سندھ میں ہونے والی مردم شماری تاحال درست سمت میں نہیں ہے۔ سعید غنی
کراچی میں مئیر کے انتخابات میں تاخیر اور مئیر سے قبل 11 نششتوں پر ضمنی انتخابات میں دو ماہ کی تاخیر کی ذمہ دار الیکشن کمیشن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز کراچی پریس کلب کی نومنتخب باڈی کو مبارکباد پیش کرنے کے لئے
سندھ میں ہونے والی مردم شماری تاحال درست سمت میں نہیں ہے۔ سعید غنی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیرمحنت و افرادی قوت سندھ و صدر پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ میں ہونے والی مردم شماری تاحال درست سمت میں نہیں ہے اور اس کی تاریخ کو 10 اپریل سے بھی آگے بڑھانا ہوگا۔سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلوں اور حقائق کے سامنے آنے کے بعد اب ضروری ہے کہ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کو ان کے عہدے سے معطل کیا جائے۔
ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنا ہے تو اداروں کے مابین لڑائیوں کو کسی منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔ عدالتیں پارلیمنٹ سے پیدا ہوتی ہیں، اس لئے پارلیمنٹ کا نام سپریم جبکہ سپریم کورٹ کو فیڈرل یا دیگر نام دیا جانا چاہیے۔پارلیمنٹ، پارلیمنٹرین اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدلیہ کو ٹھیک کریں۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے پس پشت عوامل میں مہنگائی، بیروزگاری اور معیشت کی بدحالی شامل ہیں، کراچی میں مئیر کے انتخابات میں تاخیر اور مئیر سے قبل 11 نششتوں پر ضمنی انتخابات میں دو ماہ کی تاخیر کی ذمہ دار الیکشن کمیشن ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز کراچی پریس کلب کی نومنتخب باڈی کو مبارکباد پیش کرنے کے لئے پریس کلب کے دورے کے موقع پر ان کے اعزاز میں منعقدہ میٹ دی پریس سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کیا۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر سعید سربازی اور سیکرٹری شعیب احمد نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سعید غنی نے اپنی جانب سے نومنتخب نئی باڈی کو پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری کراچی پریس کلب شعیب احمد نے کہا کہ سعید غنی کاکراچی پریس کلب سے پرانہ تعلق ہے، انہوں نے کہا کہ وہ آج یہاں ہماری نئی باڈی کی مبارکباد دینے آئے۔
شعیب احمد نے کہا کہ اس وقت 700 نئے صحافیوں کے پلاٹس اور ایم ڈی اے اور ایل ڈی اے کی جانب سے ملنے والے فلیٹس کی ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سندھ حکومت کے مشکور ہیں کہ وہ کراچی پریس کلب کو سالانہ 5 کروڑ روپے کی گرانٹ فراہم کرتی ہے، لیکن موجودہ معاشی صورتحال اور مہنگائی کے تناسب سے یہ گرانٹ کم ہے امید ہے کہ سندھ حکومت اس میں اضافہ کریگی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب 1958میں بنا ہے، یہاں سالانہ 1 کروڑ 80 لاکھ روپے اسٹاف کی تنخواہیں ہیں، جبکہ ممبران کو سالانہ سوا 2 کروڑ فوڈ سبسڈی دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پریس کلب کا سالانہ بجٹ ساڑھے10 کروڑ روپے سے زائد کا ہے اور اس وقت ہمیں مالی مسائل کاشکارہیں۔ صدر کراچی پریس کلب سعید سربازی نے کہا کہ سعید غنی کاپیپلز پارٹی کی سیاست میں اہم کردارہے، انہوں نے محنت سے پیپلزپارٹی کوسندھی اوربلوچی بولنے والے علاقوں سے نکال کرسب کی پارٹی بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں پیپلزپارٹی کاووٹ بینک نہیں ہے وہاں بھی ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ سعید سربازی نے کہا کہ اس وقت بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے کئے جانے والے کئی اقدامات کو ہائی لائٹ نہیں کیا جاتا جیسا کہ پیپلزپارٹی ڈیجیٹل کا گذشتہ روز ایک مقامی ہوٹل میں پروگرام ہوا، لیکن وہاں نیشنل میڈیاکونہیں بلایاگیا، پریس کلب جیسے ادارے کونظراندازکیاگیا، ایسا لگتا ہے کہ جیسے اچھی چیزوں کاکریڈٹ پیپلزپارٹی نہیں لینا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں ایل ڈی اے اورایم ڈی اے میں مسائل کاسامنا ہے۔
