پاور سیکٹر کے مسائل کسی بھی دہشتگردی سے بڑا مسئلہ ہے، یہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کا مسئلہ ہے، سید مصطفیٰ کمال
پاکستان کی معیشت بہتر ہو گی تو لوگوں کے حالات بہتر ہوں گے، بیرونی سرمایہ کاری نہیں آ رہی اور لوکل انوسیمنٹ باہر جا رہی ہے۔ سید مصطفیٰ کمال
حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔ سید مصطفیٰ کمال
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں پاور سیکٹر کے مسائل کسی بھی دہشتگردی سے بڑا مسئلہ ہے، یہ پاکستان کی بقاء، سلامتی اور سکیورٹی کا مسئلہ ہے، پورے خطے میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں ہے۔
حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔ پاکستان کی معیشت بہتر ہو گی تو لوگوں کے حالات بہتر ہوں گے، موجودہ صورتحال میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آ رہی اور لوکل انویسمنٹ باہر جا رہی ہے، سب سے بڑا مسئلہ توانائی سیکٹر کی مس مینجمنٹ کا ہے۔ آج بجلی نہیں ہے لیکن بل آرہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما انیس قائم خانی، سید امین الحق، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سمیت ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت وقت کو پاور سیکٹر سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کی ہیں، 11 جولائی کو بھی پاکستان ہاؤس میں ہی پریس کانفرنس کی تھی، پاکستان میں پاور سیکٹرز کے مسائل اور اس کا حل پیش کیا تھا۔ حکومت وقت، ادارے، ریاست، عدلیہ اور ہر کوئی اس سے متاثر ہے، بجلی کا مسئلہ پاکستان کی معیشت کو لگا ہوا سب سے بڑا زخم ہے، ملک کی اکانومی بہتر ہوگی لوگوں کے حالات ٹھیک ہوں گے اور معیار زندگی بہتر ہوگا، سب کو معلوم ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے، سرمایہ کاری نہیں آ رہی، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز بڑھتے چلے جارہے ہیں، جو ٹیکس دے رہا ہے اس پر مزید ٹیکس لگ رہا ہے۔
اس اکانومی کو فرشتے نہیں اس ملک میں رہنے والوں کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیمانڈ سے زیادہ بجلی موجود ہے، پاکستان میں 45 ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کی صلاحیت موجو د ہے، اس ملک میں 40 آئی پی پیز ہیں جو بجلی بنارہی ہیں جبکہ 30 ہزار میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے، جتنی ڈیمانڈ ہے اتنی بجلی ہونی چاہئے، ہمارے پاس 20 ڈسکوز ہیں، ایک پرائیویٹ اور 19 سرکاری ہیں۔ نجکاری کے خلاف نہیں لیکن ایک کمپنی کی اجارہ داری قائم نہیں ہونی چاہیے۔ جب حکومت بجلی نہ بنا کر پیسے بچاتی ہے تب بھی ان آئی پی پیز کو 25 ہزار میگا واٹ بجلی نہ بنانے کی پیسے ڈالرز میں دے رہی ہوتی ہے، ملک اور معیشت ایسے نہیں چل سکتے، کیپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی مہنگی اور صنعتیں بند ہو رہی ہیں جبکہ ہر کوئی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگا ہوا ہے۔