امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے منشورِ کراچی کا اعلان کردیا
جماعت اسلامی کراچی میں گیس لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرے گی اورصنعتوں اور رہائشی ٹیرف میں کمی کی جائے گی۔ حافظ نعیم الرحمن
امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے منشورِ کراچی کا اعلان کردیا
کراچی : کراچی ترقی کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو پورا پاکستان آگے بڑھے گا۔ امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے منشورِ کراچی کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مردم شماری میں کراچی سے ہونے والی زیادتی کا ازالہ کرے گی اور دوبارہ مردم شماری میں کراچی کے تمام ساڑھے تین کروڑ شہریوں کو گنا جائے گا۔ درست مردم شماری کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں شہر کی نمائندگی ‘ملازمتوں میں اضافہ اور انفرا اسٹرکچر کوبہتر بنانے کو یقینی بنایا جاسکےگا۔ کراچی میں پانی کے بحران کےحل کے لیے 650 ملین گیلن پانی کی روزانہ فراہمی کے منصوبے کے فور(K-4)کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ شہر میں پانی کی منصفانہ بنیادوں پر تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا اور ٹینکر مافیا کا خاتمہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی پانی کو ریسائیکل کرنے اور سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنایا جائے گا۔ طویل زیرِ التوا سیوریج کاایس3 منصوبہ فوری مکمل کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کراچی میں گیس لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرے گی اورصنعتوں اور رہائشی ٹیرف میں کمی کی جائے گی۔ نئے ذخائر کی تلاش‘نشان زد ذخائر سے پیداوار‘ٹیکنالوجی کے استعمال‘ایل این جی کی خریداری میں کک بیکاور کرپشن کو ختم کیا جا ئے گااور ورچوئل پائپ لائن کو یقینی بنایا جائے گا۔ بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کے الیکٹرک کی اجارہ داری کا خاتمہ کرے گی ، بجلی کے ٹیرف میں کمی لائے گی ۔ نئی کمپنیوں کو مدعو کرکے ڈسٹری بیوشن کے لیے مزید لائسنس کا اجرا کرے گی۔ علیم کے شعبے میں سرکاری اسکولوں کو ماڈل اسکولوں میں تبدیل کیا جائے گا اور آئی ٹی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور شہر میں نئی جامعات بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی :شہر کی تمام جامعات اور تعلیمی اداروں میں فری آئی ٹی ایجوکیشن پروگرام شروع کیا جائے گااورنوجوانوں کے لیے انٹرپینور شپ (کاروبار کو فروغ)پروگرام کا آغاز کیا جائے گا۔ سکل ڈیولپمنٹ کے ادارے بنائیں گےاورکراچی کے تمام ڈگری کالجوں میں بی سی ایس پروگرام شروع کریں گے۔ اسکالر شپ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو صلاحیتوں میں اضافے کے لیے بہترین اداروں میں تعلیم کے مواقع دیں گے۔ کراچی کے نوجوانوں کا سرکاری ملازمتوں میں حصہ یقینی بنایا جائے گا۔ نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے بچانے کے لیے شہر میں اسپورٹس کو فروغ دیا جائے گا ۔ ہر ٹاؤن میں اسپورٹس کمپلیکس بنانا اور یونین کونسل اور وارڈز کی سطح پر موجود کھیل کے میدانوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرکے بحال کرنا ہماری ترجیح ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں سٹی اولمپکس کرائیں گے اور ٹاؤنز کی سطح پر کھیلوں کی ٹیمیں بنائی جائیں گی۔ طالبات اور خواتین میں کھیلوں کے فروغ کے لیے با وقار فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ کراچی کے لیے صحت کارڈ: ہیلتھ سیکٹر میں نہ صرف سرکاری اسپتالوں کو جدید ترین سہولیات سے ہم آہنگ کیا جائے گا بلکہ شہریوں کو ’’مفت علاج ‘‘کے لیے ’’صحت کارڈ ‘‘متعارف کرائیں گے ۔ یونین کونسل کی سطح پر بنیادی مراکز ِصحت اور ٹاؤنز کی سطح پر مدر اینڈ چائلد کیئر سینٹرز کا قیام بھی اہداف میں شامل ہے۔ اسٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لیے کراچی کو سیف سٹی بنایا جائے گا۔ پولیس کو ریفارمز کے ذریعے نہ صرف وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں گے بلکہ کراچی کے مقامی مستقل رہائشی شہریوں کو پولیس میں ترجیحاً بھرتی کیا جائے گا ۔ ٹرانسپورٹ کی جدید ترین سہولیات کی فراہمی کے لیے کراچی سرکلر ریلوے کا پراجیکٹ ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔
انہون نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے پر بڑی بسیں چلائیں گےاور شہر میں مختلف روٹس پر پانچ سال میں کم از کم پانچ ہزار بڑی بسیں چلائی جائیں گی۔ بی آر ٹی کو لائیٹ ریل سسٹم سےتبدیل کیا جائے گا۔ کراچی ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے ‘اس لیے بڑے پیمانے پر گرین اسپیسز میں اضافہ کیا جائے گا ۔ بوٹونیکل گارڈن(نباتاتی باغ) بنائے جائیں گے، ایئر کوالٹی ریگولیشن ترتیب دے کر ایئر کوالٹی انڈیکس کو 100 سے نیچے لایا جائے گا۔ کراچی کو سندھ کے بجٹ سے ’’پی ایف سی ایوارڈ ‘‘کے مطابق مالیاتی اختیارات دیے جائیں گے‘ اس طرح نچلی سطح تک بلدیاتی ادارے بااختیار ہوں گے۔ امپورٹ پر انفراسٹرکچر ٹیکس کی رقم کو کراچی کے لیے صرف کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے “ویمن امپاورمنٹ پروگرام” کا آغاز کریں گے ، آن لائن کورسز کے ذریعے انہیں فری لانسنگ اور ای کامرس کی تربیت دی جائے گی ۔ فری آئی ٹی ایجوکیشن کا آغاز کریں گے، محفوظ اور باعزت ٹرانسپورٹ کا آغاز کریں گے۔ تعلیم و تربیت اور میڈیا کو استعمال کر کے نئی نسل کو اپنی تاریخ‘ اقدار‘ امّت کے تصّور اور انسانیت کی بھلائی کے جذبوں کو فروغ دیا جائے گا۔