ہمارے ہمسائے ممالک نے آئی ٹی سیکٹر کی ایکسپورٹ سے ملک کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن
ملک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے روز بات کی جاتی ہے کہ اضافی ٹیکس کے علاوہ بھی کیا کیا جاسکتا ہے
ہمارے ہمسائے ممالک نے آئی ٹی سیکٹر کی ایکسپورٹ سے ملک کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی : حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعت اسلامی کراچی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے روز بات کی جاتی ہے کہ اضافی ٹیکس کے علاوہ بھی کیا کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے اس اہم مسئلے پر تجاویز لی ہیں۔ آج ایک اہم موضوع پر بات کی جائے گی کس طرح ملک کو مسائل سے باہر نکالا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام بنو قابل پروگرام امید کی کرن ہے۔ بنو قابل پروگرام کے زریعے نوجوانوں کو مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت نوجوانوں کیلیے تعلیم ہی نہیں روزگار کی بھی کوشش کررہی ہیں۔ حکمران آئی ایم ایف سے معاہدوں کے باعث پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تو آٹے اور چینی بھی عوام کی دسترس سے دور ہوگئی ہے۔ حکمرانوں نے اب ایک دوسرے پر الزام عائد کرکے الیکشن میں جانے کی تیاری شروع کردی ہیں۔ نگراں وزیراعظم اس صورتحال کو عوام کے سامنے کیوں نہیں پارہے۔ پاکستان بیسڈ آئی پی پیز سے معاہدوں پر نظرِ ثانی کیوں نہیں کی جارہی۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں نوجوان بچوں کی تعداد 70 لاکھ سے زائد ہیں۔ میٹرک کے امتحانات میں 4 لاکھ سے زائد بچے حصہ لیتے ہیں۔ شہر میں بہت بڑی تعداد میں بچے ہیں جن کے پاس تعلیم کے مواقع موجود نہیں۔ ایسے بچوں کے لیے آئی ٹی کورسز وقت کی ضرورت ہیں۔ ہمارے ہمسائے ممالک نے آئی ٹی سیکٹر کی ایکسپورٹ سے ملک کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوال ہے ہمارے ملک میں آئی ٹی سیکٹر پر توجہ کیوں نہیں دی گئی۔ اگر آج آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دی جائے تو مستقبل بہتر ہوسکتا ہے۔ آج شہر میں بچوں کے پاس مواقع نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ اس ملک کو اس وقت انقلاب کی ضرورت ہے۔ جو کام ایک سیاسی جماعت کرسکتی ہے وہ ہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم نے ائی ٹی کورسز شروع کیے تو لوگوں نے ہم پر تنقید کی۔ مگر ہم نے تنقید پر توجہ نہ دیتے ہوئے 15 ہزار بچوں کو کورسز کروائے۔ آئی ٹی منسٹرز نے بینرز لگوانے کی بجائے کچھ نہیں کیا۔ گورنر ہاوس کے باہر ایک فلاحی ادارے کے پیچھے حکومتی عہدیدار چھپ نہیں سکتے۔