آئی سی ایم اے انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام فیوچر آف فنانس سمٹ 2026 اور نیشنل بجٹ کانفرنس اسلام آباد میں منعقد
اسلام آباد: آئی سی ایم اے انٹرنیشنل نے اسلام آباد میں کامیابی کے ساتھ فیوچر آف فنانس سمٹ 2026 اور نیشنل بجٹ کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں سینئر پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، مالیاتی ماہرین، کاروباری رہنماؤں، صنعتی نمائندوں اور پروفیشنل اکاؤنٹنگ کمیونٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں پاکستان کی معاشی سمت، عوامی مالیاتی اصلاحات، ریگولیٹری تبدیلیوں اور وفاقی بجٹ 2026-27 کے اثرات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی حکومتِ پاکستان کے وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ، معیشت کی دستاویزی شکل اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے آئی سی ایم اے انٹرنیشنل جیسے پیشہ ورانہ اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے مؤثر پالیسی مکالمے اور پاکستان کے مالیاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
سمٹ اور کانفرنس میں متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں امتیاز حیدر، کمشنر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، جمیل احمد قریشی، سیکریٹری اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)، ضیاء المصطفیٰ اعوان، چیئرمین پبلک سیکٹر ایڈوائزری کمیٹی، ایس اے ایف اے اور عائلہ مجید، سابق صدر اے سی سی اے شامل تھیں۔ اس کے علاوہ سینئر پیشہ ور افراد، ریگولیٹرز، کاروباری رہنماؤں اور مالیاتی ماہرین نے بھی شرکت کی۔
اجلاسوں میں عوامی مالیاتی نظم و نسق، ریگولیٹری اصلاحات، کاروبار میں آسانی، صنعتی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ، ٹیکس پالیسی، بجٹ اقدامات اور اقتصادی فیصلہ سازی میں مالیاتی ماہرین کے بدلتے ہوئے کردار جیسے اہم قومی موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش ساختی معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، پیشہ ورانہ اداروں اور کاروباری برادری کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عظیم حسین صدیقی، صدر آئی سی ایم اے انٹرنیشنل نے کہا کہ آئی سی ایم اے بجٹ کے بعد کانفرنسوں اور پالیسی مکالموں کے انعقاد کی ایک مضبوط روایت رکھتا ہے تاکہ اقتصادی اور مالیاتی امور پر مؤثر آراء اور تجاویز فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ 2026-27 کو صرف ایک سالانہ مالیاتی دستاویز کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے پالیسی آلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو معاشی ترقی، مسابقت میں اضافہ، ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری شعبے کی معاونت میں مددگار ہو۔
محمد یاسین، نائب صدر آئی سی ایم اے انٹرنیشنل نے پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، صنعت کاروں اور پروفیشنل اکاؤنٹنٹس کے درمیان تعمیری روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی ایم اے قومی اقتصادی ترجیحات پر مکالمے کو فروغ دینے اور قابلِ عمل سفارشات کی تیاری کے لیے پلیٹ فارمز فراہم کرتا رہے گا۔
عبدالقیوم، اعزازی خزانچی آئی سی ایم اے انٹرنیشنل نے معزز مہمانوں، مقررین، پینلسٹس، اسپانسرز اور اراکین کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے فورمز حکومت، ریگولیٹرز، کاروباری برادری اور مالیاتی ماہرین کے درمیان مؤثر روابط قائم کرتے ہیں، جس سے قومی بجٹ کی ترجیحات اور اصلاحاتی اقدامات کے بارے میں بہتر آگاہی پیدا ہوتی ہے۔
سمٹ کے دوران غلام مصطفیٰ قاضی، سابق صدر اور رکن نیشنل کونسل آئی سی ایم اے انٹرنیشنل نے ایک جامع تکنیکی پریزنٹیشن بھی پیش کی، جس میں انہوں نے بجٹ میں کی جانے والی اہم ترامیم، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے اقدامات، معیشت کی دستاویزی ضروریات، تعمیل کے چیلنجز اور ان کے کاروباری اداروں اور ٹیکس دہندگان پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
نیشنل بجٹ کانفرنس میں وفاقی بجٹ 2026-27 پر تفصیلی اور بصیرت افروز مباحثے ہوئے، جن میں پینلسٹس نے اہم ٹیکس اقدامات، مالیاتی ترجیحات، کاروباری اثرات، عوامی شعبے کی ترقی، ریگولیٹری اصلاحات اور اقتصادی بحالی کے مواقع کا جائزہ لیا۔ شرکاء نے پالیسیوں کے تسلسل، ٹیکس نظام کی سادگی، معیشت کی مزید دستاویزی شکل، سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے لیے ہدفی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