Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

کراچی کے تمام جماعتوں کے ساتھ ملکر کراچی کی خدمت کریں گے۔ سعید غنی

سعید غنی نے کہا کہ میں کراچی کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو بڑی تعداد میں کامیاب کرایا۔

0

کراچی کے تمام جماعتوں کے ساتھ ملکر کراچی کی خدمت کریں گے۔ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان الیکشن کے پہلے ہی دن سے اس ضد کے گھوڑے پر سوار تھے کہ مجھے تو مئیر ہی بننا ہے۔ کل کے مئیر کے انتخابات قانون کے مطابق درست ہوئے ہیں، اس پورے عمل کو متنازعہ بنانے والے غلط ہیں۔

اگر حافظ نعیم الرحمان کو پی ٹی آئی کے 30 سے زائد ارکان کے ووٹ نہیں ملے تو اس کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی قیادت اور خود حافظ صاحب پر عائد ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سندھ اسمبلی میڈیا کارنر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ میں کراچی کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو بڑی تعداد میں کامیاب کرایا، مرتضی وہاب میئر منتخب ہوا یہ کراچی کے شہریوں کا بڑا اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کے شہریوں کی خدمت کررہی ہے۔ سلمان مراد ، مرتضی وہاب سب اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ کراچی کے تمام جماعتوں کے ساتھ ملکر کراچی کی خدمت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کہتی ہے نشستیں ہماری زیادہ تھی، وہ چھین لی گئی ہیں اس لیے میئر ہمارا ہوگا۔

سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی میں شدید اختلاف ہیں، پی ٹی آئی والے ایک جگہ یکجا نہیں ہوسکے اس کا الزام بھی ہم پر لگایا جارہا ہے۔ حافظ صاحب سمجھتے ہیں کہ یہ ہم ان کو لانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے گروپوں میں لڑتے رہے ہیں۔ اگر حافظ نعیم کو پی ٹی آئی کے ووٹ نہیں پڑے تو اس کی زمہ دار پی ٹی آئی کی ہے یا حافظ نعیم کی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام ارکان جنہوں نے ووٹ نہیں دیا وہ میڈیا کے رابطے میں رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کو کسی نے نہ اغوا کیا تھا اور نہ وہ کسی کے پاس یرغمال تھے اور اگر ایسا ہوتا تو ان کی فیملی میں کسی نے ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ سعید غنی نے کہا کہ ایک پی ٹی آئی کے چیئرمین کی اغواء کی سی سی ٹی وی فوٹیج آئی، اس پر پولیس سے رابطہ کیا تو ان کی فیملی کوئی رابطہ نہیں ہوا اور بعد میں وہ جناب خود سے آ بھی گئے اور انہوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ بھی دیا۔

سعید غنی نے کہا کہ فردوس شمیم نقوی کو لانا ہماری زمہ داری نہیں تھی کیونکہ انہوں نے حلف نہیں اٹھایا۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ ہم جانتے تھے کہ وہ ان کے نہ لانے پر بھی واویلا مچاتے۔ انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کراچی کی خدمت کے لیے آگے ائے۔ جو جتنا بھی ناراض ہے ہم ان سے رابطہ کریں گے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نفرت اور تقسیم کی بنیاد جو لڑایا جاتا ہے اس کو ختم کیا جائے، شہر کے لوگوں کو تقسیم کرنے کی سازش کا حصہ نہ بنیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی کیمپ نہیں لگایا تھا۔ جبکہ جماعت اسلامی نے باقاعدہ کیمپ بھی لگایا اور اپنے کارکنوں کو بھی جمع کیا تھا۔

ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام امیدواروں کا اجلاس کیا تھا، اس میں طے ہوا تھا کہ صبح 11 بجے گیٹ بند ہو جائیں گے۔ یہ زمہ داری جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی تھی کہ وہ وقت پر آتے۔ انہوں نے کہا کہ 11 ارکان کو اندر جانے کی اجازت نہ ملنے کا بھی ڈرامہ رچایا گیا جبکہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ ہنگامہ آرائی کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے لوگ بیگ پہن کر آئے تھے، جس میں ہنگامہ آرائی کا سامان تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا اگر حافظ نعیم جیت گئے تو میں مٹھائی لیکر جاؤں گا، اب ہم جیتیں ہیں تو اگر اب مٹھائی لیکر گیا تو وہ مجھے ماریں گے۔ البتہ حافظ نعیم آتے ہیں تو ہم انہیں ضرور مٹھائی کھلائیں گے۔ اب ہماری مٹھائی بنتی نہیں ہے ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اگر 62 ممبر ہیں تو ان سے بات کریں گے۔ ان کے دو گروپ ہیں تو دونوں سے بات کریں گے، ہم کونسل کے اراکین سے بات کریں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حلیم عادل شیخ اگر پکڑے گئے اور جیل مین ہوئے تو ان سے جیل میں بات کریں گے.

Comments
Loading...