Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

اس سال کراچی میں 175 سے زائد جبکہ سندھ بھر میں 361 اسکیموں کو اس سال مکمل کرلیا جائے گا۔ سعید غنی

لوکل گورنمنٹ کے تحت صوبے بھر میں 436 ارب روپے کی لاگت سے 1149 اسکیمیں ہیں۔ سعید غنی

0

اس سال کراچی میں 175 سے زائد جبکہ سندھ بھر میں 361 اسکیموں کو اس سال مکمل کرلیا جائے گا۔ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ کے تحت صوبے بھر میں 436 ارب روپے کی لاگت سے 1149 اسکیمیں ہیں، جن میں سے 333 ارب روپے کی 557 اسکیمیں کراچی ہے لئے ہیں۔ اس سال کراچی میں 175 سے زائد جبکہ سندھ بھر میں 361 اسکیموں کو اس سال مکمل کرلیا جائے گا۔ گذشتہ مالی سال 2024-25 میں کوئی نئی اسکیم نہیں رکھی گئی تھی اور زیادہ تو الوکیشن جاری اسکیموں کو مکمل کرنے پر ریلیز کی گئی البتہ آئندہ مالی سال میں نئی اسکیموں کو شامل کیا جائے گا اور کراچی میگا پروجیکٹ کے تحت کراچی میں بڑے بڑے منصوبے اس میں شامل کئے جارہے ہیں۔ اس سال کے اختتام تک حب کینال کی مرمت کا کام اور شاہراہ بھٹو کو ایم نائین تک مکمل کرلیا جائے گا، جس سے عوام کو پانی کی فراہمی اور ٹریفک میں ریلیف مل سکے گا۔ یہ تاثر دینا کہ کراچی کے لئے سندھ حکومت کچھ نہیں کررہی ہے یہ سراسر غلط اور زیادتی کے مترادف ہے حقائق کو مسخ کرنے سے دوریاں بڑھتی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سندھ اسمبلی میں پری بجٹ پر جاری بحث پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں لوکل گورنمنٹ کی اسکیموں میں سندھ بھر میں 1149 اسکیمیں ہیں، جس کی لاگت 436 ارب روپے ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اکثر یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ سندھ حکومت کراچی پر فوکس نہیں کرتی تو ان 436 ارب کی 1149 اسکیموں میں سے صرف کراچی کے لئے 333 ارب روپے کی 557 اسکیمیں ہیں، جن میں سے کچھ اسکیمیں فارن فنڈنگ اور کچھ اسکیمیں اے ڈی پی کی بھی ہیں اور کراچی کی ان اسکیموں پر اس سال کی الوکیشن 102 ارب روپے کی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے بجٹ 2024-25 میں کوئی نئی اسکیم نہیں رکھی تھی اور زیادہ فوکس ہمارا جاری ترقیاتی اسکیموں کو مکمل کرنے پر رہا ہے اس لئے انشاءاللہ امید ہے کہ اس سال جون تک ان میں سے بہت سی اسکیمیں مکمل کرلی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کراچی میں 175 سے زائد جبکہ سندھ بھر میں 361 اسکیموں کو اس سال مکمل کرلیا جائے گا، جس میں سے کراچی میں کے ڈی اے کی 136 اسکیمیں ہیں جس پر 35.6 ارب روپے کی لاگت ہے، جس میں سے اس سال اس پر 10.7 ارب کی الوکیشن کی گئی ہے اور اب تک 7.5 ارب روپے اس پر ریلیز کئے جاچکیں ہیں۔ اسی طرح کے ایم سی کو 266 اسکیمیں دی گئی ہیں، جس کی لاگت 23 ارب روپے ہے اور اس کے اس سال کی الوکیشن 11.2 ارب روپے کی ہے اور اس پر بھی ایک خطیر رقم ریلیز کردی گئی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی 51 ارب روپے کی اسکیمیں ہیں جن پر 7.1 ارب روپے ریلیز کردئیے گئے ہیں۔ اسی طرح کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پروجیکٹ جو کراچی کا بہت بڑا منصوبہ ہے اس پر اس سال کی لاگت 175 ارب کے قریب کی ہے، جس میں 21 ارب کے لگ بھگ اس سال کی الوکیشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر کام جون کے بعد ہی شروع ہوسکے گا البتہ اس میں کے فور کی اوگومیٹیشن بھی شامل ہے جو 70 سے 80 ارب روپے کی لاگت کا کام ہے جو اگلے مالی سال تک مکمل ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی 54 اسکیمیں ہیں جس کی لاگت 6.6 ارب روپے ہے۔ اس طرح شہید محترمہ بینظیر بھٹو ہائوسنگ اسکیم کی لاگت 9.4 ارب روپے، لوکل گورنمنٹ پروجیکٹ کی لاگت 10 ارب کی ہے، اسی طرح کراچی میگا پروجیکٹ کی اس سال لاگت 10.7 ارب روپے کی لاگت ہے، اسی طرح گجر نالا متاثرین کے منصوبے پر لاگت 5.3 ارب روپے، کلک منصوبے پر اس سال 23.5 ارب روپے اخراجات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سوئپ کے تحت ایک بڑا کام ہم کراچی میں کرنے جارہے ہیں اور اس میں ہم 4 گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن کراچی میں بنائے جارہے ہیں اور اسی سال انشاءاللہ ان کو مکمل کرلیا جائے گا گوکہ 2 میں کچھ اشیوز ہیں لیکن ان کو حل کرلیا جائے گا، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں بہت کمی واقع ہوگی اور ان کے آس پاس کی آبادیاں جو ان جی ٹی ایس کے پاس ہیں ان لوگوں کی تکالیف کا ازالہ ممکن ہوسکے گا۔

