عزت کے ساتھ قبول کرلیں یا ذلت کے ساتھ، مئیر جماعت اسلامی کا ہی ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی: ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اپنے ایڈمنسٹریٹر لگانے کے لیے تو تیار رہتے ہیں لیکن کراچی کو اس کا حق دینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ حافظ نعیم الرحمن
عزت کے ساتھ قبول کرلیں یا ذلت کے ساتھ، مئیر جماعت اسلامی کا ہی ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا ادارہ نور حق میں جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی نشستوں پر قبضے کی کوششوں، دوبارہ گنتی پراسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناع اور ملتوی شدہ نشستوں پر انتخابات کے حوالے سےپریس کانفرنس سے خطاب
انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں بار بار نشاندہی کے باوجود درست طریقے سے نہیں کروائی گئی۔ مردم شماری میں جو نقشے دیے گئے ہیں وہ بھی درست نہیں ہے۔ مردم شماری کے ڈیٹا میں اختیار نہیں دیا جارہا کہ شہری کل تعداد جان سکے۔ کراچی سب کو پالتا ہے لیکن جب بھی کراچی سیاسی طور پر آگے بڑھتا ہے تو کراچی پر شپ خون مارا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر 5 سے 7 فیصد اضافہ کرکے پھر سے کراچی کے عوام پر شب خون مارا جارہاہے۔ ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر کراچی کے عوام کے ساتھ مذاق بند کیا جائے۔ ادارہ شماریات جواب دیں کہ بلاک کوڈ کی سطح پر مردم شماری کیوں نہیں کی جارہی۔ کرپشن کرنا ہو تو کراچی ہے ،حقوق سلب کرنا ہو کراچی نظر آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی جو جان بوجھ کر کم گنا جارہا ہے۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اپنے ایڈمنسٹریٹر لگانے کے لیے تو تیار رہتے ہیں لیکن کراچی کو اس کا حق دینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ کراچی اور حیدرآباد کی آبادی کو کم گن کر ان کا حق چھینا جارہاہے۔ پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ کراچی کی آبادی کو درست گنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آبادی درست کرنے کے بجائے اندرون سندھ اور کراچی شہر میں بھی وڈیرہ شاہی نظام تسلط کرنا چاہتی ہے۔ کراچی کے عوام بے روزگار ہیں ،ملازمتین میسر نہیں ییں۔ ایم کیو ایم نےپی ٹی آئی کے ساتھ مل کوٹہ سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافہ کیا۔ کوٹہ سسٹم میں بھی دیہی وشہری کوٹے میں تقسیم کرکے شہریوں کو ملازمتوں سے محروم کردیا گیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مردم شماری میں قومی شناختی کارڈ کا اندراج ضروری یونی چاہیے۔ جو جہاں رہتا ہے اسے شمار کیا جائے۔ جعلی مردم شماری کرکے کراچی کے عوام کا حق مارا جارہا ہے اور اس میں تمام پارٹیاں شامل ہیں۔ شہر میں آئے روز اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ کراچی سمیت پورے ملک میں بدترین مہنگائی ہے۔ رمضان المبارک کے ماہ میں مہنگائی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کے لیے سحر و افطار کرنا مشکل کردیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی نے شہر کے مختلف مقامات پر سستے بازار لگائے ہیں اور ماہ رمضان میں عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کی زمہ داری ہے کہ بد ترین مہنگائی کو کم کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ حکومت و متعلقہ علاقوں کی نااہلی کی وجہ سے آج ملک میں ہو ش ربا مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جماعت اسلامی کے حقیقی مینڈیٹ کو تسلیم کریں۔ ملک کی سب سے بڑی بد قسمتی ہے کہ الیکشن کمیشن پیپلز پارٹی کی بی ٹیم کا رول ادا کررہا ہے۔ 6 نشستیں جن کا نوٹس ازخود الیکشن کمیشن نے کیا تھا اس کا فیصلہ ری کاونٹنگ کے نام پر جاری کردیا گیا۔ ہم نے مطالبہ بھی کیا تھا کہ 6 نشستوں کے تھیلوں کو سیلز کی جائیں اور آراوز اور ڈی آراوز سے لیے جائیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ دو ماہ کی تاخیر کے بعد پیپلز پارٹی کے آراوز اور ڈی آراوز نے تھیلوں سے ووٹ نکال کر ووٹ تبدیل کیے۔ جماعت اسلامی نے 66 نشستوں پر ری کاونٹنگ کا مطالبہ کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے 66 نشستوں کے بجائے 17 نشستوں میں ری کاونٹنگ کا فیصلہ جاری کردیا۔ ضلع غربی کی 6 نشستوں میں ری کاونٹنگ کا مسئلہ ہی نہیں تھا دو ماہ تک فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد ری کاونٹنگ کا کیوں کہا گیا۔
انہوںنے کہا کہ پیپلز پارٹی کی من مانی کر آراوز اور ڈی آراوز نے اورنگی کی نشستوں کا رزلٹ تبدیل کردیا۔ جماعت اسلامی ہائی کورٹ میں چھینی گئی نشستوں کی سماعت میں شرکت کریں گے۔ ہم کراچی کے ایک ایک ووٹ کا تحفظ کریں گے۔ الیکشن کمیشن یہ سمجھتا ہے کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر عوامی مینڈیٹ پر قبضہ کرلیں گے۔ عوامی مینڈیٹ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آئینی قانونی اور جمہوری جدوجہد کریں گے۔ الیکشن کمیشن ، پیپلز پارٹی اور حکومتی ادارے جس جس نے عوامی مینڈیٹ پر قبضہ کیا سب کو بے نقاب کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام جماعت کا ساتھ دیں ہم ایک ایک ووٹ کا تحفظ کریں گے۔ ہم پی ٹی آئی سے بھی کہتے ہیں کہ جماعت نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے آپ بھی شامل ہوجائیں۔ ملتوی شدہ 11 نشستوں کے انتخابات اپنے وقت پر ہی ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی ایک بار پھر سے انتخابات سے فرار کا راستہ اختیار کررہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے پہلے 6 سال اور پھر ڈھائی سال تاخیر سے انتخابات کروائے۔ جماعت اسلامی ملتوی شدہ نشستوں میں بھرپور شرکت کریں گے۔ عزت کے ساتھ قبول کرلیں یا ذلت کے ساتھ مئیر جماعت اسلامی کا ہی ہوگا۔ جماعت اسلامی واحد پارٹی ہے جس میں حوصلہ موجود ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے۔