Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

ہماری اولین ترجیح عوام کو سستی، معیاری رہائش کے ساتھ ساتھ قانونی رہائش فراہم ہوسکے۔ سعید غنی

وزیر بلدیات سندھ و چیئرمین بزنس فیسیلیٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہائوسنگ ٹائون پلاننگ سیکٹر کمیٹی سعید غنی کی زیر صدارت کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

0

ہماری اولین ترجیح عوام کو سستی، معیاری رہائش کے ساتھ ساتھ قانونی رہائش فراہم ہوسکے۔ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ و چیئرمین بزنس فیسیلیٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہائوسنگ ٹائون پلاننگ سیکٹر کمیٹی سعید غنی کی زیر صدارت کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کے چیئرمین حسن بخشی، وائس چیئرمین ذیشان، اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ عائشہ حمید، عثمان غنی، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے علی مہدی کاظمی، سنئیر ڈائریکٹر ماسٹر پلان حاجی احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگ زیب و دیگر بھی شریک تھے۔

اجلاس میں وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایات پر بننے والی بزنس فیسیلیٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہائوسنگ ٹائون پلاننگ سیکٹر کمیٹی کا پہلا اجلاس م منعقد ہوا۔ اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح عوام کو سستی، معیاری رہائش کے ساتھ ساتھ قانونی رہائش فراہم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ 1000 گز تک کے انفرادی گھروں کی تعمیر کے لئے نقشوں کی منظوری 15 یوم میں کی جارہی ہے اور اگر اس میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ ہوتی ہے تو اسے بھی فوری طور پر دور کیا جارہا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس کے لئے قانون سازی بھی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس سلسلے میں وزیر قانون سے بات کی ہے کہ جو بھی بلڈر غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہے اس کے خلاف سخت سے سخت قانون بنایا جائے اور ان کے خلاف نہ صرف ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے بلکہ اگر کوئی بلڈر 5 بار سے زائد بار ایف آئی آر کا مرتکب قرار پائے تو اس کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کردیا جائے۔ ساتھ ہی اس غیر قانونی تعمیرات کے گھروں کی فروخت کرنے والے رئیل اسٹیٹ اور خریدار کے خلاف بھی ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں خطرناک قرار دی جانے والی عمارتوں کے حوالے سے بھی سندھ حکومت قانون سازی کررہی ہے اور جو عمارتیں خطرناک قرار دی جاچکی ہیں ان کے مکینوں کو متبادل رہائش سمیت دیگر پر قانون وضح کیا جارہا ہے جبکہ تاریخی عمارتیں جو خطرناک قرار دی جاچکی ہیں اس حوالے سے بھی قانون بنانے کی ضرورت ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات میں کچھ بلڈرز ہی ملوث ہیں جو شہر میں اس طرح کی تعمیرات میں ملوث ہیں۔ اس موقع پر آباد کے چیئرمین حسن بخشی نے بلڈرز کو درپیش مسائل، ٹیکسز، نقشوں کی منظوری، زمینوں کے انفراسٹرکچر اور ان پر ترقیاتی کاموں کی تاخیر سمیت دیگر مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ہائوسنگ سیکٹر کو مضبوط کیا جائے تاکہ اس سے عوام کو اچھی اور سستی رہائش فراہم کی جاسکیں ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت آباد کو 10 ہزار ایکڑ زمین فراہم کرے، جس پر ہم عوامی ہائوسنگ اسکیم کی تعمیر کرکے وہاں کم لاگت کے گھر اور فلیٹس کی فراہمی کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کا نظام مکمل ڈیجیٹلائز نہ ہونے کے باعث ہائی رائس عمارتوں کی تعمیر کے لئے نقشوں کے حصول میں درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور زمینوں کا ڈیٹا ڈیجیٹلائز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ہم سندھ حکومت کو اپنا بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں اور ہمارا کوئی ممبر بھی اس میں ملوث ہوا تو ہم ان۔ کے ساتھ نہیں کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے 20 فیصد کی چھوٹ کے خاتمہ کا بھی ہم خیر مقدم کرتے ہیں البتہ جو عمارتیں سابقہ 20 فیصد وائلیشن کے تحت تعمیر کی جاچکی ہیں ان کو قانونی قرار دے کر ان کی مکمل ہونے کی سرٹیفکیٹ فراہم کیا جائے۔ جبکہ نئی تعمیر ہونے والی عمارتوں پر زیرو فیصد وائلیشن کی شرط کو برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں رہائشی صنعت کو درپیش مسائل کے حل سے نہ صرف ہم حکومت کو اربوں روپے کا رونیو فراہم کرسکیں گے بلکہ عوام کو اچھی، سستی اور معیاری رہائش بھی فراہم کی جاسکے گی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کمیٹی کے ممبران کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے تمام جائز مطالبات کو وہ آئندہ وزیر اعلٰی سندھ کے زیر صدارت بزنس فیسیلیٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں رکھیں گے اور اس کے دیرپا حل کے لئے تمام اقدامات کو بروئے کار لایا جائے گا۔

Comments
Loading...