صدرپریس کلب نے کہا کہ صوبائی وزیر ہمیں یہ بتائیں کہ اسوقت سندھ میں ہونے والی مرد م شماری کی مخالفت سب کررہے ہیں تو یہ مردم شماری کرواکون رہا ہے یہ سمجھ نہیں آتی۔ سعید غنی نے اس موقع پر کہا کہ میں پریس کلب آناچاہ رہاتھا، رمضان کی وجہ سے مٹھائی نہیں لایا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل سے آگاہی ہے، میں موجودہ دور میں وزیر بلدیات اور دو بار وزیر اطلاعات راہ چکا ہوں اس لئے مجھے پریس کلب اور ژحافیوں دونوں کے مسائل کا بخوبی اندازاہ ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ پریس کلب کی گرانٹ میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ ہوناچاہیئے، اس سلسلے میں وزیراعلی اوروزیراطلاعات سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتارتیزکرنے کے لئے وزیربلدیات ناصرحسین شاھ سے میٹنگ کریں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت دیگرصوبوں کی نسبت پریس کلبزکا بھرپور ساتھ دیتی ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں صحافیوں سے زیاتیاں ہوئی، ہم نے اس کا ازالہ کیا اور اس کو مزید بیتر بنانے کے لئے صحافیوں سے ملکرلائحہ عمل بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت پہلا صوبہ ہے جس نے نے صحافیوں کے تحفظ کا نہ صرف قانون بنایا بلکہ اس پر کمیشن بھی بنا دیا ہے، رشید اے رضوی کی قیادت میں کمیشن نے کام شروع کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم قوانین بنارہے ہیں اور اس کے عملدرآمد میں آنے والی رکاوٹیں دورکریں گے، سعید غنی نے کہا کہ اگرابھی ہونے والی مردم شماری بھی متنازعہ ہوئی توصوبوں کاوفاق اوروفاق کاصوبوں پراعتماد ختم ہوجائے گا، انہوں نے کہا کہ سندھ کویہ احساس نہ دلایا جائے کہ ان کے ساتھ کے پی اورپنجاب جیساسلوک نہیں رواں رکھاگیا۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ ہمیں بھی مردم شماری پرتحفظات ہیں، ہم نے 2017کی مردم شماری کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور ہم نے ایم کیوایم سے زیادہ بہتراندازمیں سندھ کاکیس لڑا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 2017کی مرم شماری کوقانونی شکل تودی گئی پروہ آج بھی متنازعہ ہے،جوغلطیاں پہلے ہوئیں اب کوشش کی گئی ہے کہ دوبارہ وہ غلطیاں نہ ہو۔ سعید غنی نے کہا کہ اب بھی میں نے مردم شماری پر پیپلز پارٹی کے تحفظات کو متعلقہ محکمے کے سامنے رکھا ہے اور ان سے کہا کہ اس مردم شماری کو سیکریٹ کی بجائے صاف و شفاف بنایا جائے۔ فیملی کاپرسنل ڈیٹا سیکریٹ رکھاگیاجونامناسب ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ 2022میں جب یہ سلسلہ شروع ہوا،توہم نے کہا کہ ہماری تجاویزپرعمل کیاجائے لیکن بدقسمتی سے ہماری تجاویزپرآج بھی عمل نہیں ہوا۔ا نہوں نے کہا کہ ہم نے رینڈم چیک اپ کروایاہے کئی علاقے نہیں گنے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے لئے دن مزید بڑھائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرآبادی درست نہیں گنتی کی گئی تو آبادی کے تناسب سے وسائل اورقومی اسمبلی کی نشستوں کی تقسیم صحیح نہیں ہونگی، انہوں نے کہا کہ اب تک کی اطلاعات کی بنیاد پرکہہ رہاہوں اب تک کی مردم شماری صحیح نہیں ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ شفافیت تویہ ہے کہ مردم شماری کے عمل میں ضلعی انتظامیہ کوشامل توکیاگیا پران کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ ڈیٹادیکھ سکیں، چیک کرسکیں کہ گھرگنے گئے کہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اس وقت جوکچھ ہورہاہے وہ اچھاہے، کیونکہ اس سے سپریم کورٹ کی اندر کی صورتحال واضع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے اپنے فیصلوں اورمداخلت سے جوکچھ کیاہے یہ انہوں نے آئین وقانون کی خلاف ورزی کی ہے ان کومستعفی ہوناچاہیئے۔ سعید غنی نے کہا کہ چارججزجنہوں نے اختلاف کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اوردواورججزپی ٹی آئی کوسپورٹ کرتے رہے ہیں، ملکی معیشت اورسیاسی بحرانوں کے پیچھے عدالت نظرآتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 53 اے کے تحت جوفیصلے دیئے گئے انہوں نے معیشت کوپیچھے دھکیلا، چیف جسٹس اگراپنی کرسی کی قربانی دیتے ہیں تویہ چھوٹی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نرمی کامظاہرہ کیا،جس سے پی ٹی آئی اوراس کے حامیوں کومواقع ملے ہیں۔ ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی جب سے قائم ہوئی کراچی کی سب سے بڑی جماعت رہی ہے، لیکن بدقسمتی سے مذہبی اورلسانی تقسیم سے پیپلزپارٹی کومخصوص علاقوں تک محدود کیاگیا، انہوں نے کہا کہ ہم لانڈھی اور کورنگی سے 70کی دہائیوں میں بھی ووٹ لیتے رہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ آج پیپلز پارٹی کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن کرسامنے آئی ہے، ہم نے وہاں سے بھی جیتاجہاں سے پہلے نہیں جیت سکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کراچی کی گیارہ نشستوں پر18اپریل کوالیکشن رکھاگیاہے، ہماری رائے تھی کہ اگریہانتخابات میئرکے انتخابات سے پہلے ضروری تھے تودیرکیوں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگرضروری نہیں تھاتو27رمضان کورکھنے کی کیاضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے غیرضروری طورپرکراچی کی کئی یونین کونسلز کے نتائج روکے اورتاخیری ہربے استعمال کئے گئے۔ کراچی کے علاوہ باقی سندھ کے منتخب نمائندے جون 2022 میں منتخب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کوبحرانوں سے نکالنے کے لئے چیزوں کوٹھیک کرناپڑے گا۔
ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم سب جب حلف لیتے ہیں توقانون اور آئین پرعملدرآمد ضروری ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کی صورتحال میں سپریم کورٹ کانام فیڈرل کورٹ رکھناچاہیئے، کیونکہ پارلیمنٹ سپریم ہوتی ہے۔ کراچی میں استریٹ کرائم کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کی صورتحال بالکل بہترنہیں، لیکن یہ تاثرغلط ہے کہ پولیس کواختیارات نہیں،
انہوں نے کہا کہ پولیس نے بھی اپنے جوانوں کی قربانیاں دیکرامن قائم کیاہے۔ سعید غنی نے کہا کہ مہنگائی بیروزگاری اوردیگرکئی وجوہات ہیں جوجرائم کوجنم دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم میں ملوث بہت سارے مجرم پکڑے جاتے ہیں وہ عدالتوں سے ضمانتوں پرچھوٹ جاتے ہیں، اب تو کئی کرمنلزکووکیل کی ضرورت بھی نہیں پڑتی وہ خود باہرآجاتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ہمیں دیکھناچاہیئے کہ جرائم پیشہ افراد کیسے چھوٹ جاتے ہیں اور وہ دوبارہ جرائم کی کارروائیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پروفیسراجمل ساوند اعلی تعلیم یافتہ تھا، ان کاقتل قبائلی جھگڑے میں ہواہے، ان کے علم میں تھا وہ آگاہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان نے ایف آئی آرداخل کروائی ہے، ہم ان کے قاتلوں کوپکڑیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ عمران خان جہاں ججزکالاڈلہ ہے، وہاں وہ آج بھی میڈیاکالاڈلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتاہے پہلے کی طرح اسے وزیراعظم بنایاجائے۔
سعید غنی نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ سوائے ایک کے سب میڈیاوالے ٹھیک نہیں، مجھے بتائیں کہ اس پر کتنے چینلز یا صحافیوں نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ اور ہم کچھ کریں گے توایک دم بائیکاٹ کیاجائے گا ہم ناک رگڑکر معافیاں مانگیں گے۔ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ جس طرح عمران خان کی ضد ہے کہ اسے وزیراعظم بنایاجائے اسی طرح حافظ نعیم الرحمان کی ضد ہے کہ انہیں میئربنایاجائے۔
انہوں نے کہا کہ حافظ صاحب عمران خان کے راستے پرنہ چلیں ورنہ ان کے انجام کو بھی قوم دیکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حافظ صاحب کوشاید الیکشن سے پہلے کسی نے بتایاتھا کہ آپ میئربن رہے ہیں جوبات سچ نہیں نکلی،۔ انہوں نے کہا کہ ان کوہماری عددکی اکثریت دیکھ کرہماراساتھ دیناچاہیئے، حافظ صاحب آتے اوربولتے میئر آپ کاڈپٹی میئرہماراآئیں ملکرکراچی کی خدمت کریں۔