کراچی میں بدبو گندگی اور تعفن پھیلنے کا ذمہ دار نااہل میئر اور اسکی کرپٹ بلدیاتی انتظامیہ ہے۔ قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشیدی
شہر کی بدترین صورتحال میں جماعت اسلامی کا کردار منافقانہ اور مشکوک ہے، انکا فوکس عوامی خدمت کے بجائے کھالیں اٹھانے میں ہے۔ قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشیدی
ٹاؤن سے لیکر یوسی لیول تک کرپشن کا بازار گرم ہے، عید الضحی کو کرپٹ اداروں نے سیزن بنایا ہوا ہے۔ قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشیدی
کراچی : ایم کیو ایم مرکز بہادرآباد پر پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے اراکین سندھ اسمبلی کے ہمراہ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عید کے فورا بعد وفاقی اور صوبائی حکومت کا بجٹ آجائے گا حکمرانوں سے اپیل ہے کہ ہمت پکڑیں عوام پر کم ٹیکسوں کا بوجھ ڈالیں۔ انکا کہنا تھا کہ شہر قائد میں عید الاضحیٰ میں جو صورتحال بن گئی ہے۔ اس میں عوام کی زندگی دوبھر ہو جاتی ہے، کراچی میں عید الاضحیٰ میں آلائشوں کو اٹھانے اور صفائی کرنے کی ذمہ داری سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ہے اور اس ادارے کی جانب سے اس سلسلے کنٹریکٹ دیے جاتے ہیں۔ اصولی طور پر ان کی ذمہ داری گھر گھر سے آلائشوں کو اٹھانے اور پھر ڈمپنگ پوائنٹس اور لینڈ فل سائٹس منتقل کرنے کی ہوتی ہے۔ شہر کی بلدیاتی انتظامیہ کو بتایا گیا کہ 96 کلیکشن پوائنٹس بنائے گئے ہیں، لیکن حقیقت میں اس شہر میں بدبو گندگی اور تعفن پھیل چکا ہے۔ جس کا ذمہ دار اس شہر کا نا اہل میئر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹاون سے لیکر یوسی لیول تک کرپشن کا بازار گرم ہے، عید الضحی کو کرپٹ اداروں نے سیزن بنایا ہوا ہے، ضلع وسطی میں سخی حسن قبرستان کی صورتحال، اورنگی، بلدیہ، ناظم آباد، لیاقت آباد، لانڈھی کورنگی، ملیر شاہ فیصل جائیں اور صورتحال دیکھیں، نا اہل میئر مرکزی شاہراہوں کے علاوہ بھی دورے کریں، اس ساری صورتحال میں جماعت اسلامی کا کردار منافقانہ اور مشکوک ہے، یہ اپنے ٹاون ناظمین کا سارا ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈال دیتی ہے، جن ٹاؤنز میں جماعت اسلامی کا چیئرمین ہے وہ برابر کا شریک جرم ہے، اپوزیشن لیڈر نے استفسار کیا کہ حلیم عادل شیخ آپ کے یوسی چیئرمین کیا کر رہے ہیں، وہ بھی اپنا جواب دیں، علی خورشید نے کہا کہ میئر کراچی کا کام چونا لگانا ہے، وہ بھی بلدیاتی ادارے چونے کے نام پر ماربل پاوڈر لگا رہے ہیں اور میئر کراچی ایم یو سی ٹی کے نام پر اس شہر سے ساڑھے بائیس کروڑ کا بھتہ اٹھا رہے ہیں۔ اس سے آج تک کیا کام ہوا؟
انکا کہنا تھا کہ میئر کراچی تم کراچی کی عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے بیٹھے ہو، جماعت اسلامی نے پیپلزپارٹی کے ساتھ بلدیاتی نظام پر ہاتھ ملا کر سندھ کا سودا کیا اور اپنی پوری توجہ کھالیں اٹھانے پر لگادی ہے،جماعت اسلامی کے سارا سال بینرز انہی پیسوں سے بنتے ہیں، عید الاضحیٰ سے قبل لوگوں کو پانی میسر نہیں تھا، اس شہر کے لوگ پریشان ہیں، جن ایریاز میں پانی آیا کرتا تھا میئر کی نااہلی کی وجہ سے آج وہاں بھی پانی ناپید ہے، لوگ منہ مانگے داموں ٹینکر خرید کر گزارا کرنے پر مجبور ہیں، اس طرح معاملات چلنے والے نہیں ہیں کراچی کی عوام پریشان ہے۔ میئر صاحب خدارا ہوش کے ناخن لیں ورنہ عوام آپ کا حساب کرے گی، ایم کیو ایم پاکستان سندھ اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران آپ کے کالے کرتوت عوام کو بتائے گی، بلاول بھٹو زبردست طریقے سے دنیا میں پاکستان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکار کی دہشتگردی کو بے نقاب کر رہے ہیں جبکہ انہی کی جماعت کے میئر نے اس شہر میں لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ میئر کراچی یوسی اور ٹاؤن سے آلائشوں کے نام پر کمیشن کھانے میں لگے ہوئے ہیں، سٹی کونسل میں بولتے ہیں پانی چوری کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں، پوری کراچی کو پتہ ہے پانی کون بیچ رہا ہے، اس صوبے کا وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کس جماعت کا ہے سب جانتے ہیں، پیپلزپارٹی والوں سے پوچھا جائے کیوں مسائل حل نہیں کر رہی، وزیراعظم سے نیو کراچی میں لائن ڈالنے کے درخواست کرنی پڑ رہی ہے کتنی نا اہلی کی بات ہے۔ہمیں میگا پراجیکٹس کی بات کرنی چاہئے تھی۔ہمیں سرکلر ریلوے کی بات کرنی چاہئے تھی۔میئر کراچی کی کوتاہی کی نشاندہی کرتے ہیں تو یہ ہمیں طعنے دیتے ہیں، اس موقع پر رُکن سندھ اسمبلی و ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد، رُکن سندھ اسمبلی محمد دلاور، جمال احمد، قرات العین و دیگر ارکان بھی موجود تھے۔