پاکستان کو بنانے کا کام ہمارے اجداد نے کیا سنبھالنے کا کام ہم کر چکے چلانے کا کام اب ہمارے نوجوانوں نے کرنا ہے۔چیئر مین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ہم اس شہر کے نوجوانوں کو ایک انقلاب کی طرف گامزن کر رہے ہیں اب آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اس موقع کا فائدہ اٹھائیں اور اپنا مستقبل روشن کری۔ چیئر مین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
پاکستان کو بنانے کا کام ہمارے اجداد نے کیا سنبھالنے کا کام ہم کر چکے چلانے کا کام اب ہمارے نوجوانوں نے کرنا ہے۔چیئر مین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیر انتظام ایکسپو سینٹرکراچی میں یوتھ کنوینشن کا انعقاد کیا گیا جس میں چیئر مین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی،سنیئر رہنما سید مصطفی کمال،ڈاکٹر فارق ستار،نسر.ین جلیل اور اراکین مرکزی کمیٹی، نوجوان طلبہ و طالبات، مختلف آئی ٹی کمپنیز،یونیورسٹیز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادنے بڑی.تعداد میں شرکت کی۔
نوجوانوں اور طلبہ و طالبات نے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے نوجوانوں کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا اور اس طرح کے مزید پروگرامز کو منعقد کروانے کی اپیل کی۔ یوتھ کنونشن کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور حمد باری تعالیٰ و نعت مقبول ﷺ سے کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اس طرح کے پروگرام کی اشد ضرورت تھی آج پاکستان اپنے وقت کے بدترین دور سے گزر رہا ہے اگر کوئی امید باقی ہے تو بس یہ کہ پاکستان میں اکثریتی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے پاکستان کو بنانے کا کام ہمارے اجداد نے کیا سنبھالنے کا کام ہم کر چکے چلانے کا کام اب نوجوانوں نے کرنا ہے جو قوم خود کو بدلنے کا ارادہ نہیں کرتی ان کو بدلنے کا خدا بھی وعدہ نہیں کرتاٹیکنالوجی کے بڑھتے زور سے آدھی سے زیادہ نوکریاں خاتمے کی جانب بڑھ جائیں گی ماہر لوگوں کا کہنا ہے کہ اگلے چند سالوں میں 1 ارب سے زائد. لوگ موجودہ نظام سے دور ہوجائینگے
ہمارا پڑوسی ملک ٹیکنالوجی کے بڑے جائنٹس بن چکے ہیں ہمیں بھی اس مقابلے میں شامل ہوکر اپنا آپ منوانا ہے، ایم کیو ایم پاکستان کی کوششوں سے کراچی میں 13 نئی جامعات بننے والی جو یہاں کے نوجوانوں کو جدید خطوط پر استوار کرکے اس مسابقتی دنیا میں چلنے کا ہنر.. اور معاشرے کے لیے مفید بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گی ہمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اس ریس کی دوڑ میں شامل ہونا ہے آ خر میں میں یہاں موجود نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اس دور کے مطابق نوجوانوں کو اس بدلتے ہوئے نظام میں چلنے کا ہنر دینگے ہم ہی وہ لوگ ہیں جو اس ملک شہر اور اس ملک کے مستقبل نوجوانوں کو ایک انقلاب کی طرف گامزن کر رہے ہیں اب آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو سنواریں اور اپنا مستقبل روشن کریں۔