کراچی کے بچوں کا معیار تعلیم گرانے پر تو وزیر اعلیٰ سندھ کو اخلاقاً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ڈاکٹر فاروق ستار
میٹرک بورڈ ہو یا انٹر بورڈ تمام جگہوں پر کراچی کے بچوں کے نتائج کو کم کیا جارہا ہے جبکہ اندرون سندھ کے بورڈز کے بچوں کی نتائج کو بڑھایا جارہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار
آزاد تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جس میں اچھی شہرت کے حامل اساتذہ ہوں نیز دونوں جانب سے اراکینِ اسمبلی بھی ہوں۔ ایم کیو ایم پاکستان کا مطالبہ
کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما و رکن مرکزی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو اگر قومی لیڈر بننا ہے تو پہلے سندھ کا کچرا صاف کریں۔ پچھلے 16 سالوں سے سندھ میں بدترین حکمرانی بد عنوانی اور نااہلی کا سلسلہ جاری ہے، اب تعصب کی انتہا ہو چکی ہے، کسی بھی طبقے کو اگر تباہ و برباد کرنا ہے تو وہاں کے تعلیمی نظام کو تباہ کردیا جاتا ہے سندھ حکومت بھی سندھ اور شہری سندھ کے ساتھ یہی کر رہی ہے۔ میٹرک بورڈ ہو یا انٹر بورڈ تمام جگہوں پر کراچی کے بچوں کے نتائج کو کم کیا جارہا ہے جبکہ اندرون سندھ کے بورڈز کے بچوں کی نتائج کو بڑھایا جارہا ہے۔ جو بچے پرائیویٹ اسکولوں میں آٹھویں جماعت تک بہترین کارکردگی دکھاتے وہ میٹرک اور انٹر میں کیسے فیل ہو رہے ہیں؟
سندھ کے تعلیمی بورڈز کے نااہل افسران کی ملی بھگت سے شہری سندھ کے بچوں کو تعلیم سے دور کیا جارہا ہے۔ کراچی اور لاڑکانہ کے بورڈز میں پرسنٹیج میں واضح فرق آرہا ہے، کراچی کے بچوں کا معیار تعلیم گرانے پر تو وزیر اعلیٰ کو اخلاقاً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ کل انہوں نے امیر قادری کو ہٹایا تو میٹرک بورڈ کے شرف الدین کو لگا دیا ان کے پاس کوئی آدمی میرٹ پر لگانے کے لئے موجود نہیں سارے نظامِ تعلیم میں سیاست کی جارہی ہے۔ پورے پاکستان کا تعلیمی نظام سندھ سے آگے نکل چکا وہ وقت بھی دور نہیں جب بلوچستان بھی سندھ سے آگے ہوگا۔ جامعہ این ای ڈی اور میڈیکل ٹیسٹ کے رزلٹ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ کراچی کے بچے نا اہل نہیں، کراچی کے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں 67 فیصد بچوں کو فیل کر دیا گیا۔
اب انکے والدین سے اسکروٹنی اور دوبارہ امتحان کے پیسے لیئے جائیں گے۔ آمدنی کے نئے نئے ذرائع پیدا کیئے جا رہے ہیں، بچوں کو اس لیے فیل کیا جا رہا ہے کہ وہ دوبارہ فیسیں دیں۔ اندرون سندھ میں 70 فیصد پاس جبکہ کراچی میں 70 فیصد بچے فیل ہیں۔ پرائیویٹ اسکولوں کی وجہ سے ہماری خواندگی بہتر ہے۔ کراچی والے بھی اب اپنی رجسٹریشن لاڑکانہ اور سکھر سے کرائیں یا ضیا الدین بورڈ سے کرائیں؟ میرٹ کا قتل کر کے اندرون سندھ کے بچوں کو شہری سندھ کی جامعات میں داخلے دیئے جا رہے ہیں۔ این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹوں میں 66 فیصد کراچی بورڈ کے بچے پاس ہوئے جب میرٹ پر بات آئے تو اندرون سندھ کے بچے کیوں پرفارم نہیں کر پا رہے، سندھ حکومت نے انہیں بیساکھیوں کی عادت ڈال دی ہے۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے ڈاکٹرز کے انٹرویو ہوئے 20 میں سے پہلی 15 پوزیشنز اربن سندھ کی بیٹیوں کی ہیں۔
ٹیکنیکل بورڈز کے داخلے کے امتحان میں بھی بغیر وجہ 6 ماہ کی تاخیر کر دی گئی۔ چیئرمین ٹیکنیکل بورڈ کو صرف اپنی مراعات کی فکر ہے بچوں کی تعلیم کی نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آزاد تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جس میں اچھی شہرت کے حامل اساتذہ ہوں نیز دونوں جانب سے اراکینِ اسمبلی بھی ہوں۔ کاپیوں کا فرانسک آڈٹ ہونا چاہیے بچوں کو انکی کاپیاں دکھائی جائیں، پچھلے سال کی کمیٹی نے بھی کہا کہ بچوں کو کم نمبر دیئے گئے ہیں۔ اگر یہی کرنا ہے تو بورڈذ کے مطابق سیٹیں متعین کی جائیں اور سندھ حکومت کے پاس قابل بندے نہیں تو فیڈرل بورڈ، آغا خان بورڈ سے بندے لے لیں، خدارا صوبے کو اپنے تعصب کی آگ میں نہ ڈالیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر رہنما سید امین الحق، قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی، انچارج اے پی ایم ایس او حافظ شہریار اور دیگر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ کوٹہ سسٹم کے نفاذ سے اگر اندرون سندھ کے نوجوانوں کو تعلیم دی جاتی تو صبر کر لیتے، شہری سندھ کے نوجوانوں کا بھی بیڑہ غرق کیا گیا اور اندرون سندھ بھی نوجوانوں کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ طاقت ور مزید طاقتور ہوتے چلے جا رہے ہیں لڑاؤ اور کھاؤ پر کار بند ہیں۔
کوٹہ سسٹم کے بعد تعلیمی بورڈز کے ذریعے شہری نوجوانوں کا معیار تعلیم خراب کیا جا رہا ہے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ بورڈز کے نتائج کو زبردستی خراب کیا جا رہا ہے جبکہ اندرون سندھ زبردستی نتائج بہتر کیئے جا رہے ہیں تاکہ کراچی کی جامعات میں بھی کراچی والوں کو حصہ نہ ملے۔