سعید غنی نے کہا کہ ایوان میں گذشتہ کئی دنوں سے جاری پری بجٹ پر بحث کے دوران کچھ معزز ارکان کی جانب سے محکمہ بلدیات کو لے کر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن میں واٹر اینڈ سیوریج، سولڈ ویسٹ و دیگر کے حوالے سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واٹربورڈ نے پانی کی سپلائی کی بہتری کے کئے گلشن اقبال، بہادرآباد، ڈالمیا، مجاہد نگر سمیت کراچی کے درجنوں علاقوں میں نئی پائپ لائنوں کی تنصیب، خراب والوز کی تبدیلی سمیت دیگر کام روزانہ کی بنیاد پر کئے جارہے ہیں اور ان علاقوں میں پانی کی فراہمی بہتر ہوئی ہے، البتہ یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ اس وقت کراچی میں پانی کی طلب اور رسد میں 50 فیصد کا فرق ہے، اس لئے یہ کہنا کہ سب کو مکمل پانی کی فراہمی کی جارہی یے یہ غلط ہے، البتہ جتنا پانی دستیاب ہے اس کی منصفانہ تقسیم اور اس کی راہ میں جو جو رکاوٹیں آتی ہیں ان کو دور کیا جارہا ہے، اسی طرح پمپنگ اسٹیشنز کو اپ گریڈ بھی کیا جارہا ہے اور ان کی سولرزائیشن پر انرجی ڈپارٹمنٹ کام کررہا ہے اور ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ تمام پمپنگ اسٹیشنز کو سولرزائیزڈ کردیا جائے تاکہ اس سے بجلی کے بہت بڑے ماہانہ اخراجات کو کم سے کم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق نے کے فور منصوبے کو واپڈا کے ذریعے مکمل کرانا شروع کیا ہے اور اس میں ہمارے حصہ کا جو کام ہے ہم نے اس پر تیزی سے کام شروع کردیا ہے اور اس کے مکمل ہونے کی جو تاریخ اس سال دسمبر کی دی گئی ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ مکمل ہوسکے البتہ آئندہ سال میں یہ مکمل ہوجائے تو اس سے شہر میں پانی کی طلب اور رسد میں فرق کو کم کرنے میں خاطر خواہ مدد مل سکے گی۔ سعید غنی نے کہا کہ زیادہ تر ہمارے معزز ممبران نے پانی کی کمی پر بات کی ہے، ان تمام اسکیموں پر یا تو پہلے سے ہی کام جاری ہے یا ان پر کام کے لئے اسکیمیں آئندہ مالی سال کی اے ڈی پی میں رکھی جارہی ہیں جبکہ زیادہ تر جن علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر رہتی ہے اس میں بریک ڈاؤن، لائنوں کی مرمت سمیت دیگر کا ریگولر کام ہونا ہے اور اس وجہ سے وہاں پانی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے اور جہاں جہاں شکایات آتی ہے اس کا ازالہ کیا جاتا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ حب ڈیم سے جن جن علاقوں کو کراچی میں پانی فراہم کیا جاتا ہے، وہاں ہم اپنے 100 ملین گیلن منظور کوٹے کے مطابق بھی اس وقت کینال کی حالت صحیح نہ ہونے کے سبب پانی فراہم نہیں کر پارہے ہیں البتہ حب کینال کی مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے، جس