی عمر میں پاکستان کا وفاقی وزیر بنتا ہے اور مختلف وزارتوں پر رہے اور 1966 تک وفاق وزیر رہے۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص نے 30 سال کی عمر میں کابینہ میں اپنی جگہ بنالی ہو۔ ان کے وزیر خارجہ کے طور پر ہی صرف کارنامے نہیں تھے، وہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہے ان میں بھی ان کے بڑے کارنامے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 39 سال کی عمر میں شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی بناتے ہیں اور دنیا میں کسی ایک ایسی سیاسی جماعت کی مثال نہیں ملتی، جس نے بننے کے 3 سے 4 سال بعد ہونے والے انتخابات میں پورے ویسٹ پاکستان میں کلین سوئپ کرلیا ہو۔ اس کے بعد 42 سے 43 سال کی عمر میں وہ پاکستان کے صدر بنے اور بعد میں وہ وزیر اعظم بنے۔

سعید غنی نے کہا کہ 1977 میں 49 سال کی عمر میں ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت سے ہٹا دیا جاتا ہے اور 1979 میں جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کی عمر 51 سال ہوتی ہے تو انہیں شہید کردیا جاتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ان کی 51 سال کی عمر میں انہوں نے کیا ہے اس کا تصور کیا جائے تو دنیا میں بڑے بڑے لیڈر اور رہنما آئے ان کا موازنہ کیا جائے تو ایک بھی ایسا نہیں ملے گا جنہوں نے 51 سال کی عمر تک اپنی 21 سالہ سیاسی زندگی جو کارنامے بھٹو شہید نے کئے اس طرح کے کئے ہوں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ آج شہادت کے بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو ہمارے دلوں اور مخالفوں کے ذہنوں پر طاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وہ انٹرویو نشر کیا جاتا ہے، جس میں کہتے ہیں کہ میں اور میرے بچے اس ملک کے لئے اپنی جانیں پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا اس انٹرویو میں انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو، مرتضٰی بھٹو اور شاہنواز بھٹو کا نام لیا، جن تینوں نے اس ملک کے لئے شہادتیں دیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اسی لئے ہمیشہ کہتا ہوں کہ بھٹو خاندان کوئی اور ہی مخلوق ہیں یہ ہمارے جیسے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا شہید محترمہ بینظیر بھٹو ان کی جان صرف ان کے خاندان کے لئے بلکہ اس ملک کے کروڑوں عوام کے لئے قیمتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آج یقین ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اس وقت جنت الفردوس میں ہوں گے کیونکہ انہوں نے اس ملک اور یہاں کے کروڑوں لوگوں کے لئے جو کچھ کیا ہے وہ انشاءاللہ وہی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم رہیں یا نہ رہیں اس دنیا میں ان کا نام رہتی دنیا تک باقی رہے گا۔

Comments
Loading...