پیپلزپارٹی کی سائیں سرکار کے پاس کراچی کیلئے نہ نوکریاں ہیں نہ پانی ہے۔ سید مصطفیٰ کمال
پیپلزپارٹی کے ساتھ ہمارا گزارا نہیں ہوسکتا، ریاست اب ہمارا فیصلہ کردے،سید مصطفیٰ کمال
پیپلزپارٹی کی سائیں سرکار کے پاس کراچی کیلئے نہ نوکریاں ہیں نہ پانی ہے۔ سید مصطفیٰ کمال
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال نے کراچی میں نیب کورٹ کے باہر میڈیا نمائندہ گان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پیپلز پارٹی کی نسل پرست متعصب سندھ حکومت پچھلے 15 سالوں سے مستقل سندھ کے وسائل پر قابض ہے اور ہماری نسل کشی کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی نے سندھ میں تعصب نسل پرستی اور کرپشن کا جو بازار سجایا ہوا ہے اُس سے پورے پاکستان کا نقصان ہورہا ہے جو دیمک کی طرح پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا کوئی ایک ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں کرپشن اور رشوت کے بغیر کوئی کام ہوتا ہو، شہری سندھ کے نوجوانوں کو میرٹ اور کوٹہ دونوں پر نوکریاں نہیں دی جاتی اور پانی ، سیوریج اور انفرااسٹرکچر سمیت پورا شہری سندھ تباہ ہوچکا ہے۔
شہری سندھ کے نوجوانوں پیپلز پارٹی کی متعصبانہ سوچ اور رویے کی وجہ سے ذہنی اذیت میں مبتلا ہوچکے ہیں، سندھ میں جنگل کا قانون ہے صوبائی اداروں میں تو کوٹہ کے نام پر غیر مقامی افراد کو بھرتی کیا جاتا ہی تھا مگر اب شہری اداروں جن میں نوکری آئین کے مطابق مقامی افراد کا حق ہے وہاں بھی سندھ کے دوسرے شہروں سے لوگوں کو لاکر بھرتی کیا جارہا ہے، جب ظلم لسانی بنیادوں پر ہوگا تو لسانی تعصب پھیلے گا جس کے نتائج کبھی اچھے ثابت نہیں ہوئے۔
سید مصطفیٰ کمال نے سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام میں ہی پاکستان کی بقاء اور خوشحالی کا راستہ ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کو سنجیدگی سے دیکھا جائے کیوں کہ یہی شہری سندھ کے مسائل کا واحد حل ہے۔
سندھ کے شہریوں کی ملک دشمن متعصب پیپلز پارٹی سے جان چھڑائی جائے، پورے سندھ کا 100 فیصد جبری اختیار رکھنے والی پیپلز پارٹی نے سندھ کو تباہ کردیا ہے دیہی سندھ میں ڈاکو راج قائم ہے اور شہری سندھ میں سائیں راج، سندھ کے وسائل پر جبری قابض پیپلز پارٹی کے ساتھ ہمارا گزارا ممکن نہیں ہے اب ریاست ہمارا فیصلہ کردے، ہم بھی اب زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکتے۔
سندھ کو پیپلز پارٹی کے پاس گروی رکھنے والے فیصلہ کرلیں۔ انہوں نے کراچی سمیت سندھ کے شہروں میں بجلی کی ابتر صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 3 کروڑ آبادی اور پاکستان کو سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کے شہری 16 16 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ جھیل رہے ہیں، موجودہ کمپنی نے ایک نیا طریقہ نکالا ہے کہ بجلی چوروں کا بل بھی وہ ادا کرے جو باقاعدگی سے ماہانہ بل ادا کر رہا ہے جبکہ اُس کے بعد بھی نہ دن میں بجلی میسر ہے اور نہ رات میں، اس طرح تو ہم اپنے ہاتھوں سے اپنے معاشی حب کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔
وفاقی حکومت ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبے پر سنجیدگی سے سوچے کیوں کہ کراچی میں بجلی کی پیداوار اور فراہمی کیلئے ایک سے زائد کمپنیوں کو لائسنس کا اجراء کئے بغیر کراچی کی بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