جو دھمکی آمیز لہجہ مختلف سیاسی جماعتوں کا ہے اس سے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ خالد مقبول صدیقی
بلاول بھٹو کے وزیر اعظم بننے کی راہ میں انکے اپنے لوگوں نے بارودی سرنگیں بچھائیں۔ سید مصطفی کمال
جو دھمکی آمیز لہجہ مختلف سیاسی جماعتوں کا ہے اس سے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ خالد مقبول صدیقی
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جو بیانات مختلف سیاسی جماعتوں کے آرہے ہیں اور جو دھمکی آمیز لہجہ ہے اس سے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا، آئیں سب ملکر کر بیٹھیں اور مسائل سے پاکستان کو نکالیں، اسٹیبلشمنٹ اگر جواب دینے آگئی تو پھر سب کو مشکل ہو جائیگی، پاکستان کو بند گلی میں نہ لیجائیں، 15 سال تک کریشن کو صنعت کا درجہ دیا گیا، کرپشن کرنےوالوں کے مقابلے میں ہم اچھے نظر آئیں گے، انتخابی مرحلہ مکمل ہوا ہم سمجھتے تھے انتخابات کے بعد بڑے چیلنجز ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی الیکشن آفس پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال، ڈپٹی کنوینر انیس قائم خانی عبدالوسیم، اراکین رابطہ کمیٹی سمیت حق پرست نو منتخب اراکینِ اسمبلی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جمہوریت ہی پاکستان کی بقاء کا واحد راستہ ہے، دہشت گردی کے خطرات تھے بہت سے خطرات کے باعث لوگ کہتے تھے کہ انتخابات نہیں ہوں گے لیکن سیکیورٹی فورسز نے اپنا کام کیا اور انتخابات پر امن طریقے سے کروائے، وقت کی ضرورت ہے کہ سیاست کے بجائے ریاست کو بچائیں۔ عوام نے ایم کیو ایم کو اسکا مینڈیٹ واپس لوٹایا ہے اور انشاءاللہ ایم کیو ایم کا سکھر، میر پور خاص اور نواب شاہ کا مینڈیٹ بھی واپس جلد دلائیں گے، سنگین حالات مشکل فیصلوں کی متقاضی ہیں۔
اپنے اپنے حصے کی قربانی دینے کا وقت ہے ایسے وقت میں سیاسیت کرکے ملک کو مشکلات کا شکار کیا جارہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنانا جمہوریت اور پاکستان کے لیئے اچھا نہیں، پاکستان کے پڑوسی ملک کسی نازک صورتحال کا فائدہ اٹھانے کو تیار ہیں، آزاد اُمیدوار جو کامیاب ہیں وہ بتاتے ہیں انتخابات کسی حد تک منصفانہ ہوئے ہیں، 2018 سے لاکھ درجے بہتر انتخابات ہوئے ہیں، ایم کیو ایم کو بھی سندھ میں چالیس سیٹوں کی امید تھی، صبر اور تحمل کا وقت ہے مسائل پیدا کرنے کا نہیں، درخواست ہے سب لوگ مل کر بیٹھیں، میثاق سیاست میثاق جمہوریت میثاق معیشت پر ایک ہونے کا وقت ہے، کچھ لوگوں کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات آرہے ہیں ایسے بیانات سے ملک اور جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ الیکشن 2018 میں آر ٹی ایس سسٹم بٹھا دیا گیا اور پولنگ ایجنٹوں کو نکال کر گنتی ہوئی، عمران کی وزارت عظمیٰ کے دور میں 21 ضمنی انتخابات ہوئے، عمران خان صاحب کو 19 انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، پی ٹی آئی یہ کہہ رہی ہے جو لوگ جیتے ہیں انہیں اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل ہے، عمران خان کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار بھی جیتے، جو الیکشن جیتا وہ پاکستان کے ریاستی اداروں کو برا کہہ رہا ہے اور جو ہارا ہے وہ بھی بول رہا ہے، کراچی سے 18 سیٹیں ایم کیو ایم لیتی تھی ہم ماضی میں بھی اتنی سیٹیں لے چکے ہیں، انتخابی مہم چلانے کے دوران ہمارے ساتھیوں کو شہید کیا گیا۔ ملک چلانے کے لیے عمران خان کو مکمل سپورٹ حاصل تھی، آج انہی سارے کالے کرتوتوں کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر آرہا ہے، ہمیں آگے بڑھنا ہے یا اپنا اپنا اسکور کرنے میں لگے رہیں اگر ہم نے اپنی روش تبدیل نہیں کی تو اس کا الزام حکمرانوں پر ہی آئے گا۔ ہم نے انتخابات سے قبل بڑے فیصلے کیے اور متحد ہوکر بیٹھے۔
پی ٹی آئی کا وزہر خزانہ 8 ماہ تک یہ ہی فیصلہ نہیں کرسکا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے یا نہیں جانا۔عمران خان کے ساتھ جو لوگ کھڑے ہیں وہ حکمرانوں کی نفرت اور خراب گورننس کی وجہ سے کھڑے ہیں، تیس سال سے برسر اقتدار جماعتوں سے نفرت میں لوگ صحیح اور غلط کے بجائے نفرت کی بنیاد پر فیصلہ کر رہے ہیں۔ اس روش کو فوری بند ہونا چاہیے۔ ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی جماعت نہیں، پاکستان کی جماعت ہے اور پاکستان کی بات کر رہی ہے۔ ایم کیوایم ملک کی نازک صورتحال میں آگے بڑھی ہے، بلاول کو ایم کیو ایم سے لڑنے کیلئے کوئی اکسا رہا ہے، بلاول بھٹو کے وزیر اعظم بننے کی راہ میں انکے اپنے لوگوں نے بارودی سرنگیں بچھائیں،بلاول اپنی صفوں میں نظر ڈالیں،ہماری 17 سیٹیں بلاول کے ساتھ ہوتیں تو بلاول وزیراعظم کے سب سے مضبوط امیدوار ہوتے، پاکستان کا سب سے بڑا مسلئہ معیشت ہے، پاکستان کا اکنامک حب کراچی ہے اور ہمیں کراچی حیدر آباد کا شیئر چاہئے۔