Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

حکومت سندھ شہری سندھ بالخصوص کراچی کی آبادی کو کم بتارہی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار

ایم کیو ایم پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کئے گئے مردم شُماری کے اب تک کے نتائج کو مسترد کرتی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار

0

حکومت سندھ شہری سندھ بالخصوص کراچی کی آبادی کو کم بتارہی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد پر سینئر ڈپٹی کنوینئر ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز سربراہ ادارہ شماریات کی جانب سے مردم شماری سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں یہ جاری کیے گئے اعداد و شمار نا قابل قبول ہیں ایم کیو ایم پاکستان مردم شُماری میں اب تک کے آنے والے نتائج کو مسترد کرتی ہے ہمارے پہلے سے کئے گئے خدشات کے مطابق اب مردم شُماری میں دیہی سندھ کی آبادی کو بڑھا کر دکھایا جا رہا ہے جبکہ شہری سندھ بالخصوص کراچی کی آبادی کو کم دکھایا جارہا ہے اس عمل سے صاف ظاہر ہے کہ ہمارے خدشات درست تھے۔

اس بار کراچی کی آبادی کو زیادہ سے زیادہ دو کروڑ دکھانے کا منصوبہ نظر آ رہا ہے حکومت سندھ کواس بات کا ڈر ہے کہ اگر کراچی کی آبادی کو درست شمار کرلیا گیا تو اگلا وزیر اعلیٰ سندھ کراچی سے جیتنے والی جماعت کا ہوگا جس کیلئے وہ اپنے شمار کنندگان اور سرکاری ملازمین کے ذریعے مردم شُماری میں دھاندلی کروارہی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری کے حوالے سے شہر کے مختلف اضلاع سے اب تک قریباََ 500 سے زائد شکایات موصول ہوچکی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے اے پی سی کا ڈرامہ کرکے قوم پرستوں کے ذریعے بیوقوف بنایا جبکہ دوسری طرف شماریات کے ادارے پر دباؤ ڈال کر ڈیش بورڈ کا ڈیٹا حاصل کررہی ہے تاکہ مردم شُماری میں اندرون سندھ کی آبادی کو زیادہ سے زیادہ دیکھایاجاسکے اور کراچی کی آبادی کو کم سے کم دکھایا جائے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق حکومت سندھ پی پی پی کو ڈیش بورڈ تک رسائی دی جاچکی ہے۔

ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر حکومت سندھ کو ڈیٹا تک رسائی دی جاسکتی ہے تو پھر پاکستان کے عوام اور ہمیں بھی ڈیش بورڈ تک رسائی دی جائے ایک عام شہری کو بھی یہ حق ہے کہ وہ خود یہ دیکھ سکے کہ اسے شمار کیا گیا ہے یا نہیں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے اندورنی علاقوں سے عوام کراچی آرہے ہیں اسکے باوجود کراچی کی آبادی دیہی سندھ سے کم بڑھ رہی ہے یہ ناقابل فہم ہے۔

حکومت سندھ کی زیر نگرانی سرکاری ملازمین سے کروائی جانے والی مردم شُماری اور اس کے نتائج کو ایم کیو ایم پاکستان یکسر مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ جن علاقوں سے غلط مردم شُماری کی شکایات موصول ہورہی ہیں وہاں کسی نجی پرائیوٹ شعبے کی خدمات لی جائیں اور مردم شُماری کو دوبارا کرایا جائے ادارہ شماریات ڈیش بورڈ کا ڈیٹا پبلک کرے تاکہ ہر فرد موبائل فونز کے ذریعے اپنا شمار خود دیکھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ شمار کنندگان ایک گھر جاتے ہیں چار گھر چھوڑ دیتے ہیں ٹیب میں ڈیٹا انٹری کیا جارہا ہے یا نہیں کسی کو نہیں پتہ اگر صوبائی حکومت کو ڈیش بورڈ تک رسائی دی جاسکتی ہے تو دیگر منتخب نمائندوں اور عام عوام کو بھی ملنی چاہئے۔ اگر مردم شُماری صاف شفاف نہ ہوئی تو آنے والے انتخابات صاف شفاف کیسے کہلائیں گے؟ حلقہ بندیاں کیسے درست ہوسکیں گی؟ آج ہم پاکستان کے ریاستی اداروں جن میں افواج پاکستان اور عدلیہ شامل ہیں ان کو بھی اپنی ان تمام شکایتوں کا پلندہ بھیج رہے ہیں کیونکہ مردم شُماری قوم اور کراچی کے مستقبل کا معاملہ ہے ہمارے اجداد نے پاکستان اس لئے نہیں بنایا تھا کہ اسکی آبادی کو دبایا جائے۔

صوبائی حکومت مردم شُماری میں کراچی جیسے کو سمو پولیٹن شہر پر غیر قانونی قبضے کیلئے پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ مک مکا کرکے شہری سندھ کے ساتھ مردم شماری میں آدھی سے زیادہ آبادی کا اندراج نہ کرکے زیادتی کی مرتکب ہورہی ہے۔ مردم شُماری ہماری بقا کا مسئلہ ہے ہم پر امن احتجاج بھی کریں گے اور اس معاملے پر عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بھی جھنجوڑیں گے ہم وفاقی حکومت سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ جب ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا تو پھر ہمارا حکومت میں رہنے یا اسکا ساتھ دینے کا کیا جواز باقی رہتا ہے اگر ظلم کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی جلد اس پر فیصلہ کرے گی ہمارے وجود سے انکار کیا جارہا ہے ہمیں گننے اور پاکستانی ماننے سے انکار کیا جارہا ہے۔

ملک کے مقتدر حلقوں کو سوچنا ہوگا کہ پاکستان بنانے والوں کی اولادیں آخر کب تک قربانیاں دیتی رہیں گی ہم آج کی پریس کانفرنس کے ذریعے سے چیف آف آرمی سٹاف، چیف جسٹس آف پاکستان وزیراعظم پاکستان کے سامنے اپنے تحفظات رکھ رہے ہیں پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو دیوار سے لگانا بند کیا جائے ہمیں بتایا جائے کہ ہم کتنا صبر کریں مگر صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے پچھلے پانچ روز سے “مردم شُماری ہماری ریڈ لائن” سوشل پر مسلسل ٹاپ ٹرینڈ بناہوا ہے جس پر ایم کیو ایم پاکستان کی سوشل میڈیا ٹیم اور کراچی کے شہریوں کو سوشل میڈیا پر اپنی آواز بلند کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر اراکینِ رابطہ کمیٹی زاہد منصوری، سید حفیظ الدین اور و دیگر بھی موجود تھے۔

Comments
Loading...