الفلاح ڈی اور ڈی ایکسٹینشن کو پانی کے مسائل درپیش، متعلقہ حکام سے رابطے کے باوجود حل نہ ہو سکا۔ صدر امین شیخ
اتنی طویل جدوجہد کے بعد بھی الفلاح ڈی اور ڈی ایکسٹینشن کے علاقہ مکینوں کو پانی کی فراہمی کے حوالے سے صرف امید ہی باقی ہے۔
الفلاح ڈی اور ڈی ایکسٹینشن کو پانی کے مسائل درپیش، متعلقہ حکام سے رابطے کے باوجود حل نہ ہو سکا۔ صدر امین شیخ
تفصیلات کے مطابق الفلاح ریزیڈنسی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر امین شیخ نے کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے الفلاح علاقے کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اس دوران محکمہ واٹر بورڈ کے مختلف ایگزیکٹو انجینئرز کی جانب سے تین بار کوششیں کی گئیں، لیکن بدقسمتی سے ان میں سے کسی بھی ایگزیکٹو انجینئر نے اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدگی سے دلچسپی نہیں لی۔ ان میں زاہد، دلاور اور علی احمد شامل تھے، مگر مسئلہ جوں کا توں رہا۔
سال 2018 سے الفلاح کی ایسوسی ایشن اور علاقہ مکین مختلف فورمز پر جا کر حکام سے اس مسئلے کے حل کی کوششیں کرتے رہے ہیں، مگر پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ مازی میں جامعہ پمپنگ اسٹیشن سے ایک ہائیڈرنٹ آپریٹ کیا کرتا تھا، اُس وقت تک سپلائی اور پانی مکمل تھا، لیکن جب سے وہ ہائیڈرنٹ بند ہوا ہے، پانی کی مقدار اور سپلائی بالکل نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے۔ پی پی کے ڈپٹی میئر سلمان مراد کی قیادت میں واٹر بورڈ کی ٹیم نے جامعہ سپلائی کی مین لائن کی وِنچنگ اور موٹر کی مرمت کے کاموں کو مکمل کیا، تاہم بلک سے پانی کی مکمل فراہمی نہ ہونے کے سبب یہ اقدامات بھی کافی ثابت نہ ہو سکے۔
سابقہ ایم پی اے حسین اور سابقہ ایم این اے اکرم چیمہ سے بھی اس مسئلے کے حل کے لیے رابطہ کیا گیا تھا، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ علاقے کے مکینوں نے اپنے خرچ پر تین بار پانی کی لائن کی صفائی کروائی، مگر واٹر بورڈ کی ٹیم نے بتایا کہ لائن ٹیڑھی ہے، اور جب تک اس کی تبدیلی نہیں کی جائے گی، پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی۔ اس سے قبل، الفلاح بلاک سی کے علاقہ مکینوں نے محتسب سے بھی رابطہ کیا تھا، جس کے بعد علاقے میں واٹر لائن کی ونچنگ اور مرمت کی گئی تھی، اور اس کے لیے مکینوں نے اپنے ذاتی وسائل سے اخراجات کیے تھے۔
سابقہ محکمہ واٹر بورڈ کے ایگزیکٹو انجینئر (ایکسین) زاہد کے دور میں ایدھی وال سے آنے والی سپلائی لائن کو بند کر دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں الفلاح کی سپلائی شیڈول سے ہٹا دی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بارے میں کسی کو آگاہی نہ تھی، اور الفلاح کو کئی سالوں سے پانی کی فراہمی بند ہو چکی تھی۔
اب مسئلے پر ایم این اے آسیہ اسحق باجی نے ذاتی دلچسپی لی اور واٹر بورڈ کی ٹیم سے فالو اپ کرکے ایدھی وال والی سپلائی الفلاح کے لیے بحال کروا دی، جس کا شیڈول اور وال کی مرمت کا کام ابھی باقی ہے۔ علاقہ مکینوں نے کئی بار مختلف سیاسی جماعتوں اور حکام کے دروازے کھٹکھٹائے، لیکن ان کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ تمام آپشنز کو آزمانے کے بعد، مکینوں نے محتسب میں شکایت درج کی، جس کی سنوائی 23 دسمبر کو ہو چکی ہے۔
موجودہ محکمہ واٹر بورڈ کے ایگزیکٹو انجینئر عدنان رشید نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس مسئلے پر ذاتی دلچسپی لیں گے اور علاقے کے دیگر مسائل کے حل میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ اتنی طویل جدوجہد کے بعد بھی الفلاح ڈی اور ڈی ایکسٹینشن کے علاقہ مکینوں کو پانی کی فراہمی کے حوالے سے صرف امید ہی باقی ہے۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس مسئلے پر مزید تفصیلات حاصل کریں اور اس کے حوالے سے ایک تفصیلی خبر تیار کریں تاکہ عوام تک یہ مسئلہ پہنچ سکے۔


