جماعت اسلامی عورت کے لیے ایک محفوظ خاندان کی مانند ہے۔ ڈاکٹر حمیرا طارق
جماعت اسلامی پاکستان کی خواتین کی ادارہ نور الحق میں اہم پریس کانفرنس
جماعت اسلامی عورت کے لیے ایک محفوظ خاندان کی مانند ہے۔ ڈاکٹر حمیرا طارق
کراچی : جماعت اسلامی پاکستان کی خواتین کی ادارہ نور الحق میں اہم پریس کانفرنس۔ کانفرنس کی سربراہی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق کی پریس کانفرنس۔ انہوں نے کہا کہ اج ہماری پریس کانفرنس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ امیر جماعت محترم اسراج الحق صاحب نے انتخاب کے لحاظ سے مہم کا اغاز کیا ہے۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کے بالکل ساتھ اس کا حصہ ہے۔ جماعت اسلامی کے اندر خواتین بے شک تابع نظم ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمارا اپنا پورا سسٹم ہے۔ ہم اپنے فیصلے کرنے میں اپنے منصوبے بنانے میں بالکل جو ہے وہ اختیار رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی وہ پارٹی ہے کہ جو بالکل جمہوری روایات کی امین ہے۔ ہمارے انٹرا پارٹی انتخابات بالکل تسلسل کے ساتھ ہوتے ہیں۔ طوفان ہو بارش ہو اندھی ہو جو بھی حالات ہوں ہمارا انتخابات کا سسٹم بالکل اٹو پہ لگا ہوا ہے۔ ہماری محترمہ دردانہ صدیقی صاحبہ جن کا کراچی سے ہی تعلق ہے۔ نو سال اس ذمہ داری پہ رہیں ان کا ٹینور مکمل ہونے کے بعد انتخابات کے ذریعے ہی یہ تبدیلی عمل میں لائی گئی۔ جماعت اسلامی وہ پارٹی ہے جو کوئی مسلک خاص کوئی الگ سے کسی مسئلے کی ترویج نہیں کرتی۔ کوئی لسانی یا کوئی قومی تعصب نہیں رکھتی۔ ہم وحدت کی بات کرتے ہیں امت مسلمہ کی وحدت کی بات ہم پاکستان کی وحدت کی بات تمام صوبوں کی وحدت کی بات تمام قوموں کی عبادت کی بات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اکٹھا دیکھنا اور اکٹھا رکھنے کا عزم لے کر اگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ کہ ہم بے شک اپنا دستور رکھتے ہیں اور اپنا ایک نظام رکھتے ہیں۔ ہمارا اصل رہنما اور رہبر ہم باقی مسلمانوں کی طرح قران پاک اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مانتے ہوئے لیکن پاکستان کے ائین کے ہم بالکل وفادار ہیں۔ پاکستان کے ائین کے تحت ہم کام کرتے ہیں دعوت و تبلیغ کا اور پاکستان کے ائین کے اندر رہتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو ترتیب دیتے ہیں۔ ائین پاکستان کے تحت جو انتخابات کا فارمولا ہے اسی فارمولے کے مطابق ہماری خواتین جو ہیں وہ جنرل اسمبلی کے اندر بھی جنرل الیکشن کے اندر بھی حصہ لیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جو نومینیشن کا مرحلہ ہوتا ہے وہ بھی بالکل ائین پاکستان قانون پاکستان کے مطابق اس میں بھی جائیں گی۔ الحمدللہ وہ اپنے اسمبلی بزنس میں نمبر ون پہ رہیں۔ ہماری خواتین خواہ وہ سندھ سے تھی یا خیبر پختون خواہ سے یا بلوچستان سے یا پنجاب سے ہر جگہ کی خاتون نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ خواتین اپنے گھریلو پوری ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے سوشل ورک کا کام بہت ایک اعلی پیماننے پہ کرتی ہیں۔ خواتین کا خدمت کے حوالے سے پورا ایک طے شدہ نظام ہے کہ کس کہیں پر کسی کو مسئلہ ہو کچھ مشکل و خواتین بہت اگے بڑھ کر تمام کی خدمت کے پہلوؤں کو لے کر اگے بڑھتی ہیں۔ پاکستانی عورت کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ پاکستان کے اندر قومی اور صوبائی انتخابات بالکل منصفانہ ہو اور شفاف ہوں۔ پورے اس سارے نظام میں جو کرپشن ہے جو مہنگائی ہے جو اجارہ داری ہے جو خاندانی سیاست ہے جو قبائلی سیاست ہے جو ذاتی سیاست ہے۔ ان سب میں عورت متاثر ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر سمعیہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی عورت کے لیے ایک محفوظ خاندان کی مانند ہے۔ یہ ادارہ ہمیں ایسے ہی لگتا ہے جیسے ہمارا اپنا گھر ہو۔ ایلیٹ جو طبقہ ہے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارا ملک اس ایلیٹ طبقے کے لیے بنا تھا۔ جو مخصوص خاندان ہیں یا جو مخصوص اجازت دار طبقے ہیں اسی نے اس پورے ملک کے وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس کا واحد حل یہی انتخابات ہوں انتخابات میں عام ادمی وہ پارٹیسپیٹ کرے۔ تقریبا 60 فیصد لوگ گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ اپنے مال کی الخدمت کو جماعت اسلامی کو اس دفعہ اپنے ووٹ بھی دیں تاکہ اپ کو پتہ چلے کہ ہم کتنی زیادہ دیانتداری کے ساتھ اپ کو اپ کے اس ووٹ کا استعمال کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپ لوگوں نے کراچی میں جماعت اسلامی کے اوپر اعتماد کیا۔ اس کے لیڈر حافظ نعیم پر اعتمادکیا۔ اگرچہ وہ ووٹ چوری کر کے لے گئے پیپلز پارٹی۔ لیکن ساری دنیا اب اس کو یعنی لعنت ملامت کر رہی ہے کہ وہ دھاندلی کے ذریعے سے وہ الیکشن جیتا گیا۔ ہم کراچی کے عوام سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس دفعہ جماعت اسلامی کو جس طرح انہوں نے بلدیاتی الیکشن میں ان کے اوپر اعتماد کیا وہ انے والے انتخابات میں جماعت اسلامی کے اوپر اعتماد کریں۔