کے ساتھ ساتھ مزید ایک کینال بنا رہے ہیں اور وہاں سے کوٹہ بڑھانے کے لئے وفاقی حکومت سے بھی بات کی جارہی ہے، جو 100 سے 200 ایم جی ڈی ہوجائے گا تو اس سے ڈسٹرکٹ ویسٹ، کیماڑی اور کچھ سینٹرل کے علاقوں میں پانی کی فراہمی میں خاطر خواہ بہتری آسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور یہ اس سال کے اختتام تک مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سولڈ ویسٹ میں گھروں سے کچرا اٹھانے سمیت دیگر مسائل آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کورنگی کازوے کو شاہراہ بھٹو اور جام صادق علی برج سے منسلک کرنے پر کام کررہے ہیں کیونکہ شاہراہ بھٹو پر لوڈ بڑھنے سے قیوم آباد پر ٹریفک کا دبائو بڑھ جائے گا، اس لئے کورنگی کازوے کا کام کو کچھ آہستہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سال کے منصوبوں میں جو مکمل کررہے ہیں اس میں پانی کے لئے حب کینال کا منصوبہ، شاہراہ بھٹو کا ایک فیز جنوری میں جبکہ اس کا دوسرا فیز اپریل میں جبکہ ایم نائین تک یہ اسی سال دسمبر میں مکمل کرلیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ اس سال ہم نے اے ڈی پی میں کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی تھی اور زیادہ تر الوکیشن پرانی اسکیموں کو مکمل کرنے پر ریلیز کی گئی ہیں۔ البتہ آئندہ مالی سال میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں نئی اسکیموں کو بھی شامل کیا جائے گا اور اس نئے مالی سال میں کراچی میگا پروجیکٹ میں نئی اسکیموں کو بھی شامل کررہے ہیں کیونکہ میگا اسکیموں کی ریلیز اسی سال میں ہوتی ہیں جس سال کا یہ منصوبہ ہوتا ہے اور یہ مکمل 100 فیصد ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ کا مکمل پورٹ فولیو کا بہت بڑا حصہ کراچی کے لئے ہیں اور 436 ارب کے سندھ بھر کے منصوبوں میں سے 333 ارب روپے کے منصوبے صرف کراچی کے لئے ہیں۔ اسی طرح فارن فنڈنگ منصوبے بھی تمام کراچی کے لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لیڈرشپ کی سوچ اور وزیر اعلٰی سندھ کی خاص توجہ کراچی پر ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اس کو پورا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ سندھ حکومت کراچی کے مسائل حل کرنے یا کراچی پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے یہ سراسر غلط اور زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید ضرور کریں لیکن حقائق کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسائل ضرور ہیں یہ کراچی میں، سندھ بھر اور ملک بھر میں ہیں لیکن اس کا یہ ہرگز مقصد نہیں کہ ہم ان مسائل کو جواز بنا کر دوریوں کے بننے کا سبب بنائیں۔

Comments
Loading...